ہراسمنٹ بارے شکایت کرنیوالی خواتین ایف آئی اے سائبر کرائم سینٹر فیصل آباد میں خود ہراساں؟

فیصل آباد ، نیوز ڈیسک

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم فیصل آباد شکایت سنٹر پر آنیوالی ہراسگی کی شکار خواتین نے آفس عملہ
کیخلاف ہراساں کرنے کے الزاما ت لگادئیے ہیں جس کے بعد سائبر کرائم سیل کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا

تفصیل کے مطابق سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر فیصل آباد میں مختلف اقسام کے سوشل میڈیا ہراسمنٹ کا شکار ہونیوالی طالبات و خواتین قانونی کارروائی کیلئے رجوع کرتی ہیں تاکہ انکے ملزموں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے لیکن ایف آئی اے سائبر کرائم سنٹر میں حال ہی میں تعینات ہونیوالے نئے تفتیشی افسروں کی جانب سے ان خواتین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی طالبات نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر میں درخواست دائر کر رکھی ہے جسکی شنوائی کے سلسلے میں ان کو متعلقہ تفتیشی آفیسر کی طرف سے بلاوجہ طلب کرلیا جاتا ہے ،

انہوں نے بتایا سائبر کرائم سنٹر میں آنیوالی کئی لڑکیوں کو نوجوان لڑکوں پر مشتمل عملہ نہ صرف ہراساں کرتا ہے بلکہ اپنے موبائل نمبرز سے انکے موبائل فونز پر براہ راست رابطے کرکے تفتیشی امور پوچھ گچھ کی آڑ میں ملازمین بلاوجہ تنگ کرتے رہتے ہیں،

طالبات نے اعلیٰ وفاقی حکام سے مطالبہ کیا کہ سائبر کرائم سنٹر میں آنیوالی خواتین کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ان خواتین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرواتے ہوئے تفتیش خواتین انویسٹی گیشن آفیسرز کو مارک کی جائے-

اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم کا موقف ہے ایسا کچھ نہیں ہے یہ محض کسی نے غلط الزام لگایا ہے اگر کسی بھی خاتون کو کسی آفیسر سے شکایت ہے تو براہ راست درخواست دے ،سائل کو مکمل تحفظ اور ملوث اہلکار کیخلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں