حکومت پنجاب اور نئے تعلیمی اداروں کا قیام ! …………… تحریر ، عبدالقادر مشتاق

پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں صوبے میں پندرہ نئی سرکاری یونیورسٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جن میں بابا فرید یونیورسٹی، وارث شاہ یونیورسٹی سمیت پندرہ یونیورسٹیوں کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں یونیورسٹیوں کے قیام کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں جبکہ ہر یونیورسٹی کیلئے الگ الگ بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے۔ نئی سرکاری یونیورسٹیوں کیلئے 2300 ملین روپے بجٹ مختص کئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی آف تونسہ، بابا فرید یونیورسٹی پاکپتن، انجنیرنگ یونیورسٹی سیالکوٹ، یونیورسٹی آف حافظ آباد ، یونیورسٹی آف اٹک، یونیورسٹی آف بہاولنگر قائم کرنے کیلئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی آف لیہ، یونیورسٹی آف مظفر گڑھ، انڈس یونیورسٹی راجن پور، یونیورسٹی آف قصور اور وارث شاہ یونیورسٹی شیخوپورہ قائم کرنے کیلئے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف گجرانوالہ، یونیورسٹی آف کمالیہ اور تھل یونیورسٹی بھکر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے پر محقیقین کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ جو ادارے پہلے وجود میں آچکے ہیں ان کو مالی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہاں نہ تو عمارت ہے کہ جس کو کلاس روم کے طور پر استعمال کیا جا سکے اور نہ ہی طلبہ و طالبات کی راہنمائ کے لئے اساتذہ موجود ہیں ۔ ان حالات میں نئے ادارے قائم کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ ہمارے ایک صحافی دوست نعیم مسعود صاحب جو تعلیمی اداروں پر گہری نظر رکھتے ہیں انہوں نے اسے سیاسی یونیورسٹیاں قرار دیا۔ اور حکومتی فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ جھنگ یونیورسٹی میں ہماری ایک شاگردہ جو اب خود کامیاب معلمہ بن چکی ہے اس نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اداروں میں فنڈز نہ ہونے کی گلہ کر کے حکومت کے فیصلے کو رد کر دیا۔

میں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں 2003 سے نوکری کا آغاز کیا۔ اس وقت نہ تو نئے کلاس روم تھے اور نہ ہی مالی طور پر ادارہ مستحکم تھا۔ کالج کیڈر کے اساتذہ بھی نئی نویلی یونیورسٹی کے وجود کو قبول کرنے سے انکاری تھے۔ وہ ایسے ہی امید لگا کے بیٹھے تھے جیسے بھارت 1947 میں پاکستان کی ناکامی کو لازم و ملزوم سمجھ رہا تھا ۔ کبھی تو کو ایجوکیشن کے نقصانات پر بھرپور تقاریر کی جاتیں، کبھی وائس چانسلر کے کردار کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی۔ تاکہ وہ مایوس ہوکر واپس لاہور چلے جائیں ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ ادارہ بھی کبھی کامیاب ہوسکے گا۔ ان حالات میں قیادت کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ یا تو وہ قوم کو مایوسی کی طرف لے جاے یا پھر ایک نئی امید کے ساتھ ان کی زندگی میں رنگ بھر دے۔ 1947 میں پاکستان کے پاس بھی کچھ نہیں تھا۔ مسائل ہی مسائل تھے لیکن وقت کے ساتھ ملک اور عوام مستحکم ہوتے گئے ۔ بات ہو رہی تھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے ابتدائی ایام کی۔ اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف اقبال نے ہمت نہ ہاری اور نہ ہی مایوسی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے مخیر حضرات کے دروازے پر دستک دی اور ان کے تعاون سے ایک بہت بڑی عمارت یوسف بلاک تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

گورنمنٹ کا ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہوا۔ دوسری طرف کالج کیڈر کی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چند نوجوان اساتذہ بھرتی کر لیے جنھوں نے ادارے کو مضبوط کرنے کے لئے انتھک کوششیں کیں ۔ یونیورسٹی اور انڈسٹری کو ایک پیج پر لا کھڑا کیا ۔ ادبی محافل کا آغاز کیا۔ ادارے سے شدت پسندی کا خاتمہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آئے دن دھمکی ملنا رواج بن چکا تھا۔ اسلحہ کا طلبہ و طالبات کی سیاست میں استعمال فیشن تھا۔ اساتذہ طلبہ سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے اور وائس چانسلر پر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے کہ ان کے بغیر امن و امان ممکن نہیں ہے ۔ نئے تعلیمی پروگرام شروع کئے جس سے طلبہ و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوا اور فیسوں کی شکل میں یونیورسٹی کو ریونیو بھی آنا بھی شروع ہوا۔ ہر دور میں کسی نہ کسی مضمون کی اہمیت ہوتی ہے۔ ان دنوں میں ایم بی اے کا طوطی بولتا تھا۔ طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد اس پروگرام کا حصہ بن رہی تھی ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قیادت کا عوام کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے اور وہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے جرآت اور دلیری سے فیصلہ سازی کرتے ہیں ۔ جس سے نہ صرف ادارہ ترقی کرتا ہے بلکہ معاشرے کے اندر ترقی کا پہیہ زیادہ تیزی سے چلنے لگتا ہے۔

کسی بھی علاقے میں یونیورسٹی کے قیام سے وہاں کا کلچر ہی بدل جاتا ہے۔ لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔ بیروزگاری بھی بہت سی برائیاں کو جنم دیتی ہے۔ بیروزگار لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی کر لیتے ہیں، جرائم کی دنیا ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ جس سے ملک میں امن وامان ناپید ہو جاتا ہے اور جہاں امن نہ ہو وہاں تباہی و بربادی قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔ خوشحالی و ترقی رک جاتی ہے۔ اس لئے حکومتیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے پاس روپے پیسے کی ریل پیل ہو۔ اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوسکے۔ جس سے لوگوں کی ریاست کے ساتھ وابستگی بھی بڑھتی ہے اور ملک میں امن وامان بھی قائم رہتا ہے۔ امن و امن کی صورت میں ملک میں انسوسٹمنٹ بڑھتی ہے۔ جس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت دو شعبوں پر کام کرنے کئ اشد ضرورت ہے۔ اول شعبہ تعلیم، دوئم شعبہ صحت ۔ شعبہ تعلیم میں ہائر ایجوکیشن کی سطح پر اداروں میں طلبہ و طالبات کی تعداد زیادہ ہے اور اساتذہ کم۔ اس لیے teacher student ratio کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے یا پھر نئے ادارے قائم کئے جائیں تاکہ طلبہ و طالبات کا رش مختلف اداروں میں تقسیم ہو سکے۔ بہت سے طالب علم ایسے ہوتے ہیں جن کو سرکاری اداروں میں داخلہ نہیں مل سکتا اور وہ پرائویٹ اداروں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ان حالات میں پرائیویٹ اداروں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ آگر نئے تعلیمی ادارے بنا دئے جائیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پرائیویٹ اداروں کو ہو گا۔ اس لئے گورنمنٹ آف پنجاب کا نئے ادارے کھولنے کا اعلان ایجوکیشن مافیاز کو پسند نہیں آے گا اور اس کی بھرپور مخالفت بھی ہو گی۔ گورنمنٹ یونیورسٹیوں میں ایک دور میں distance learning کے تحت کئی پروگرام شروع کئے گئے تھے ۔ اس میں ہفتہ اتوار کو کلاسز کا انعقاد کیا جاتا تھا ۔ لوگ دور دراز سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے ۔ روزگار سے وابستہ لوگوں کے لئے بھی اچھے مواقع تھے کہ وہ اپنی ایجوکیشن مزید بہتر کر سکتے تھے ۔ لیکن اس کی اتنی مخالفت ہوی کہ آخر کار اس کو بند کرنا پڑا۔ وہ طلبہ و طالبات جنھوں نے پرائیویٹ اداروں کا رخ کرنا تھا وہ فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کر سکتے تھے ۔ لیکن مافیاز کے ہاتھوں مجبور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پروگرام ہی بند کر دیا۔

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نئے ادارے کھلنے پر خاموش رہیں ۔ میں اس بات پر وزیراعظم عمران خان سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ ملک مافیاز کی گرفت میں ہے۔ اور پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کے ویزن کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے تعلیم لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی ہے۔ اب عوام کو اپنے بچوں کو دور دراز کے علاقوں میں تعلیم کے لئے نہیں بھیجنا پڑے گا۔ جس سے تعلیم پر آنے والے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ جہاں تک معیاری تعلیم کا تعلق ہے تو معیار وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتا ہے۔ ایک دور تھا کہ لمز اور جی سی یونیورسٹی کا کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا تھا۔ آج رینکنگ میں دونوں برابر ہیں ۔ اداروں کو پنپنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لئے بڑھتی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ادارے بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس حوالے وزیر اعلی پنجاب کا پندرہ یونیورسٹیاں کھولنے کا اقدام پاکستان میں تعلیمی انقلاب لائے گا ۔ کیونکہ انقلاب ہمیشہ شعور سے آتے ہیں اور شعور تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لئے تعلیم کو عام کرنے کے لئے عوام کی دہلیز تک تعلیم کو پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ ان نئے اداروں کے قیام پر میں سردار عثمان بزدار کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید واثق ہوں کہ وہ مزید پنجاب کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں