بڑھتی تلخیاں………….. تحریر، اورنگزیب اعوان

جان لیوا گرمی کی شدت میں بے پناہ اضافہ کی بدولت سیاسی و سماجی تلخیاں بھی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہیں. تحمل و برداشت کا عنصر عملاً ناپید ہو چکا ہے. کوئی شخص بھی دوسرے شخص کے اظہار رائے کے حق کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا. ہر کوئی خود کو عقل کل سمجھ بیٹھا ہے. جس کے نتیجہ میں عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے. ایک طاقتور ملکی ادارے کی طرف سے ہر شعبہ زندگی میں بجا مداخلت کی وجہ سے بھی عدم توازن کا ماحول پیدا ہو چکا ہے. سیاست دان، عدلیہ، صحافی، صعنت کار سبھی اس ادارے سے تنگ نظر آتے ہیں. مگر ہر بار اس ادارے کی طرف سے جواز پیش کیا جاتا ہے. کہ ہم نے کچھ نہیں کیا.

حالیہ دنوں اسلام آباد کے ایک صحافی اسد طور پر اس کے گھر میں گھس کر وحشیانہ تشدد کیا گیا. جس کا الزام اس نے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں پر عائد کیا. ملک بھر کی صحافی تنظیموں نے اس واقع پر شدید احتجاج کیا. اسلام آباد میں صحافیوں کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے. حامد میر نے سخت ترین لہجہ میں اس ادارے کو وارننگ دی ہے کہ اگر اب آپ نے ہماری صحافی برادری کے ساتھ غنڈہ گردی کی. تو ہم لوگ آپ کے گھر کی باتوں کو عوام تک پہنچائے گے. جس پر ملک بھر میں حامد میر پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں. اس کے محب الوطن ہونے پر شک کی جا رہی ہے. صحافی برداری کے شدید احتجاج کرنے پر اس ایجنسی کے ذمہ داران نے وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات کرکے اپنا موقف پیش کیا. کہ ہمارا اس واقع سےدور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے. یہ ادارہ ہم سب پاکستانیوں کے لیے باعث فخر ہے. جب اس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشانات اٹھائے جاتے ہیں. تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے. حامد میر پر کراچی میں فائرنگ کی گئی تو اس کا الزام اسی ادارے پر لگایا گیا.

ابصار عالم پر وفاقی دارالحکومت میں فائرنگ کی گئی تو اس کی نشانات بھی اسی طرف گئے. اس سے قبل بزرگ صحافی عرفان صدیقی کو آدھی رات کے وقت گھر سے اٹھایا گیا. تو انہوں نے بھی اسی ادارے کی طرف انگلی اٹھائی. عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا میں اسی ادارے کو مرد الزام ٹھہرایا تھا. جس کے نتیجہ میں وہ آج تک کیسوں کا سامنا کر رہے ہیں. سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے خلاف جو جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی. اس پر میاں محمد نواز شریف نے الزام عائد کیا تھا. کہ اس ادارے کے افسران ججز پر دباؤ ڈال کر میرے خلاف فیصلہ کروا رہے ہیں. کراچی میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف اور ان کے خاوند کیپٹن صفدر اعوان کے کمرے میں زبردستی گھس کر ان کی تذلیل کی گئ. جس پر ملک بھر میں شور شرابہ برپا ہو گیا. بالخصوص سندھ حکومت نےاس پر بھر پور احتجاج کیا
کہ ہمارے مہمان کے ساتھ زیادتی کی گئ ہے. سندھ پولیس کے سربراہ نے اس واقع کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے. انکشاف کیا کہ مجھے گھر سے زبردستی اغواء کر کے یہ سب کچھ کروایا گیا ہے. اس میں ایک طاقت ور ادارہ ملوث ہے. جس پر آرمی چیف نے اس واقع کی غیر جانبدار تحقیقات کا وعدہ کیا.

تحقیقات کی روشنی میں اس ادارے کے افسران کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے. جس پر آرمی چیف نے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کا آغاز کیا. سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے الزامات بھی اسی ادارے پر عائد کیے کیے جاتے ہیں. یہ وہ چند واقعات ہیں . جن کی وجہ سے ہمارے اس ملکی ادارے کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. کاش ہمارے تمام آئینی ادارے اپنی طے کردہ آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا شروع کر دے. تو ہمارے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائے گے. یہ ملکی ادارہ ہماری جان و مال کی حفاظت کرتا ہے. اس لیے پاکستانی عوام اس کو دلوں جان سے چاہتی ہے. مگر اسے بھی دوسروں کے ہاتھوں کا آلہ کار بننے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے کہ کیا اس طرح سے اس کی عزت و وقار میں اضافہ ہو گا یا کمی. ہمارے تمام آئینی اداروں کے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے تلخیاں جنم لیتی ہیں. آئین پاکستان نے تمام اداروں کی حدود و قیود طے کی ہیں. مگر بدقسمتی آج تک ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا. ہمارے تمام آئینی اداروں کو آپس میں مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل ترتیب دے لینا چاہیے. جس کی بدولت کسی کی عزت نفس مجروح ہونے کا اندیشہ نہ رہے. ہر ادارہ خود کو دوسروں سے کم تر نہ سمجھے اور نہ ہی دوسروں کی آئینی حدود میں بے جا مداخلت کرے. ہماری حکومت اور اپوزیشن کو بھی تحمل و برداشت سے کام لینا چاہیے. جس کسی سیاسی جماعت کو حکومت سازی کا موقع مل جائے. اپوزیشن جماعتوں کو اس کو پورا موقع دینا چاہیے کہ وہ پانچ سال کے دوران اپنے آپ کو عوام کی امیدوں کے مطابق صحیح ثابت کرے. حکومت وقت کو بھی اپوزیشن جماعتوں کی رائے کو احترام دینا چاہیے. وہ اس کی دشمن نہیں ہوتیں. وہ صرف اور صرف ملکی مفاد پر بولتی ہے. مگر حکومت وقت ان کی ہر بات کو ذاتی ایجنڈہ قرار دے دیتی ہے. ہمارا ملک تو گرم ترین خطہ میں واقع ہےہی مگر ہماری عوام اور حکمران شاید کچھ زیادہ ہی گرم طبیعت ہیں. جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے موقف کو سننے اور برداشت کرنے کو تیار نہیں. ہر کوئی خود کو درست ثابت کرنے کے چکر میں مصروف عمل ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں بحیثیت قوم توفیق دے کے ہم ایک دوسرے کی اظہار رائے کا احترام کرنا سیکھ لیں. تبھی ہم ترقی کی منازل طے کر پائے گے.

آنگنوں کے درمیاں دیوار جو اٹھ جائے گی.
دھوپ میں اپنا کوئی باہر کھڑا رہ جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں