ابلاغ کا تقاضے! …………………. تحریر،شفقت اللہ مشتاق

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بازار میں جانے سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بازار کے اتار چڑھاؤ کا پتہ چلتا ہے۔ مڈھ بھیڑ میں بندے کا دم بھی گھٹ سکتا ہے۔ کسی کی کسی سے بھی آنکھیں دوچار ہو سکتی ہیں، دو چار دھکے لگنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا، آوارہ گردی کا پولیس اول تو پرچہ بھی دے سکتی ہے نہیں تو کم از کم کچھ دے دلا کر جان بھی چھڑائی جا سکتی ہے، ہمارے کلچر میں عزت کا بڑا رولا ہوتا ہے اور سر بازار عزت بھی جا سکتی ہے اور سر بازار عزت نچانے کے واقعات سے تو پنجابی فلموں کی کہانیاں بھری پڑی ہیں۔ اور سب سے اہم بات ہے کہ بازار میں جانے سے اکثر بندہ بازاری بھی ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنے لئے یا دوسروں کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے البتہ اس کو بازاری زبان کا سہارا ضرور لینا پڑتا ہے اس ساری کہانی میں بسا اوقات اس کو لینے کے دینے بھی پڑجاتے ہیں اب یہ اس پر ہے کہ اسکی مینیجمینٹ کیسی ہے۔ اس ساری کہانی میں حیا جیسی چیز کو طاق نسیاں کی زینت بنانا پڑتا ہے۔ بلے بلے کروانے کے لئے اکثر بلے کھانا پڑتے ہیں۔ ویسے کھانے کی چیزوں میں بھی اللہ نے بڑی ورائٹی رکھی ہے۔ دھکے کھانے والے لوگ امر ہو جاتے ہیں اور گالیاں دینے والے لوگ بازاری ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے لوگ ان کی زبان کو بازاری زبان کہتے ہیں
مذکورہ بالاسطور میں میں نے پنجابی فلموں کا ذکر کیا ہے۔ ایک دفعہ ایک مصلی سلطان راہی کی فلم دیکھ کر آیا اور اس نے واپسی پر بازار سے ایک پستول خریدا۔ بازار کا بھی اپنا بازاری رنگ تھا اس سے آپ پستول کی وارئٹی کا خود بخود اندازہ لگا سکتے ہیں بہرحال واپسی پر آتے ہی اس نے یہ پستول اپنے علاقے کے جاگیر دار پر تان کر کہا کہ “جاگیردارا اج تیرا آخری دن اے” اور پھر ٹریگر دبا دیا پستول نے بھی بازاری رنگ دکھایا جاگیر دار چند لمحوں کے لئے دبا اور پھر مصلی کا اپنا آخری دن آگیا۔ اس واقعہ کے بعد میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر مصلی بازاری زبان استعمال نہ کرتا اور وہی مصلی آکر مصلے پر بیٹھ جاتا تو شاید مسلم قوم کا شیخ بن جاتا اور مذکورہ جاگیردار ننگے پاوں اسکے حضور پیش ہو کر اپنے وارث جاگیردار کی بھیک مانگتا۔

بہتر پلاننگ سے سانپ بھی مر جاتا ہے اور لٹھ بھی بچ جاتی ہے۔ لیکن اس کے لئے ہوش کی ضرورت ہوتی ہے جوش سے تو محض پگڑیاں اچھالی جاسکتی ہیں اور معاشرے میں ہیجان اور افراتفری کی کیفیت پیدا کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کا اندازہ اس ملک کے ماحول سے لگایا جا سکتا ہے۔ اور ماحول بنانے میں عصر حاضر میں میڈیا کابڑا عمل دخل ہے۔ معاملات میں پختگی آنے میں وقت لگتا ہے اور اگر آپ کا دشمن تگڑا ہو تو پھر تو بہت ہی وقت لگتا ہے۔ زبان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے لہذا اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے۔ اس سلسلہ میں احساس ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرنے والے بالآخر رسوا ہی ہوتے ہیں بے شک ان کا تعلق مذہبی قیادت سے ہی کیوں نہ ہو یہی وجہ تو ہے کہ قوم علوم کے وارث مولویوں سے مکمل طور پر مایوس ہو چکی ہے حالانکہ ایک وقت تھا جب مولوی رومی پیر رومی بن جاتا تھا اور مولوی عبد الرحمن شیخ طریقت کا رتبہ پا جاتا تھا۔ اس قسم کی مثالوں سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن یہ ساری کتابیں بعد کے مولویوں نے ہی متنازعہ بنا دی ہیں۔ کاش زبان کے استعمال میں احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا تو آج لوگ مولویوں کے نام پر استغفار نہ پڑھتے۔

خیر رہی سہی کسر اب میڈیا نے نکال دی ہے۔ یقیننا بات کھل کے کرنی چاہئیے۔ دل کی بھڑاس نکالنی چاہئیے، گفت وشنید سے مسائل کا حل نکلتا ہے، برائی کے خلاف آواز اٹھانا چاہئیے۔ یہ وہ بیانیے ہیں جن کا تعلق بات کرنے سے ہے۔ لیکن بات کرنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں خواہ جگہ، ٹھکانہ،مقام یا فورم کوئی بھی ہو۔ بات بات کا فرق ہوتا ہے۔ بعض باتوں پر خاموشی بھی بات کرنے کے ہی مترادف ہوتی ہے۔ بات کی نوعیت جانے بغیر بات کرنا ویسے تو جہالت ہے ہاں آج کل بازاری رنگ نے ہر بات کو اپنی لپیٹ میں لے کر اخلاقیات کی صف کو مکمل طور پر لپیٹ دیا ہے۔ بازاری رنگ بلیک میلنگ کی دوسری شکل ہے۔ “کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے” اصل صحافت ہے اور تنقید کے تلخ شربت میں طنزومزاح کا ماکھی ملا کر ہر کہ ومہ کو پلا دینا اصل ادب ہے اور ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ محبت کا پیغام عام کرنا مقصود علم و حکمت ہے۔ نفرت پھیلانا، پگڑیاں اچھالنا۔ حساسیت اور عامیت میں فرق نہ کرنا۔غیروں کے ہاتھوں میں کھیلنا اور اپنے ہی منہ پر تھوکنا شروع کردینا۔ ادب آداب کو بالائے طاق رکھ کر اپنوں ہی کی عزت کو تارتار کردینا۔ بہرحال یہ سارا کچھ جہالت تو ہو سکتا ہے صحافت نہیں۔ علم کی کوئی حد نہیں اور علم اگر تن کی منفعت کے لئے حاصل کیا جاتا ہے تو بقول شیخ سعدی یہ سانپ ہے اور سانپ سے خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ اور اگر یہ دل کی صفائی اور ستھرائی کے لئے حاصل کیا جائے تو اس سے شر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

مختصرا علم بحر بیکراں ہے اور اس کے نتیجے میں بات کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہم سب پر ایک قرض ہے اور وہ قرض ہمیں چکانا ہے۔ اس کے لئے جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے۔ ہمارا ملک، ہمارے کھیت کھلیان،ہماری سونا اگلتی صنعتیں، ہمارا مذہب ہمارے لوگ، ہمارے ادارے وغیرہ وغیرہ سب ہمارے ہیں۔ ہم ہی نے ان کی دنیائے عالم میں مارکیٹنگ کرنا ہے۔ اس بات کا ہمیں شعور ہونا چاہئیے اور شعور پیدا کرنے میں میڈیا کا ایک اہم کردار ہے لیکن وہ اپنے اس کردار کو کما حقہ ادا تب ہی کر سکتا ہے اگر اس میں باشعور اور باکردار لوگ بیٹھے ہوں۔ بات کا بتنگڑ بنانا یا ہر بات کو بازاری رنگ دینا اپنی ساکھ خراب کرنے کے برابر ہے۔ یقیننا چند دن تو بازار میں چیزیں چل جاتی ہیں لیکن بالآخر ان کی اصلیت کھل جاتی ہے اور یوں ساری کی ساری بات کھل جاتی ہے اور ساری عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ اثبات کو دوام ہے۔ اس حقیقت کو ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے۔ میڈیا اب ریاست کا ایک اہم ستون بن چکا ہے اور ریاست کے کئی ستون ہیں ان سارے ستونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کے قواعد و ضوابط طے ہو جانے چاہیئیں تاکہ کسی بھی شخص کی غیر ذمہ دارانہ بے سرو پاگفتگو یا تحریر سے کسی بھی شخصیت، ادارے یا ملک وقوم کی بے جا تضحیک نہ ہو۔اور کوئی بھی کسی اہم ادارے میں بیٹھ کر کسی غیر کا آلہ کار نہ بن سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں