کرونا ویکسین اور افواہیں……. تحریر، اورنگزیب اعوان

کورونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے. سائنسی طریقہ کے باوجود انسان خود کو اس وباء سے محفوظ نہ رکھ سکا. اس آسیب کی بدولت پوری دنیا میں دہشت کے بادل منڈلا رہے ہیں. تعلیم، تجارت، صحت، سیرو سیاحت سمیت تمام شعبہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں. اس وباء نے آنکھ جھپکتے ہی لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنا لیا. جس کے نتیجہ میں تمام ترقیاتی ممالک نے سر جوڑ کر اس وباء سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع کر دی. سب ممالک کے نزدیک تحفظ انسانیت اولین ترجیح ہے. دن رات کی تگ و دو کے بعد چین، امریکہ، برطانیہ اور روس نے اس وباء سے بچاؤ کی ویکسین تیار کر لی. جس کو دنیا بھر میں مختلف تجرباتی مراحل سے گزارا گیا ہے. مثبت نتائج برآمد ہونے پر عالمی ادارہ صحت نے ان ویکسینز کو استعمال کرنے کی اجازت دی. ترقی یافتہ ممالک میں نوے فیصد سے زائد لوگوں نے اس ویکسین کو لگوا لیا ہے. جس کی بدولت ان ممالک میں زندگی کی رونقیں لوٹنا شروع ہو گئی ہیں. مگر ترقی پذیر ممالک میں ویکسینیشن کی شرح انتہائی کم ہے. اس کی بنیادی وجہ ان ممالک میں تعلیم و شعور کی کمی ہے. جس کی بدولت ان ممالک میں کورونا ویکسین کے بارے میں مختلف قسم کی منفی و من گھڑت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں. عوام کم عقل اور ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ان افواہوں پر یقین کر رہی ہے . حیران کن بات تو یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ان افواہوں کی زد سے خودکو محفوظ نہیں رکھ پا رہے. اسی وجہ سے ان ممالک میں ویکسینیشن کروانے والے افراد کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے. پاکستان جو ترقی پذیر ملک ہے. کورونا وائرس کی بدولت اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے. اس کے باوجود موجودہ حکومت نے اپنے موجودہ وسائل سے بڑھ کر عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے دنیا بھر سے کورونا ویکسین درآمد کی ہے. تاکہ اپنے شہریوں کو اس وباء سے جلد از جلد نجات دلوائی جاسکے. مگر بدقسمتی سے کچھ افواہ ساز عناصر اس نیک مقصد کو بھی اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں. وہ عوام میں خوف وہراس کی فضا پیدا کر رہے ہیں. کہ اگر آپ نے کورونا ویکسین لگوا لی تو آپ کی صحت کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں. جبکہ حقیت میں ایسا کچھ نہیں. پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کو ان عناصر کی سرکوبی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا.

عوام کو کورونا ویکسین کی افادیت سے آگاہ کرنا ہوگا. تبھی ہم مطلوبہ اہداف حاصل کر پائے گے. اور اس آفت سے نجات حاصل کر پائے گے. حکومت کے اقدامات اور نیت پر کسی بھی قسم کا کوئی شک نہیں. اس نے اپنے وسائل کے مطابق بہت اچھے اقدامات کیے ہیں. مگر ان میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے. حکومت کی طرف سے کورونا ویکسینیشن کے لیے بنائے گئے سینٹرز پر عوام کا بے تحاشہ رش ہوتا ہے. کچھ لوگ رش دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں. اور ویکسینیشن کروائے بغیر ہی واپس لوٹ جاتے ہیں. اس کا ایک بہترین حل ہو سکتا ہے. حکومت کی جانب سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی غرض سے ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں. جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کی ویکسین دیتی ہیں. ان کے پاس اپنے اپنے علاقہ کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے. حکومت کو چاہیے کہ ان ٹیموں کو کورونا ویکسین کے لیے میدان میں لائے. اور ان کی مدد سے لوگوں کی دہلیز پر کورونا ویکسینیشن کی سہولت فراہم کرے. اس طریقہ کار کے تحت کم وقت میں زیادہ ویکسینیشن ہو گی. اور عوام کو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا ہو کر انتظار کی زحمت سے بھی چھٹکارا مل جائے گا . ملازمت پیشہ افراد پورا پورا دن لائنوں میں لگے نہیں رہ سکتے. پولیو ہیلتھ ورکرز کو اس نیک مقصد کے لیے میدان عمل میں لانا ہو گا. اس کے ساتھ ہی ساتھ حکومت وقت کو تمام صنعتی و تجارتی اداروں کو تنبیہہ کرنا ہوگی. کہ وہ اپنے اپنے ورکرز کی ویکسینیشن لازمی کروائے. ورنہ لیبر ڈیپارٹمنٹ ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا آغاز کرے گا. جب یہ ادارے اپنے اپنے ملازمین کی کورونا ویکسینیشن کروا لے گے تو نصف آبادی کو یہ سہولت مل جائے گی. اسی طرح سے تمام تعلیمی اداروں اور بورڈز کو بھی سختی سے کہا جائے کہ اپنے اپنے طالب علموں کی ویکسینیشن کروائے.

بورڈز کے امتحانات دینے کے لیے داخلہ فارم کے ساتھ کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ دینا بھی لازمی قرار دیا جائے. اسی طرح سے اس قوم کو کورونا ویکسین لگائی جا سکتی ہے. ورنہ یہ ویکسین ہرگز نہیں لگوائے گی. حکومت وقت کو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سے ماہرین صحت اور حکومتی نمائندوں کی مدد سے عوام کو اس ویکسین کی افادیت سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کرنا ہو گا. جب آبادی کا ایک بڑا حصہ ویکسینیشن کروا لے گے. تبھی ہم حقیقی زندگی کی رونقوں کی طرف لوٹ پائیں گے.عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جلد از جلد خود کو اور اپنے عزیزوں و اقارب کی ویکسینیشن کروانی چاہیے. حکومت وقت یہ سب کچھ عوام کی بہتری کے لئے ہی کر رہی ہے. اس میں اس کا اپنا کوئی مفاد نہیں. جتنی جلد عوام اس ویکسین کو لگوا لے گی. اتنی ہی جلدی ملکی معیشت، صنعت و دیگر کاروبار بڑھے پھولے گے. افواہ ساز عناصر سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے. کہ وہ اپنی افواہ ساز فیکٹری کو کچھ عرصہ کے لیے بند کر لے. کیونکہ یہ عوام کی جان و مال کا معاملہ ہے. اس کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے. بلکہ آگے بڑھ کر حکومت وقت کے ہاتھ مضبوط کرے. حکومت وقت کو عوام کی مشکلات اور شدید گرمی کے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے. ویکسینیشن کے عمل میں مزید سہولیات فراہم کرنی چاہیے. تاکہ عوام ذوق و شوق سے ویکسین لگوائے. یقینا آپ کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہے. اذیت دینا نہیں. زیادہ سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دیکر صنعتی، تجارتی، تعلیمی، سرکاری اداروں و گھروں میں لوگوں کی ویکسینیشن کی جائے. اس عمل میں حکومت کو کچھ مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا. مگر اس طرح سے سو فیصد نتائج برآمد ہو گے. اور بحیثیت قوم ہم اس وبا پر جلد از جلد قابو بھی پا لے گے. مختصر یہ کہ عوام اور حکومت کو مل جل کر اس وبا کا مقابلہ کرنا پڑے گا.

عوام کو یہ بات سمجھنی پڑے گی. کہ ویکسین سے لوگ نہیں مرے بلکہ کورونا وائرس سے اموات ہوئی ہیں. خدارا اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کا تحفظ کرے اور جلد از جلد کورونا ویکسین سنٹر پر جاکر ویکسینیشن کروائے. اسی میں آپ کی اور ملک کی بہتری ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں