بابے اور ٹوبے……… تحریر، شفقت آللہ مشتاق

جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو گھنڈ اتر جاتے ہیں،”اوہلے لہہ” جاتے ہیں، چیزیں بے نقاب ہو جاتی ہیں،صحرا میں بسنے والوں کی تو آنکھیں بھی چندھیا جانے کا احتمال ہوتا ہے۔ دریا اور سمندر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کرہ ارض کی کیمسٹری بدلنے کا امکان بھی ہوتا ہے ہاں البتہ تیز ہوائیں دل والوں کی دلی کیفیت کو بدلنے کا موجب بنتی ہیں۔ بلاشبہ ادل بدل سے ہی تبدیلی کا تاثر ابھرتا ہے۔ پاگستان میں 1980 کی دہائی میں شہروں کے نام تبدیل کرنے کی ہوا چلی پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے لائلپور فیصل آباد اور منٹگمری ساہیوال بن گیا لیکن جب یہی ہوا ٹوبہ ٹیک سنگھ کی چٹان سے ٹکرائی تو اس کو اپنا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ شاید تبدیلی مرحلہ وار آتی ہے۔
یقیننا تبدیلی مرحلہ وار آتی ہے۔ یہی نظام فطرت ہے اور غیر فطری چیزوں کو ہمیشہ سے ہی مسترد کیا گیا ہے۔ بہر حال یہ سوال یقیننا دلچسپ ہے کہ ایسا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے معاملہ میں کیوں ہوا کیا لائلپور اور منٹگمری نے فطرت کے “کوٹھے” ڈھائے ہوئے تھے۔ میرا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے میں اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا اور میری طرح ہر شہری اس ضلع کو اسلام کا “جھگا” پہنانا چاہتا تھا جبکہ اس وقت کا ڈپٹی کمشنر جگا بن کر سامنے آیا اور ایک منجھے ہو ئے بیوروکریٹ کی طرح اپنی منوا گیا۔ اپنی منوانے کے لئےٹھوس دلائل کی ضرورت ہوتی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ کامیاب بیوروکریٹ اور کامیاب ادیب وہی ہو سکتا ہے جو لفظوں سے کھیلنا جانتا ہو۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تین لفظ ہیں اور تین کا عدد طاق ہے اور علم الاعداد جانے بغیر ہوا کا رخ نہیں موڑا جا سکتا۔ ہاں اس سلسلے میں کسی بابے سے مدد ضرور لی جا سکتی ہے اور مزے کی بات ہے اس معاملہ میں بھی بابا کام آیا۔ ڈپٹی کمشنر موصوف نے موقف اختیار کیا کہ ٹوبہ ایک کنواں تھا اور ٹیک سنگھ ایک بابا تھا۔ موجودہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک گزرگاہ تھی جو کہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع تھی۔ جب کبھی مزکورہ دونوں دریاؤں کے باسی سفر کرتے تو راستے میں ٹیک سنگھ ان کی پیاس بجھاتا اور یوں اس عمل سے وہ اپنے روح کی بھی پیاس بجھالیتا ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسانیت کی خدمت سے ہی روح سکون پاتی ہے۔ اور امر ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام نہیں بدلا جا سکتا۔ یوں ڈپٹی کمشنر جیت گیا اور عوام ہار گئے کاش اس غریب عوام کو کوئی بتائے کہ جذباتی فیصلوں کا یہی انجام ہوا کرتا ہے
میرا اصل پڑاؤ پیرمحل )ٹوبہ ٹیک سنگھ) ہے اور سفر زیست میں عارضی پڑاؤ کبیروالہ،خانیوال،فیصل آباد،سرگودھا، ساہیوال، لاہور اور حالیہ بہاولنگر رہا۔ اپریل 2021 تک میں ایک ہی ٹوبے اور ایک ہی با بے کو جانتا تھا۔ مئی میں جب گرمی بڑھی تو مجھے پتہ چلا کہ بہاولنگر کے ٹوبے کا بھی ایک بابا تھا اور جب مزید گرمی بڑھی تو مزید معلوم ہوا کہ راجستھان میں تو کئی ٹوبے اور کئی بابے تھے جن میں قابل ذکر میاں والا ٹوبہ اور سید والا ٹوبہ تھے۔ یوں مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ایک وقت تھا کہ انسانی زندگی کا سارا انحصار ٹوبوں اور بابوں پر تھا۔ اس مرحلے پر میرے دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی کہ میں بابا بن کر ٹوبہ بناؤں یا پھر بابا بن کر کسی ٹوبے پر بیٹھ جاؤں لیکن آج کل تو نام کے ٹوبے ملتے ہیں ویسے تو بابے بھی نام کے ہی ملتے ہیں ویسے بھی آج کل واٹر فلٹریشن پلانٹ کا دور ہے اور نام کمانے کا دور ہے۔ اس کے لئے ایک آدھ فلٹریشن پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے اور پھر میڈیا مینجمنٹ بہتر ہونی چاہیئے ۔پھر تو ہو جاو بہہ جا بہہ جا۔ بہہ جا بہہ جا پر ہی تو بابوں کے محل کی کہانی تھی۔ پہلے انسان کو بٹھا کر پانی پلاتے پھر لنگر کھلاتے جب بدن کی بھوک اور پیاس ختم ہو جاتی تو نظر سے روح کو کلی طور پر سیر کر دیتے یوں ایک نیا بابا تیار ہوجاتا۔ اس وقت کی خانقاہیں بابے تیار کرنے کی فیکٹریاں تھیں اور پھر مارکیٹ میں بابے بمعہ وارنٹی مہیا کئے جاتے تھے۔نظر کی فیکٹری کی مصنوعات اتنی قابل اعتماد ثابت ہوئیں کہ بیانیہ بن گیا کہ دنیا کا نظام تو دراصل بابے ہی چلاتے ہیں ظاہر میں تو پتلی تماشہ ہے۔
میں نے ایک دفعہ کسی کتاب میں پڑھا تھا۔ کتاب کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ کہ ایک مجھ جیسا شکی مزاج اور زود رنج طبیعت کا حامل شخص کسی بابے کے پاس چلا گیا اور دوران گفتگو بابے نے کہا کہ پتر اللہ کے حکم کے تابع کائنات کا نظام دراصل بابے ہی چلا رہے ہیں۔ ان دنوں دلی کے حالات بڑے ہی خراب تھے اور لوٹ مار عام تھی جس پر موصوف نے پوچھا کہ دلی کی مذکورہ صورت حال کے پیش نظر اس وقت بابے کدھر ہیں۔ بابا گویا ہوا کہ آج کل ڈیوٹی پر ایک ٹھنڈے مزاج کابابا مامور ہے اور وہ فلاں جگہ پر خربوزے بیچ رہا ہے موصوف موقعہ پر پہنچے اور میٹھے خربوزے کا مطالبہ کیا۔ انتہائی شائستگی سے جواب ملا ان خربوزوں میں سے چکھ کر لے لیں چکھنے پر کئی خربوزے خراب ہو گئے لیکن پسند نہ آئے البتہ رائے ضرور قائم ہو گئی کہ واقعی نرم مزاج آدمی ہے۔ چند ہی دن بعد دلی کے حالات بدلے۔ انتہائی سختی ہوگئی موصوف دوبارہ بابا کے حضورپیش ہوئے ۔ فرمان ہوا ڈیوٹی بدل گئی ہے اور نیا مکمل ایڈریس دیا گیا۔ جاؤ مل لو۔ آکے دیکھا ایک بابا ٹوبہ سے مٹی کے پیالوں میں پانی بھر بھر کے لوگوں کو پلا رہا تھا۔ عرض کی بابا پانی پینا ہے۔ کرخت لہجے میں جواب۔ کس نے روکا ہے پی لو۔ پینے والے نے ایک ہی گھونٹ بھر کر کہا کہ بابا پانی پھیکا ہے جواب میں زبردست طمانچہ اور آواز آئی سارے خربوزے والے سمجھ لئے ہیں۔ کمال ہے خربوزے بیچنے والے اور پانی پلانے والے بابوں میں بھی کوئی فرق ہوتا ہے۔ بابوں بابوں میں فرق۔ یقیننا چیز بیچنے اور مفت دینے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بھلا ہو ہارون طفیل ڈی ایف او بہاولنگر کا جس نے مجھے ہاکڑہ نہر اور اس سے متصل جنگل دکھایا اور وہاں میری کئی ٹوبوں والے بابوں سے تخیلاتی گفتگو ہوئی۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ کائنات کا عملی نظام واقعی بابے ہی چلا رہے ہیں ہاں روحانی نظام کے بارے میں صاحب بصیرت کی تلاش ضروری ہے۔ اور آج کل اتنا وقت کہاں ہے کہ بندہ بابوں کی تلاش میں دربدر ہو جائے۔آج میں نے بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس جانا تھا ٹوبوں اور بابوں پر لکھتے لکھتے چولستان پہنچ گیا۔ وہاں احمد سلیم چشتی اسسٹنٹ کمشنر فورٹ عباس نے چولستان کے بارے میں بتایا کہ متذکرہ بالا تحصیل میں اب بھی دو سو کے لگ بھگ ٹوبے ہیں اور پورے چولستان میں ٹوبوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ پھر میرے اس سوال پر کہ بابے کتنے ہیں۔ وہ خاموش ہوگئے۔ کاش بابے زندہ ہوتے تو ٹوبے بے آباد نہ ہوتے۔کچھ بابے تو خیر زندہ
ہونگے ہاں البتہ ٹوبوں سے دور بہت دور۔ آئیے ٹوبوں اور بابوں کا درمیانی فاصلہ کم کرتے ہیں۔ بقول راقم الحروف
آج میں نے سوچا ہے فاصلے مٹاتے ہیں
فاصلے مٹانے سے روگ بھول جاتے ہیں
آج شاید بابوں اور ٹوبوں کا دن ہے مزکورہ اسسٹنٹ کمشنر بھی چولستان میں ٹوبوں کو ہی اہم سمجھتے ہیں اور ان کو کس نے بتایا ہے کہ میرا آج کی تحریر کا موضوع بھی ٹوبے اور بابے ہی ہیں۔ کاش میں بابا بن جاؤں اور بابوں کی طرح ٹوبے بنا کر لوگوں میں فری پانی تقسیم کروں۔

ع۔مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر
شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں