پروفیسر عصمت اللہ خان ایک عہد ایک تاریخ! ………… تحریر ، ریاض احمد قادری

مت سہل اسے جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
یہ شعر پروفیسر عصمت اللہ خان ؒ پر سو فیصد پورا اترتا ہے جو شہر فیصل آباد کی ایک جیتی جاگتی تاریخ تھے۔گورنمنٹ کالج فیصل آباد کی پہچان تھےاور اسی کالج میں 38 سال تک تین نسلون کو پڑھانے والے واحد استاد تھے ۔ جو 9جولائی 2011 کو انتقال فرماگئے جو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وصال بھی ہے اور ظہیر قریشی ؒ کا بھی
کس کو ہے موت و زیست کے لمحے پہ اختیار
عزت کا مل گیا کبھی ذلت کا مل گیا
صدہدیہ تبریک اے عصمت کہ تجھ کو بھی
یوم وفات مادرِ ملت کا مل گیا ( ریاض قادری )
ان کی نمازِ جنازہ فیضانِ مدینہ میں ادا کی گئی
ہر چہرے پہ ہے رنج و الم حُزن کا غازہ
غم حضرتِ عظمت کا ہوا اور بھی تازہ
یوں شہرِ مدینہ سے ملی اس کو ہے نسبت
فیضانِ مدینہ میں تھا عصمت کا جنازہ ( ریاض احمد قادری )

ان کے وصال کے حوالے سے ان کے رفیق کار جناب پروفیسر محمد یعقوب مظہر گل نے کہا
مغفرت لکھ دے الٰہی عصمت اللہ کے لئے
بخش دے ساری خطائیں انت خیرالغافرین

فیصل آباد کی ادبی تاریخ پر ضخیم مقالہ لکھ کر گیریژن یونیورسٹی لاہور سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے دانش ور جناب ڈاکٹراظہار احمد گلزار نے ان کی وفات پر لکھا ” بے لوث محبت، بے باک صداقت، انسانی ہمدردی اور خؒلوص و مروت کا ایک یادگار عہد اپنے اختتام کو پہنچا ۔ علمی و ادبی تحقیق و تنقید کی درخشاں روایات کا علم بردار فطین ادیب ہماری بزمِ وفا سے کیا اٹھا کہ وفا کے سب افسانوں سے وابستہ تمام ھقائق خیال و خواب بن گئے ۔ اس کے سینکڑوں مداح ، ہزاروں عقیدت مند اور لاکھوں شاگرد اس یگانہ روزگار فاضل ہستی کی دائمی مفارقت کی خبر سن کر سکتے کے عالم میں آگئے ”
گھنٹہ گھر ان کا صحن تھا۔ ان کا گھر بھوانہ بازار اور جھنگ بازار کے سنگم پر سکول والی گلی میں تھا جہان انکے گھر کے باہر پانچ شاندار ناموں والی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی ۔ سب سے اوپر خان شوکت اللہ تھا جو کہ ان کے والد گرامی تھے نیچے چار بھائیوں کے نام پروفیسر عصمت اللہ خان ، پروفیسر عظمت اللہ خان ، شہادت اللہ خان اور پروفیسر حشمت اللہ خان لکھے ہوئے تھے ۔ سب ایم اے اردو ۔ پڑھنے والا دنگ رہ جاتا۔ جناب شوکت اللہ خان ڈی ایس پی پولیس تھے۔ ان کے ہاں جالندھر کے مقام بدایوں میں 15 ستمبر 1940 کو عصمت اللہ خان نے آنکھ کھولی ۔اور باقی بیٹے بھی وہیں پیدا ہوئے۔1947 میں یہ گھرانہ جھنگ بازار لائل پور آگیا۔گورنمنٹ پاکستان ماڈل ہائی سکول کچہری بازار اور پھر بعد ایم سی ہائی سکول کوتوالی روڈ فیصل آباد سے عصمت اللہ خان نے میٹرک کیا گورنمنٹ اسلامیہ کالج سرگودھا روڈ سے ایف اے اور بی اے کے امتحانات پاس کئے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا ۔ پہلے کچھ عرصہ ایم سی ہائی سکول میں سروس کی پھر 22 برس کی عمر میں 11 ۔اکتوبر 1962 کو گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں اردو کے لیکچرر منتخب ہوئے جہاں ایف اے میں ڈاکٹر ریاض مجید بھی ان کے شاگرد تھے ۔پروفیسر عصمت اللہ خان کی تقلید میں باقی تمام بہن بھائیوں نے بھی ایم اے اردو کرلیا اور ایک بہن سمیت تین بھائی اردو کے لیکچرر منتخب ہوئے جبکہ ایک بھائی شہادت اللہ خان فیملی پلاننگ کے محکمہ میں منتخب ہوئے ۔ جہاں پروفیسر عصمت اللہ خان کی اہلیہ محترمہ ڈسٹرکٹ فیملی پلاننگ آفیسر تھیں ۔ پروفیسر عصمت اللہ خان اور بعد میں عظمت اللہ خان اور شہادت اللہ خان نے پاکستان بھر کے تمام علمی و ادبی مباحثہ جات بین الکلیاتی مقابلہ جات کی تمام ٹرافیاں جیت کر ناقابل شکست ریکارڈ قائم کیا۔وہ ہر مقابلے میں انعامات کی پوری میز خالی کرجاتے تھے۔ ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور وہ ت اللہ برادران کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کا گھر اور گھر کی تمام الماریاں ان انعامات اور ٹرافیوں سے بھری ہوئی تھیں جو انہوں نے جیت رکھی تھیں۔یہ روایت بعد میں پروفیسر عصمت اللہ خان کی دو صاحبزادیوں اور ایک صاحبزادے ذیشان احمد خان نے برقرار رکھی جنہوں نے انگریزی میں ایم اے کیا اور درس و تدریس سے وابستہ ہوئے ۔ بعد مین ان سب نے ایم فل انگلش بھی کر لیا۔

پروفیسر عظمت اللہ خان ، فائل فوٹو

گورنمنٹ کالج میں وہ علمی و ادبی تقریبات کے انچاج بنے۔ روشنی کے ایڈیٹر بنے۔ سٹاف سیکرٹری بنے۔ بیڈ منٹن ٹیم کے انچارج بنے۔ صدر شعبہ اردو بنے ۔ وائس پرنسپل بنے اور پھر پرنسپل بنے۔ اور 14 ستمبر 2000 کو 38 سالہ خدمات کے بعد ریٹائر ہوئے ان کی ریٹائرمنٹ پر ایک خوبصورت کتابچہ شائع کیا گیا جس کا نام تھا لفظوں کے پھول ۔ ملک بھر کے ادیبوں شاعرون نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خوش لباسی کی تعریف کی۔ ان کی زندہ دلی کا تذکرہ کیا، حاضر جوابی اور بذلہ سنجی کا ذکر ہوا۔ ان کی کمپیرنگ کو خراج تحسین پیش ہوا،۔ ان کی نقابت اور نظامت کو تسلیم کیا گیا انہیں سٹیج کا بادشاہ کہا گیا۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار لکھتے ہیں ” جلسہ تقسیم انعامات ہو، 8 دسمبر کالج کا یوم تاسیس ہو، کانووکیشن ہو، مقابل حسن قرات ہو ، مقابلہ نعت ہو، سیرت کانفرنس ہو ۔۔۔۔ مائیک پوری سج دھج کے ساتھ ہمیشہ پروفیسر عصمت اللہ خان کے ہاتھ ہی میں ہوتا تھا اور اس کا حق بھی انہوں نے خوب ادا کیا ۔ وہ تمام ادبی تقریبات کی جان تھے اور محفل کو کشتِ زعفران بنانے کا فن جانتے تھے۔ اکژایام میں صبح سے شام تک ہی کالج رہتے تھے۔”

ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں ” پروفیسر عصمت اللہ خان اساتذہ کے اس دور سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے کاز کے ساتھ مخلوص ہوں اور ہمیشہ ایک مشن کے تحت کام کرتے ہیں ۔ اب ایسے عہد ساز اساتذہ کا دور آہستہ آہستی ختم ہو رہا ہے ۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں اڑتیس برس تک مسلسل خدمات سرانجام دیں اور اپنی تدریسی صلاحیتوں کا لوہا منوایا یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جسے اب شاید ہی کوئی دوسرا حاصل کرسکے “۔

پروفیسر شاہد اقبال کامران شعبہ اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ان کے بارے میں لکھتے ہیں
” پروفیسر عصمت اللہ خان گورنمنٹ کالج ( دھوبی گھاٹ ) لائلپور میں میرے اردو کے استاد تھے۔نہایت مہذب، مشفق، متحمل،انسان دوست اور نرم خو پروفیسر تھے ایسا خوش لباس پروفیسر کم ہی دیکھنے میں آیا۔اس زمانے میں انگلش کے پروفیسر بدرالدین انصاری اور پروفیسر ایم آر آصف سٹائلشس پروفیسر ہوا کرتے تھے ۔لیکن ارود کو ئی استاد ایسا خوش لباس نہیں دیکھااس زمانے میں ۔ اپنے شاگردوں کو اعتماد کی دولت سے مالا مال کرنا پروفیسر صاحب کی خاص عطا تھی ۔ اللہ ان کے مقامات بلند فرمائے ۔۔۔۔ ”

ممتا زشاعر نقاد محقق اور ادبی مدیر پروفیسر محمد قاسم یعقوب شعبہ اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد لکھتے ہیں
“مجھے پروفیسر عصمت اللہ خان سے اس لئے بھی عقیدت ہے کہ ان کے بھائی عظمت اللہ خان تھے میں نے گورنمنٹ کالج آف سائنس میں 1996 میں پروفیسر عظمت اللہ خان سے پڑھا وہ میرے اردو کے استاد تھے۔وہ اس زمانے میں میرے والد پروفیسر حاجی محمد یعقوب صدر شعبہ ریاض کے کو لیگ تھے اور پروفیسر ریاض احمد قادری بھی ان دونوں کے کو لیگ تھے ان کی سروس کا آغاز سائنس کالج سے ہوا۔ پروفیسر عظمت اللہ خان ریز اور پرائم ہو ٹل کوتوالی روڈ میں روزانہ باقاعدہ بیٹھا کرتے تھے۔ پروفیسر ریاض احمد قادری بھی وہیں ہوتے۔میں 1997 ۔98 میں ان سے ملنے وہاں جایا کرتا وہ اس شہر کا صحیح کلچر تھے۔ ”
پروفیسر سلیم بیتاب مرحوم کے صاحبزادے عامر سلیم بیتاب لکھتے ہیں ” اللہ تعالیٰ پروفیسر عصمت اللہ خان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ۔ وہ اسلامیہ کالج لائل پور ہمارے والد پروفیسر سلیم بیتاب کے ہم جماعت اور قریبی دوست تھے۔ وہ ہمیشہ پروفیسر سراج احمد علوی کے شاگرد ہونے پر فخر کیا کرتے تھے ”

پروفیسر عصمت اللہ خان ، پروفیسر عظمت اللہ خان اور پروفیسر حشمت اللہ خان اسلامیہ کالج لائل پور کی انجمن سابق طلبہ کے بھی سرگرم رکن تھے عصمت اللہ خان تو اس کے تاحیات صدر تھے اور رفیع پرنٹرز کے میاں محمد رفیع اس کے جنرل سیکرٹری تھے اور ہر سال ایک نہایت شاندار سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا کرتے تھے۔

پروفیسر وقار اصغر پیروز کہتے ہیں ” پروفیسر عصمت اللہ خان ؒ میرے آئیڈیل تھے۔ مجھے سٹاف سیکرٹری اور مائیک کی وراثت ان سے ملی مجھے ریاض قادری ان کا جانشین کہتا ہے یہ بات میرے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ۔وہ میرا سب کچھ تھے۔ انہوں نے شبیر احمد قادری کا داخلہ ایم اے اردو میں کروایا اور اردو ادب کو ایک عظیم استاد اور نقاد سے محروم ہونے سے بچایا۔ وہ طالبات کے لئے ایک شفیق باپ کی حیثیت رکھتے تھے امتحان کے دوران اور کلاس میں بھی ان کا خیا ل رکھتے تھے۔وہ جب بولتے تو ان کے منہ سے پھول جھڑتے تھے۔ لوگ انہیں سن کر اپنا تلفظ درست کرتے۔ ”

پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد ریاض المعروف ریاض بھائی کہتے ہیں ” وہ میرے مرشد تھے۔ میرا پیر خانہ تھے۔ مین نے ان سے سب کچھ سیکھا۔ ذیشان احمد خان کے ساتھ ساتھ میں بھی ان کا بیٹا ہوں ۔ میں ان کی برسی دنیا کے بلند ترین مقامات پر بھی منا چکا ہوں ۔ میں نے ان کے نام سے عصمت اللہ خان ایوارڈ ان کی زندگی ہی میں جاری کردیا تھا۔دعا ہے میں ان کا حق شاگردی ادا کر سکوں ”

وہ شرافت و نجابت اور وضع داری کا مرقع تھے۔ خاندانی وجاہت ان کے کردار و افعال سے عیاں تھی۔ 38 سال تک اپنے گھر سے کالج تک پیدل چلتے ۔ گھر سے نکلتے اور سلام دعا کا سلسلہ شروع ہوتا فٹ پاتھ پر چلتے سب کی خیریت دریافت کرتے اور کالج تک نیکیاں کماتے جاتے۔

کالج میگزین روشنی کے شمارے ان کی تحریروں ، انشا ئیوں ، اداریوں اور شستہ نثر پاروں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ ان کا نثری مجموعہ شائع کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔وہ ہر نئے آنے والے سٹاف ممبر اور جانے والے رفیق کار کا خاکہ پیش کرتے جو انشا پردازی کی بہترین مثال ہوتا۔ شگفتگی اور شائستگی ان کا طرہ امتیاز ہے ۔
پیدا کہاں اب ایسے پراگندہ طبع لوگ
ڈھوندا تھا آسماں نے جنہیں خاک چھان کے
آخر پر انہیں منظوم خراج تحسین پیش کر نے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں
منظوم خراج تحسین
پروفیسر عصمت اللہ خان کی نذر
خلوص و صدق کا پیکر تھے عصمت اللہ خان
جہانِ علم کے رہبر تھے عصمت اللہ خان

رہا ہے آپ کا شیوہ سدا وفا کرنا
خلوص و صدق سراسر تھے عصمت اللہ خان

تمام عمر محبت کے پیروکار رہے
محبتوں ہی کے خوگر تھے عصمت اللہ خان

تمام عظمتیں ان پر نثار ہوتی رہیں
ہمالیہ کے برابر تھے عصمت اللہ خان

محبتوں میں مساوات کے رہے قائل
کلاں و خورد کے دلبر تھے عصمت اللہ خان

قسم خدا کو کوئی غم نہیں ستا تا تھا
وہ لمحہ جب مرے سرپر تھے عصمت اللہ خان

تلاش کرتے رہے راز وہ حقیقت کے
حقیقتوں کے شناور تھے عصمت اللہ خان

کسی بھی جوہری کے پاس جو نہیں ہوتا
وہ ایسا قیمتی جوہر تھے عصمت اللہ خان

صداقتوں کے ہمیشہ رہے وہ متلاشی
صداقتوں کا سمندر تھے عصمت اللہ خان

تمام شہر میں پیدا کئے سکندر ہیں
ہمارا بختِ سکندر تھے عصمت اللہ خان

ریاض احمد قادری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں