لارڈز آف رنگ روڈ! …………… غریدہ فاروقی کے قلم سے

پچھلے کچھ دنوں میں اس سکینڈل کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا بہت کچھ بولا گیا لیکن جتنا سامنے آیا ہے وہ پسِ منظر ہونے والے گھپلے اور کرپشن گھوٹالے کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرے برابر بھی نہیں۔ جتنا آپ اس سکینڈل کی تفصیلات میں جاتے ہیں حواس باختہ ہوجاتے ہیں کہ پاکستان میں بڑے بڑے لوگ کتنی بڑی بڑی جعلسازیاں اور فراڈ کس قدر آسان اور بغیر کسی خوف کے انجام دیتے ہیں اور کبھی پکڑ میں نہیں آتے۔ آپ صرف اِسی ایک رنگ روڈ راولپنڈی کے سکینڈل کو سٹڈی کر لیں آپ کو پاکستان میں کرپشن کے گٹھ جوڑ کا اندازہ ہو جائے گا۔

سیاست دانوں، بڑے چھوٹے سرکاری افسروں، اہلکاروں، ماتحتوں، بیوروکریسی، حکومتی عہدے داروں، جرنیلوں کے تعاون اور ملی بھگت سے کس طرح قلیل عرصے میں غریب عوام کی جیب سے ان کی سالوں کی حق حلال خون پسینے کی کمائی بٹور لی گئی اور اس اربوں کے پیسے کا درست اور سچا احتساب ہونا نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف غریب کی کمائی لوٹ لی گئی، دوسری طرف عوام ہی کے ٹیکس کے پیسے کی چوری جو اِس توسیعی منصوبے کے تکمیل تک پہنچ جانے کی صورت میں کی جاتی، یعنی چوروں کے لیے چوپڑیاں اور وہ بھی دو دو۔ اس سکینڈل کی ڈھولکی تو پہلے ہلکے ہلکے بجنا شروع ہوئی، وزیراعظم آفس سے بھی آہستے آہستے خبریں ’ذرائع‘ بنا اور بتا کر لیک کی جانے لگیں اور پھر یکدم ڈھول کا پول کھل گیا۔

مزے دار بات یہ ہے کہ اس خوف ناک سکینڈل کی لوٹ مار اور اِس لوٹ مار کو لیک کروانے والے چند بینیفشریوں نے اپنی اپنی مرضی منشا اور فائدے کے حساب سے تول مول کے صحافیوں کو خبریں پہنچائیں اور لکھوائیں تاکہ اپنے اپنے مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے اور مخالفین کو زَک پہچائی جا سکے۔ اب یہ بات تو کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اِس سکینڈل کے ’وِسل بلوور‘ (whistle blower) وزیراعظم آفس کے طاقت ور مشیر شہزاد اکبر ہیں لیکن زلفی بخاری اور غلام سرور خان سے ایسی کیا چپقلش ہوگئی کہ ایک تیر سے دو شکار کی گہری پلاننگ کی گئی۔ وجوہات سادی سی ہیں جن کی تفصیلات تو گھمبیر ہیں مگر بنیادیں بڑی آسان فہم۔ وہی جو اقتدار کی غلام گردشوں میں پلتے بڑھتے سایوں کی ازل سے داستانیں ہیں۔

طاقت کی کھینچا تانی، اثر و رسوخ کا جائز ناجائز استعمال، بادشاہ کو مُٹھی میں لینے کی سازشیں، پیسوں کا لین دین اور کچھ جائیدادوں زمینوں کے تنازعات۔ اُڑتی اُڑتی ایک خبر تو یہ بھی کانوں کو لگی کہ شہزاد اکبر کی سینیٹ کی ٹکٹ کی راہ میں زلفی بخاری حائل ہوگئے۔ رہ گئے وفاقی وزیر غلام سرور خان تو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نووا سٹی میں ان کے کنکشن براستہ صاحبزادے منصور حیات خان (ایم این اے) تو سامنے آہی گئے ہیں۔ دوسرا ان کے بھتیجے (صدیق خان کے صاحبزادے) عمار صدیق خان (ایم این اے) بھی نووا سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ منسلک ہیں۔ ماسٹر نثار نامی ایک بے نامی دار کے ذریعے مبینہ طور پر غلام سرور خان کی طرف سے نووا سٹی کو بھاری رقوم ادا کی گئیں۔ یہ ماسٹر نثار صرف وفاقی وزیر کا فرنٹ مین ہی نہیں ان کے پولیٹیکل سیکرٹری کے طور پر بھی سامنے آتے ہیں۔ اس سکینڈل میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کے ساتھ زمینوں کے لین دین میں پی ٹی آئی راولپنڈی کینٹ کے ایک عہدے دار محبوب کا نام بھی سامنے آتا ہے جو پنڈی کے بڑے ٹرانسپورٹر بھی ہیں۔

مختلف افراد، بے نامی داروں، فرنٹ مینوں کے ذریعے اس قدر گنجلک اور باریک کام کیا گیا ہے کہ کوئی سِرا ہاتھ آنا مشکل ہے۔ جب حکومت یہاں تک کہ وزیراعظم خود ملوث ملزمان کو کلین چٹ دینے لگیں تو وہاں انصاف کی کیا توقع اور قانون کی بالادستی کسی جنونی مجنون کا خواب لگتا ہے۔ ایک ریٹائرڈ جنرل سلیم اسحاق پر بھی رنگ روڈ سکینڈل کے بینیفشری ہونے کا الزام ہے۔ ان کے مطابق بھی نقشے میں توسیع کے دوران ان کی تین ہزار 200 کنال زمین میں سے 70 کنال زمین رنگ روڈ توسیع کے لیے حکومت نے خریدلی مگر انہیں دو لاکھ 90 ہزار روپے فی کنال ادائیگی کی گئی جبکہ غلام سرور خان کو 13 سے 15 لاکھ روپے فی کنال میں سرکاری طور پر خرید کر تہرا فائدہ پہنچایا گیا۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف ایک وفاقی وزیر نے اِس سکینڈل میں صرف چند ماہ کے عرصے میں مبینہ طور پر کتنا پیسہ کمایا اور ابھی یہ رنگ روڈ تعمیر تک نہیں ہوئی۔ حکومت تو خوشی کے ڈھول پیٹ رہی ہے اور کریڈیٹ کے طور پر فخریہ بتاتی ہے کہ اس نے محض دو ارب روپے کی چوری پر ہی یہ سکینڈل پکڑ لیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو کئی اربوں کا چونا لگ چکا ہے۔ رپورٹ پڑھیں تو وہ بتاتی ہیں کہ رنگ روڈ توسیع کے منصوبے میں آنے والی صرف ایک تحصیل فتح جنگ کے صرف ایک موضع میں بکنے والی فائلوں کے عوض آٹھ ارب روپے کمائے گئے اور یہ آٹھ ارب روپے کی خطیر رقم صرف بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے ٹریس ہوئی ہیں۔

غیر قانونی طور پر اِس مکمل منصوبے میں کتنے اربوں کا لین دین ہوا؟ اس کا کوئی حساب نہیں۔ اب تک کی جو اطلاعات، خبریں اور آثار سامنے آ رہے ہیں ان کے مطابق زلفی بخاری اور غلام سرور خان اس سکینڈل کے مبینہ بینیفشری ہیں لیکن جب حکومت باضابطہ فارنزک آڈٹ یا آزادانہ ادارہ جاتی انکوائری سے قبل ہی اپنے پیٹی بھائیوں کو کلین چٹ دینا شروع کردے گی تو پھر کہاں کا انصاف۔ ستم ظریقی تو یہ بھی ہوئی کہ کرپشن کے پیسے بٹورنے کے ساتھ ساتھ رنگ روڈ توسیع کے ٹیکنیکل گراؤنڈز پر سی پیک جیسے قومی مفاد کے منصوبے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال سی پیک کا حقلہ انٹرچینج ہے جس سے محض چند کلو میٹر فاصلے پر ہی رنگ روڈ کا انٹرچینج بنایا جا رہا تھا جبکہ سٹینڈرڈ پروسیجر کے مطابق اس انٹرچینج کا فاصلہ 12 سے 15 کلو میٹر ہونا چاہیے تھا۔ اطلاع تو یہ ہے کہ سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچا کر یہ انٹرچینج محض اس لیے بنایا جا رہا تھا کیونکہ یہاں ایک بہت بڑے اور اثر و رسوخ رکھنے والے بزنس مین کی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جو اٹک اور حقلہ انٹرچینج کے درمیان سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کے لیے ہزاروں کنال زمین غیر قانونی طور پر کاغذات میں حاصل کی گئی، بے نامی داروں کے ذریعے ٹرانزیکشنز ہوئیں اور کاغذی زمین سے بھی زیادہ فائلیں بیچ کر اربوں روپے لوٹ لیے گئے ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں کئی بڑے بڑے لوگوں، سیاست دانوں، جرنیلوں، ججوں، بیوروکریسی، حکومتی عہدیداروں اور پولیس والوں کی سرمایہ کاری ہے اور گہرے اثر و رسوخ کی وجہ سے رنگ روڈ سکینڈل رپورٹ میں اس ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کو اس بات کی بھی تو کھوج لگانی چاہیے کہ من پسند اور دوستانہ تعلقات والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا نام اس رپورٹ میں آخر کیوں نہیں شامل کیا گیا اور یہ لوگ کن کے من پسند ہیں اور کیا فائدے حاصل وصول کیے جا رہے ہیں۔ عمران خان صاحب اِسی کی کھوج لگانا شروع کردیں تو کھُرا یہاں تک بھی پہنچ جائے گا کہ کب اور کیسے وزیراعظم آفس خود وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقت ور ہوگیا اور ان کے آس پاس بیٹھے لوگ ان کے مخلص اور بہی خواہ ہیں یا سازشی….؟

نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں