افغان امن کانفرنس اور سازشی عناصر ! ……….. تحریر، اورنگزیب اعوان

پاکستان نے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے پرامن حل کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو روزہ امن کانفرنس کا انعقاد کیا تھا . جس میں افغانستان کے تمام سیاسی و عسکری گروہوں کو شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی . پاکستان ایک امن پسند ملک ہونے کے ناطہ سے دنیا بھر میں امن کی شمع روشن کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے. مسئلہ فلسطین، مسئلہ مقبوضہ کشمیر، مسئلہ افغانستان، امریکہ کی چین اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پرامن تصفیہ کے لیے جدوجہد کر رہا ہے. پاکستان کی امن پسند سوچ کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. مگر کچھ نااندیش ، بغض و حسد کی آگ میں جلتے دشمنوں سے اس کی امن پسندی برداشت نہیں ہوتی. وہ ہر وقت اس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ میں مصروف عمل رہتے ہیں. جن میں سرفہرست بھارت ہے. افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھارت وہاں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کا خواہاں ہے. مگر افغان طالبان کی حالیہ کارروائیوں نے اس کے خواب کو چکنا چور کر کے رکھ دیا ہے. اسے افغانستان میں کی گئی تمام سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے. ایسے میں وہ افغانستان کی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہے گا. اس کے برعکس پاکستان اپنے پڑوس میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار نظر آتا ہے. افغانستان سے امریکہ کے پرامن انخلاء سے لیکر افغانستان میں عوامی حکومت کے قیام تک ہر اقدام کرنے پر آمادہ ہے. اسی سلسلہ میں حکومت پاکستان نے افغانستان کے تمام فریقین کو ایک جگہ یکجا کرکے باہمی مشاورت سے اختلافات کے حل کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کی تھی. . اگر فریقین ایک متفقہ حکومت کے قیام پر آمادہ ہو جاتے ہیں. تو اس کے مثبت اثرات پورے خطہ ارض پر آشکار ہوتے . لیکن اگر یہ کسی ایک نقطہ پر متفق نہیں ہو پاتے. تو اس کا خمیازہ بھی پورے خطہ کو برداشت کرنا پڑے گا. جب آگ ایک گھر کو لگتی ہے. تو وہ اپنے ساتھ ساتھ کئی گھروں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے. حکومت پاکستان نے افغانستان کے اندرونی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے. انہیں امن سے رہنے کے لیے ایک موقع فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی تھی . مگر کچھ افغان حلقوں نے پاکستان کی اس کوشش کو شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا تھا . کیونکہ وہ بھارت نواز حلقے افغانستان میں پاکستان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے . مگر اس حقیقت سے کوئی طاقت آنکھیں نہیں چرا سکتی. کہ اگر افغانستان کے تمام فریقین کو ایک میز پر بیٹھا سکتا ہے. تو وہ واحد پاکستان ہے. پاکستان کی مسلح افواج اور اور سیاسی قیادت نے انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے. افعان مسئلہ کو بہت ہی عمدہ طریقہ سے حل کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے. اگر ان کے پروگرام کے مطابق فریقین کے درمیان مسئلہ افغانستان کا تصفیہ طے پا جاتا ہے. تو دنیا بھر میں پاکستان کی قدرو منزلت میں مزید اضافہ ہوتا. کیا ہی اچھا ہوتا. کہ موجودہ حکومت اس کانفرنس سے قبل ملکی اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے لیتی. کیونکہ ماضی میں ان اپوزیشن جماعتوں کے کسی نہ کسی طرح سے ان فریقین سے روابط رہے ہیں. حکومت ان کے پرانے تعلقات سے استفادہ حاصل کر سکتی تھی. دوسری طرف کل کو اگر کچھ غلط ہوتا ہے. تو اپوزیشن جماعتیں حکومت کو مرد الزام نہیں ٹھہرا سکتیں تھیں. حکومت وقت کو اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو بھی کانفرنس میں مدعو کرنا چاہیے تھا. شاید حکومت وقت نے اس پر بہتر سوچ رکھا ہو. وہ افغانستان کانفرنس کی کامیابی پر انہیں اعتماد میں لینے کا سوچ رہی ہو. پاکستان کی ہر سیاسی جماعت ملکی مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہے. ان کی حب الوطنی پر کسی کو شک نہیں. اللہ تعالیٰ حکومت وقت کو اپنے نیک مقصد میں کامیابی عطا فرمائے. ہمارا دیرینہ دشمن بھارت موقع کی تلاش میں بیٹھا ہے. کہ کب افغانستان میں جنگ شروع ہوتی ہے. اور اسے کھل کر اپنا گھناؤنہ کھیل کھیلنے کا موقع میسر آتا ہے. مگر ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مسلح افواج کی موثر منصوبہ بندی کی بدولت اس کی تمام منصوبہ بندی ناکام ہوتی جا رہی ہے. ایسے میں اس نےاپنے ایجنٹوں کے ذریعہ سے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے. افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے. کہ ہزاروں کی تعداد میں طالبان پاکستان سے افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں. ایک اور اہم افغان حکومتی ترجمان کا کہنا ہے. پاکستان کی ائیر فورس نے افغان ائیر فورس کو طالبان کے خلاف حملہ میں مدد فراہم کی ہے. یہ سب بیانات پاکستان کی افغانستان میں امن کی کوششوں کو سبکدوش کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے. جس کا وزیراعظم پاکستان اور مسلح افواج کے ترجمان نے بھرپور جواب دیا ہے. افغانستان میں قیام امن حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے. جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ سرگرم عمل ہے. ہمارے دشمن ہماری اس کاوش کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں. مگر انہیں منہ کی کھانی پڑے گی. حکومت پاکستان اور اس کی مسلح افواج ملکی دفاع کرنا جانتی ہیں. اور اپنے خلاف کی جانے والی سازشوں کا منہ توڑ جواب دینا بھی بخوبی جانتی ہیں. افغانستان میں قیام امن سے دنیا میں جو مقام پاکستان کو حاصل ہوگا. وہ بھارت کی موت ثابت ہو گا. ہم بحیثیت پاکستانی قوم حکومت وقت کے اس احسن اقدام کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں.

یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے.
علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں