اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ! ڈاکٹر ظفر حسین تسکین ؒ کا سانحہ ارتحال


تحریر : پروفیسر ریاض احمد قادری

18 مئی 2021 منگل کا دن فیصل آباد کے لئے ایک اور اداس اور غمگین دن تھا جب ممتاز ڈاکٹر، ادیب، شاعر نقاد، محقق، دانش ور اور خطیب و ذاکر جناب ڈاکٹر ظفر حسین تسکینؒ کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی ۔ اہل ِ شعرو ادب اور محبانِ اہلِ بیت ؑ کے لئے یہ ایک سانحہ جانکاہ تھا۔ یہ ایک بہت بڑے صدمے کی خبر تھی۔ ان کا انتقال شہر کے لئے بہت بڑے ادبی و علمی نقصان کا باعث ہے ۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی شہر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔

وہ ایک بہت عظیم انسان تھے۔ 1974 تا 1976 گورنمنٹ کالج سمن آباد فیصل آباد میں ایف ایس سی کے طالب علم رہے۔ وہ اس کالج کی انجمن سابق طلبہ ( ایلومینائی ) کے ممتاز عہدہ دار تھے۔ کالج میں ایلومینائی کے جتنے اجلاس ہوئے وہ سب میں کشاں کشاں شریک ہوئے۔ 1977 میں ان کا داخلہ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں ہو گیا جہاں وہ 1982 میں کالج کی تمام علمی و ادبی صحافتی مجلہ جاتی سرگرمیوں کے محور رہے ۔ وہ کالج میگزین پرواز کے ایڈیٹر بنے اور اسے ایک مکمل علمی و ادبی مجلہ بنا دیا ۔ یہاں وہ ڈاکٹر وحید احمد کے کلاس فیلو تھے ۔قدرت نے بعد میں انہیں اسی کالج میں لیکچرر تعینات کروا دیا وہ پھر تاوقتِ ریٹائرمنٹ کالج کی تمام علمی و ادبی سرگرمیوں کے روحِ روان رہے اور نسلِ نو کو رہنمائی فراہم کرتے رہے ۔ وہ سراپا ادب تھے۔

شہر کی تمام علمی و ادبی تنظیموں سے وابستہ تھے۔ کسی گروپ بندی اور دھڑے بندی کا شکار نہیں ہوئے ۔ کائناتی اکیڈمی کے ممبر اور پھر اس کے سیکرٹری بھی بنے۔حلقہ ارباب ذوق کے ممبر تھے۔ آجکل ادبی مجلی سخن نکال رہے تھے تین شمارے نکال چکے تھے۔ ادبی تنظیم سخن کے روحِ رواں تھے ۔ وہ ایک انتہائی ہنس مکھ شخصیت تھے۔ ان کے چہرتے پر ہر وقت ایک مسکراہٹ رہتی تھی۔ ہر کسی کو انتہائی خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ انتہائی عاجز اور مٹے ہوئے انسان تھے۔ نہایت با اخلاق اور عمدہ روایات کے حامل تھے۔ اہلِ بیت ؑ کے عاشق تھے ۔ ذکرِ اہلِ بیت ؑ نہایت محبت اور عقیدت و احترام سے کرتے تھے۔ وہ انتہائی خوش گلو نعت خواں بھی تھے۔ ترنم سے اپنی لکھی ہوئی نعتیں پڑھتے تھے اور محفل پر وجد طاری کر دیتے تھے۔ شعور ٹی وی پر بہت دفعہ نعتیں پڑھ چکے تھے۔ وہ ” شعورِ صحت ” پروگرام کے میزبان اور اینکر پرسن تھے۔ بہت سے پروگرام اس سلسلہ میں پیش کر چکے تھے۔

جناب ڈاکٹر ظفر حسین تسکین علمِ لدنی سے مالا مال شخصیت تھے۔ انہیں قدرت نے علومِ باطنی و ظاہری سے نوازا تھا۔ وہ ایک سوشل ورکر تھے انسانی فلا ح و بہبود کے بہت سے کام کئے۔ کتنی ہی فری ڈسپنسریوں میں وہ معالج اعلیٰ کے فرائض سرانجام دے چکے تھے۔ ڈاکٹری کے شعبہ میں پورا وطن ان کے تلامذہ سے بھرا پڑا ہے۔ ان کے صدائے محبت آج بھی امام بارگاہوں میں گونجتی ہوئی سنائی دیتی ہے ۔ وہ ایک عالمِ باعمل تھے۔ مہمان نوازی ان کا خاص وصف تھا۔ ادبی تنظیموں کی سرپرستی ان کی سرشت تھی۔وہ ایک عرصہ سے صاحبِ فراش تھے۔ لیکن اپنی بیماری کا سامنا انہوں نے نہایت صبر و استقامت سے کیا اور با لاآخر 18 مئی بروز منگل 6 شوال المکرم 1442 ھ ان کی رخصتی کا دن آگیا اور وہ سب کو اداس اور روتا چھوڑ کر راہی ءَ ملکِ عدم ہو گئے انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی بخشش و مغفرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

ڈاکٹر ظفر حسین تسکینؒ
(متوفی : 18 مئی 2021)

منظوم خراج تحسین

قلوب و ذہن پر فن کی سخا تسکین سے تھی
بلند آہنگ بے بس کی نوا تسکین سے تھی

گلِ سرسبد تھا شعرو سخن کے گلستاں کا
معطر شہر کی آب و ہوا تسکین سے تھی

اسی کے فکر و فن سے روشنی تھی انجمن میں
وطن کی نوربرساتی فضا تسکین سے تھی

سخن کی رونقیں تھیں سب کی سب ہی اس کے دم سے
حروف و صوت میں دلکش صدا تسکین سے تھی

وہی تھا جان و روح و دل کی اک تسکین ٹھہرا
دلوں میں صدق و الفت کیا ادا تسکین سے تھی

چمن میں رنگ و بوئے گلستاں کی تھا سکینت
چٹکتی پھول کلیوں میں صبا تسکین سے تھی

خطیبِ بے بدل ، عالم ، محقق اور شاعر
ہمہ جہتی کی ہر سالم عطا تسکین سے تھی

بہت اخلاق سے وہ ہر کسی سے پیش آتے
زمانے میں بسی طرزِ وفا تسکین سے تھی

معالج تھا ریاض احمد مریضانِ وفا کا
میسر یوں مریضوں کو شفا تسکین سے تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں