معاشی خوشحالی صرف برآمدی ترقی سے ہی ممکن ،ٹیکسٹائل صنعت پر توجہ مرکوز، فیض اللہ کموکا

فیصل آباد ، کامرس ڈیسک

چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ فیض اﷲ کموکا نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت معیشت کی بنیاد ہے اور اسکی ترقی کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ معاشی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کیلئے برآمدی صنعتوں کو تمام ضروری وسائل مہیا کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ معاشی خوشحالی صرف برآمدی ترقی سے ہی ممکن ہے۔انھوں نے یہ بات پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں ممبران سے خطاب میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کے وژن کی تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔حکومت وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں برآمدی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک سے مسابقت کے حصول کیلئے ٹیکسٹائل کی صنعت پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ برآمدی صنعتوں کو سپیشل ٹیرف پر بجلی و گیس فراہم کی جا رہی ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کا حصول ممکن ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔حکومت ایکسپورٹرز کے مسائل کے فوری حل میں دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ برآمدات کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ناگزیر ہے۔حکومت بیرونی سرمایہ کاری کے حصول اور صنعتی ترقی کے وژن پربھی کاربند ہے ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ صنعتی ترقی کا عمل تیزکرنے اور ملک کو خطے کی معاشی قوت بنانے کیلئے ہر شعبہ اپنا کردار ادا کریگا۔ انھوں نے وزیراعظم پاکستان کے معاشی خوشحالی کے وژن کی تکمیل کیلئے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کی کاوشوں کو سراہا ۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے اپنے خطاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو معیشت کا نیادی ستون قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ آٹھ ماہ پیشتر اسی پی ٹی ای اے کے فورم سے انھوں نے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی تیز تر پروسیسنگ کیلئے خودکار فاسٹر پلس سسٹم کو لانچ کیا تھا کو کہ آج بخوبی چل رہا ہے۔ فاسٹر پلس سسٹم کے نفاذ سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو ری فنڈز کی تیز تر پروسیسنگ میسر آئی اور اوسطاً 40 سے 50 گھنٹے میں ریفنڈ کی وصولی ہورہی ہے۔انھوں نے واضع کیا کہ اس وقت موجودہ سیلز ٹیکس ری فنڈز میں کوئی کیس زیر التوا نہیں جبکہ پرانے ریفنڈز کی ادائیگی کیلئے فنڈز کی دستیابی کیلئے سمر وزارت خزانہ کو بھیجی جا چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ کمرشل ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس تھریش ہولڈ کا دیرینہ مسئلہ حل کیا جا چکا ہے اور تھریش ہولڈ کو 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے جس کا اطلاق یکم جولائی 2020 سے ہو گا جبکہ مینوفیکچررز کے تھریش ہولڈ کو بھی اسی سطح پر لانے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے جسکا باقاعدہ نوٹیفیکیشن اگلے ہفتے جاری کر دیا جائے گا۔

س موقع پرپاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد احمدنے صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے کئے گئے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے مثالی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔صنعتی پہیہ پوری روانی سے چل چکا ہے اور صنعتی عمل میں بھی بھرپور تیزی آئی ہے۔انھوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کیلئے توانائی پیکج سمیت مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ ، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور سبسڈائزڈ ریٹ پر LTFF اور TERF کی فراہمی سے جہاں صنعتی و پیداواری عمل میں تیزی آئی ہے وہیں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

پی ٹی ای اے کے پیٹرن انچیف خرم مختار نے کہا کہ ایکسپورٹرز کا اعتماد بھی بڑھنے سے ٹیکسٹائل ویلیو چین میں وسیع سرمایہ کاری ہوئی ہے اور تقریباً پچاس ہزار نئی جابز پیدا ہوئی ہیں انھوں نے چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ فیض اﷲ کموکا کی ٹیکسٹائل کی صنعت کے مسائل میں دلچسپی اور بھرپور تعاون پر انکا شکریہ ادا کیا ۔ انھوں نے ری فنڈ نظام کو خودکار کرنے اور ایکسپورٹرز کے پرانے ری فنڈز کی ادائیگی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل کے حل میں بھرپور سپورٹ پرچیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ فیض اﷲ کموکا کو ایسوسی ایشن کی تاحیات اعزازی ممبرشپ بھی دی گئی۔ تقریب میں ایکسپورٹرز کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں