سپریم کورٹ نے زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری میں وزیراعلی پنجاب کو جانبدار قرار دیدیا؟

فیصل آباد ، آن لائن

سپریم کورٹ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ 16 اپریل 2019 میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر کا تقرر کرنے والے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ‘پہلے سے طے شدہ ذہن’ کے ساتھ ایک فرد کو چنا اور منتخب کیا جو میرٹ پر پورا نہیں اترتا تھا۔جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ وزیر اعلی کی جانب سے بیان کردہ وجوہات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے طے شدہ ذہن کے ساتھ ایک ایسے شخص کو چنا اور منتخب کر لیا جو میرٹ میں دیگر بہتر لوگوں کے مقابلے میں کم تھا۔عدالتی ریمارکس ڈاکٹر اقرار احمد خان کی جانب سے 5 مارچ 2020 کے فیصلے خلاف دائر اپیل کے فیصلے میں سامنے آئے۔

لاہور ہائی کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیل کے حکم کے تحت اپریل 2019 کے نوٹی فکیشن کو بحال کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اشرف کو زرعی یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے تعینات کردیا تھا۔سپریم کورٹ نے ڈاکٹر اقرار احمد خان کے بطور وائس چانسلر کی دوسری مدت ملازمت کو برقرار رکھا۔کیس کی سماعت 3 رکنی بینچ نے کی جس میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔بینچ نے کہا کہ وزیر اعلی کا یہ اقدام غیر قانونی، صوابدیدی اور من پسندی پر مبنی ہے، اس رویے کا تدارک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سرچ کمیٹی نے درخواست گزار ڈاکٹر اقرار خان کو میرٹ کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا تھا۔ڈاکٹر اقرار نے نہ صرف تحریری امتحان بلکہ انٹرویو میں بھی سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے اور اسی انٹرویو میں ڈاکٹر اشرف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے تھے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ اس طرح وائس چانسلر کے تقرر کے لیے وزیر اعلی کی جانب سے دی گئی وجوہات میں غیر جانبداری اور شفافیت کا فقدان ہے۔وزیر اعلی نے ڈاکٹر اقرار کے تقرر کو مسترد کرنے کے لیے پیش کی جانے والی دوسری وجہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گزار یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے اجلاس میں مطلوبہ حاضری پوری کرنے سے قاصر رہے۔عدالت عظمی نے ریمارکس دیے کہ چونکہ اپیل کنندہ کو مخصوص تعداد پوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے انہیں نااہل نہیں کیا جاسکتا۔انٹرا کورٹ اپیل کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ وہ وزیر اعلی کی جانب سے دی گئی وجوہات پر فیصلہ نہیں دے سکتی، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم ہائی کورٹ کے نقطہ نظر کے پیچھے اس منطقی وجہ تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ تقرر اتھارٹی کی جانب سے پیش کردہ وجوہات کی عدالتی جانچ پڑتال نہیں کرائی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلی نے حقائق سے صرف نظر کیا اور عمومی نتائج پر بھروسہ کیا، عدالت کو آڈٹ پیرا اور اپیل کنندہ کے ناقص مالی کنٹرول سے کوئی تعلق نظر نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں