تعلیمی اداروں میں افراد کے رویے! ………….. تحریر، شہبازعلی ہادی

گزشتہ دنوں ایک سرکاری یونیورسٹی میں جانے کاموقع ملااوروہاں پرمجھے لوگوں کے انسانیت سے خالی رویے دیکھنے کوملے۔سرکاری درسگاہوں میں جہاں طلباء کی معاشرتی ضرورتوں کے مطابق تربیت کی جاتی ہے وہی پروہاں کے سٹاف اوراساتذہ کے رویوں میں پستی نظر آئی۔اورمجھے یہ بات کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر آپ کے نوجوان بدتمیز اورناخلف ہیں تواس کے ذمہ داروہ ادارے ہیں جنہوں نے ان کی خوب اچھی تربیت کی ہے۔نوجوانوں کے برے روئیے عکس ہیں ان کی اخلاقیات کوتعمیر کرنے والوں کا۔میں نے اس موقع پر جس سے بھی بات کی اس نے سیدھے منہ جواب نہیں دیا۔خوش اخلاقی سے پیش آنا ان کے لئے انتہائی مشکل تھا۔یوں معلوم ہواکہ خاکروب،قاصد،نائب قاصد،کلرکس،سکیورٹی گارڈ،افسران اوراساتذہ سب کی نظر میں وہاں پر آنے والے طلبا،والدین اوردیگرافرادانتہائی حقیرہیں اور وہ ان سب سے اعلیٰ کیونکہ وہ یونیورسٹی کے پکے ملازم ہیں جبکہ ایڈمنسٹریشن کے لوگوں کے ہاں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ملی،جس کی مثال ڈگری ویریفکیشن برانچ میں بیٹھا ایک بندہ ہے جس کی بدتمیزی ادارے میں مشہور ہے لیکن کیا مجال کسی وائس چانسلر کی کہ وہ اس سے پوچھ سکے کہ اسے کیا مسئلہ ہے؟۔لہجے میں سختی،کام سے بے زاری،غیرذمہ داری اوربے وجہ کی مصروفیت یہاں کے سٹاف کاپسندیدہ مشغلہ ہے۔

قوم کے نوجوانوں کو تعلیم فراہم کرنے والے ادارے میں،میں نے دیکھاکہ یہاں پر اگرآپ کی واقفیت ہے تو آپ کاکام بہت جلد ہوجائے گا اورجس کاکوئی جاننے والا نہیں وہ رل جائے گا۔ سماجی ناانصافی،نسلی،صوبائی اورمذہبی تعصبات،سفارشی کلچر اورکرپشن جیسی تمام تر غیراخلاقی بیماریاں یہی سے جنم پاتی ہیں۔ایسے ماحول سے نکلنے والے طلباء معاشرے میں افراد کے ساتھ کیا کریں گے اوران سے کس چیز کاتقاضا کیا جاسکتاہے؟؟وہ آپ خوب سمجھ سکتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں غیراخلاقی رویہ کا یہ حال ہے تو دیگر اداروں میں کیا ہوگا؟؟۔مجھے اس موقع پراندریاس رحمت صاحب کی یہ بات یاد آئی: کہ خریدی گئی تعلیم سے آپ خیر کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟؟تعلیم کی خریدوفروخت کے دھندے سے ملکی ترقی،انسانیت کااحترام اورفرد کی اخلاقی تعمیر کاخیال کسی جھوٹ سے کم نہیں،فاروق قیصر(انکل سرگم) کے ایک کارٹون کاکیپشن تھا:میں پڑھ لکھ کرڈاکٹر بنوں گا اورلوگوں کو لوٹ کرملک کی خدمت کروں گا۔تعلیم فرد کو ذمہ دار شہری بنانے کے لئے دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں تعلیم کامقصد پیسے کاحصول ہے اوراس کے لئے آپ جہاں تک گر سکتے ہیں گر جائیں کیوں کہ پیسہ کے بغیر آپ سٹیٹس حاصل نہیں کرسکتے۔تعلیم کاحصول پیسہ کاحصول ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں پڑے لکھے چوربہت زیادہ ہیں۔سماجی اورسیاسی مسائل تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے وابستہ ہیں۔اس یونیورسٹی میں دوسسٹم بیک وقت کام کررہے ہیں ایک مینول اوردوسراڈیجیٹل لیکن ان میں کوئی ربط نہیں۔پہلے آپ مینول کیلئے درخواست دیں گے،اس بندے کے پاس درخواست جمع کروائیں گے جسے نہیں پتہ کہ اس کے دستاویزات مکمل ہیں یاں کوئی کمی بیشی ہے؟؟ اورنہ ہی وہ اس کی ٹینشن لیتاہے کیوں کہ خوار تو طلباء نے ہی ہوناہے۔استقبالیہ پر بیٹھنے والوں کے پاس کوئی معلومات نہیں،ان کاکام صرف مکھیاں اورگپیں مارناہے۔میں اس یونیورسٹی میں سات سال پڑھتارہالیکن مجھے نہیں پتہ تھاکہ یہاں پر کوئی طلبا کو معلومات فراہم کرنے والا استقبالیہ بھی ہے؟ عام طالب علم اوروزٹرز کاکیا حال ہوگا؟؟رجسٹریشن برانچ،ایگزمینیشن،مختلف ڈیپارٹمنٹس وغیرہ وغیرہ سب غیر ذمہ دار ہیں اوران کے پاس بڑاخوبصورت جواز ہے کہ سٹوڈنٹس کی تعداد بہت زیادہ اور سٹاف کی تعداد کم ہے۔

دوسری طرف ہم اگرکسی پرائیویٹ یونیورسٹی میں جاتے ہیں تو وہاں کاسٹاف انتہائی تمیز سے پیش آتاہے۔کام بہت زیادہ ہے یہاں پرآپ کوایسا کوئی جواز نہیں ملے گا۔جن کی سرکاری یونیورسٹی کے ملازم سے بھی کم تنخواہ ہے،اسے کوئی پنشن نہیں ملے گی اورنوکری بھی محفوظ نہیں۔گورنمنٹ اورپرائیویٹ اداروں میں وزٹرز کے ساتھ رویہ میں یہ واضح فرق سرکاری اداروں کی تباہی اورناکامی کاباعث بنا ہواہے۔دنیا میں سرکاری ادارے پرائیویٹ اداروں سے زیادہ منظم اوراچھی سروس دینے والے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ معاملہ بلکل ہی الٹ ہے۔یہاں سرکاری ادارے بدحال،ناکام اوربری سروس کے نام سے جانے جاتے ہیں اورپرائیویٹ ادارے اچھی سروس کی وجہ سے عوام میں مقبول ہیں۔ایک مخلص پاکستانی کے ہمیں سوچنا چاہئے کہ سرکاری ادارے خسارے میں ہوتے ہیں اورپرائیویٹ ادارے کامیاب۔ کیاوہاں کے لوگ سرکاری اداروں سے زیادہ قابل ہوتے ہیں؟؟ میرے خیال میں ایسا نہیں بلکہ اصل مسئلہ سرکاری ملازمین کابرارویہ ہے جس سے بدظن ہوکر لوگ پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں۔اداروں میں سرکاری ملازمین کارویہ جتنا براہوگا پرائیویٹ سیکٹر کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔

آخری توجہ طلب بات کہ ملک میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اورطلبا ء تیزی کے ساتھ وہاں پر منتقل ہورہے ہیں۔کبھی ایک وقت تھاکہ سرکاری سکول وکالجزمیں پڑھنا ایک فخر تھالیکن ہم نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ سکول وکالجز خالی ہونے لگے اورلوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اداروں میں پڑھانے کوفخر سمجھنے لگے۔ڈرہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے سٹاف کے رویہ کی وجہ سے یہ ادارے بھی خالی نہ ہوجائیں۔اگر ایسا ہواتو اس کے قصورواروہ لوگ ہونگے جواپنا رویہ نہیں بدل رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں