متنازع قانون سازی! …………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

پارلیمنٹ آئینی اداروں میں سے ایک مقدس ترین ادارہ ہے. جو ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور عوام کو حق زندگی عطا کرنے کے لیے قوانین تشکیل دیتا ہے. پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کا بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں. کیونکہ دونوں نے عوام سے ووٹ لیے ہوتے ہیں. اور دونوں پر عوام کی حق نمائندگی کو بھوپور طریقہ سے ادا کرنا ان کے فرض منصبی میں شامل ہوتا ہے. مگر بدقسمتی سے ہمارے اراکین پارلیمنٹ ابھی سیاسی طور پر بالغ نہیں ہو سکیں. وہ اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچنے کو تیار نہیں. اور نہ ہی دوسرے کی رائے کو سننا پسند کرتے ہیں. کیا ہی اچھا ہو . کہ دونوں مل جل قانون سازی کرے. اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرے. حکومت اور اپوزیشن نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے قانون نہیں بنانا ہوتا. دونوں کا مقصد ملک وقوم کی بہتری ہوتا ہے. مگر انا پرستی اور خود نمائی کے چکر میں یہ لوگ اچھے سے اچھے قانون کو بھی متنازع بنا دیتے ہیں. گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو الیکشن میں حق رائے دہی دینے کے لیے انتہائی عجلت میں قانون پاس کیا گیا. جس پر اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا. کیا بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانی صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف ہی کے ووٹر و سپورٹر ہیں. ہر گز نہیں. بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں میں ہر سیاسی جماعت کے لوگ شامل ہیں. مگر پاکستان تحریک انصاف نے سارا کریڈٹ خود لینے کے چکر میں اپوزیشن سے اس پر بات چیت کرنا گوارا ہی نہیں کیا. اس قانون کو کوئی بھی ذی شعور انسان غلط نہیں کہہ سکتا. مگر طریقہ کار پر اختلاف اور تنقید کر سکتا ہے.

حکومت کو اس اچھے قانون کو تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہوئے. آئین میں درج طے شدہ طریقہ کار کے تحت پاس کرنا چاہیے تھا . تاکہ اسکی افادیت میں مزید اضافہ ہوتا. آئین پاکستان کی تشکیل میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے انتہائی سوچ و بچار کے بعد قانون سازی کے لیے ایک منظم طریقہ کار کو واضح کیا. اور انہیں لوگوں نے 1973 کے جمہوری آئین میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کے قانون کو پاس کیا. یہ فیصلہ انہوں نے بڑی سوچ بچار کے بعد کیا تھا. ان کی نظر میں جو شخص کسی غیر ملک کی شہریت حاصل کر لیتا ہے. اس کا مفاد بھی اس ملک کے مفاد کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے. اسے اپنے ملک کے مفادسے کوئی غرض نہیں رہتا . کیونکہ وہ کسی صورت بھی اس ملک کی شہریت کو چھوڑ کر اپنے ملک واپس نہیں آنا چاہتا . دوسرا نقطہ جو غیر ملکی شہریت کی صورت میں ذہن نشین رکھنا چاہیے. وہ یہ ہے. کہ دوہری شہریت کے لیے اس ملک کے آئین و قانون کو دل سے تسلیم کرنا اور اس پر عہد کرنا ہوتا ہے. کہ میں کسی صورت بھی اپنے ملک کے خلاف نہیں جاؤ گا. تو پھر ایسے لوگ پاکستان کے ساتھ کیسے مخلص ہو سکتے ہیں. جہنوں نے غیر ملکی آقاؤں کے ہاتھ پر بیعت کی ہوتی ہیں. یہ نقطہ انتہائی غور طلب ہے. ماضی میں موجودہ وزیراعظم عمران خان خود دوہری شہریت کے خلاف تھے. انہوں نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اقامہ رکھنے پر نااہل کروایا. خواجہ محمد آصف (سابق وفاقی وزیر) کو بھی غیرملکی اقامہ پر پابند و سلاسل کیا ہوا ہے.

پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیٹر اور پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی کو امریکہ کی شہریت رکھنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے نااہل کروایا گیا . آج یکایک ایسا کیا ماجرا رونما ہو گیا ہے. کہ وزیراعظم عمران خان کی سوچ یکسر تبدیل ہو گئ ہے. اور ان کی نظر میں دوہری شہریت کوئی بری بات نہیں. بلکہ دوہری شہریت تو ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ لانے کا بہترین ذریعہ ہے. دوہری شہریت تو ہر پاکستانی کو حاصل کرنی چاہیے. اگر وزیراعظم پاکستان کی اس منطق کو مان لیا جائے تو ماضی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اورکئی سینیئر ترین سیاست دانوں کو محض سفری دستاویزات اقامہ رکھنے پر نااہل کیا گیا. اور اس فعل میں آپ پیش پیش تھے. تو پھر ان سے کیا کیا جائے گا. کیا یہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی. دوہری شہریت والے کو پاکستان کے حالات کا اتنا ادراک نہیں ہوتا. اس لیے وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرتے وقت ان حالات کو قطعاً پیش نظر نہیں رکھے گا. جن حالات سے ایک پاکستانی دوچار ہوتا ہے. پیٹ بھرکے کھانے والے کو بھوکے انسان کی تکلیف اور اذیت کا احساس نہیں ہوتا. پارلیمنٹ میں ہر قسم کی قانون سازی کے لیے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں ہیں. جن کا کام ہر قانونی مسودہ پر مکمل غوروفکر کرنا ہوتا ہے. اور اس کی اچھائی اور برائی کو پرکھنا ہوتا ہے. تاکہ اس قانون میں کوئی سقم نہ رہ جائے. اس لیے پارلیمنٹ میں جب بھی کوئی مسودہ قانون آتا ہے. تو اس کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے. جو اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس کی نوک پلک درست کرکے اسے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیتی ہے. جو اس کو منظور شدہ ترامیم کے ساتھ قانون کی شکل میں ڈھال دیتی ہے. مگر گزشتہ روز قومی اسمبلی میں حکومت نے انتہائی عجلت میں بجٹ کا فائدہ لیتے ہوئے. متعدد قوانین کو ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری کرتے ہوئے. پاس کرایا. یہ نہیں کہا جاسکتا. کہ قانون غلط تھے. مگر اختیار کردہ طریقہ کار غلط ضرور تھا. کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر قانون سازی کرتے اور دوہری شہریت کے حامل افراد کو حق رائے دہی دینے کے لیے کوئی موثر طریقہ کار واضح کرتے . مگر حکومت وقت شاید بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی نظر میں اپوزیشن جماعتوں کو غلط ثابت کرنا چاہتی تھی. اس لیے اس نے عجلت اور کمال ہوشیاری سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے قانون کو پاس کروایا. جس پر اپوزیشن کو شدید تحفظات ہیں. جس کا اس نے کھل کر اظہار بھی کیا ہے. اب حکومت یہ واویلا کر رہی ہے. کہ ہم تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں. مگر اپوزیشن ایسا نہیں چاہتی.

وزیراعظم عمران خان آپ کی نیت پر کسی کو شک نہیں. مگر آپ کے طریقہ سیاست سے اختلاف ہے. آپ اپنے سیاسی مخالفین کو ساتھ لیکر چلنے کو تیار نہیں. جس کی بدولت آپ مشکلات کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں. سیاست اور زندگی میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی. انسان کو کچھ کام نہ چاہتے ہوئے بھی کرنا پڑتے ہیں. آپ اپنے رویہ کی بدولت اچھے سے اچھے کام اور قانون کو بھی متنازع بنا دیتے ہیں. آپ کے اسی جارحانہ رویہ کی بدولت قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا. اس کی تاریخ میں ڈھونڈنے سے بھی مثال نہیں ملتی. مگر آپ اور آپ کے ارکان اسمبلی کو اس پر کوئی ندامت نہیں . اس ساری لڑائی میں حکومت اور اپوزیشن کا کچھ نہیں گیا . دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے. تو ملک پاکستان کی ہوئی ہے. آپ کے رویہ کا خمیازہ اس ملک و قوم کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے. آپ کو اپنے رویہ کی بدولت ہی ناکام ترین وزیراعظم کا لقب ملا ہے. کامیاب لیڈر کو کامیاب اس لیے کہا جاتا ہے. کہ وہ اپنے سخت سے سخت سیاسی حریف کی بات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے. اور ان کی اچھی آراء کو اہمیت دیتا ہے . گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ پر خطاب کیا.جس پر حکومتی ارکان کی طرف سے شدید تنقید کی گئی . خدارا اپنے سیاسی مخالف کی آراء کو خندہ پیشانی سے سننے کا حوصلہ پیدا کرے. عوام کی عدالت سے مسترد شدہ لوگوں کو آپ نے اپنے ترجمان بنایا ہوا ہے. یہی آپ کے سب سے بڑے دشمن ہیں. ندیم افضل چن کیوں معاون خصوصی کے منصب سے مستعفی ہوا. کیونکہ وہ بہتان تراشی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا تھا. آپ کو اپنی طرز سیاست کو درست کرنے کی ضرورت ہے. جس دن آپ نے اپنی طرز سیاست کو درست کر لیا. آپ کی حکومت کامیابی سے ہمکنار ہو جائے گی. ورنہ آپ ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے گے.

نکلو جو کبھی ذات کے زنداں سے تو دیکھو.
آباد ہیں عبرت کے مقامات کہاں تک.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں