” بچہ بچہ کٹ مرے گا، کشمیر صوبہ نہیں بنے گا‘‘ ….. تحریر ، حامد میر

ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات کا سب سے اہم ترین موضوع بھارتی زیر انتظام کشمیر کی آزادی ہوا کرتا تھا۔ سیاسی جماعتیں سرحد پار کے کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے کے وعدے کیا کرتی تھیں۔

آج وہ زمانہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ان کے لیڈروں کی تقاریر سن کر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو نئی دہلی کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا ہے اور انتخابات کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ریاستی تشخص ختم کر کے اسے پاکستان کا ایک صوبہ بنا دیا جائے گا اور یوں مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں گم کر دیا جائے گا۔

پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے ختم کر کے جموں و کشمیر کے ریاستی تشخص کو ختم کر دیا تھا۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہر جمعے کو بھارت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ یہ احتجاج جمعہ جمعہ چار دن بھی نہیں چلا۔ اب پچیس جولائی 2021ء کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات نزدیک آئے تو عمران خان کے وزراء نے بھارت کے بجائے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔

وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو غدار اور نواز شریف کو ڈاکو قرار دے دیا۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھی خوب زہر اُگلا اور کہا کہ عمران خان نئی دہلی سے ڈکٹیشن لیتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کو این آر او بھی دیا۔ بلاول نے اپنی تقریروں میں مسلم لیگ (ن) پر طنز کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ کہتے تھے کہ آر ہو گا یا پار ہو گا لیکن اب یہ کہتے ہیں کہ پاؤں پکڑیں گے۔ نام لیے بغیر شہباز شریف اور مریم نواز پر بلاول کی تنقید سے یہ پتا چلتا ہے کہ کم از کم انہیں یقین ہے کہ چچا بھتیجی اندر سے ایک ہیں۔

مریم نواز اپنی تقریروں میں بلاول کو جواب دینے سے گریز کر رہی ہیں۔ ان کا ہدف صرف اور صرف عمران خان ہیں۔ مریم نواز کے جلسوں میں عام لوگوں کی بڑی تعداد کی شرکت سے پیپلز پارٹی والے کچھ پریشان نظر آتے ہیں لیکن تحریک انصاف والے بالکل مطمئن ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں الیکشن میں ویسا ہی ہوتا ہے، جیسا کہ بلوچستان میں ہوتا ہے یا جیسا چند ماہ قبل گلگت بلتستان میں ہو چکا ہے۔ عوام ووٹ جسے بھی ڈالیں کامیاب وہی ہوتا ہے، جسے اسلام آباد والوں کی تائید حاصل ہوتی ہے۔

یہ ایک خطرناک تاثر ہے۔ اسی تاثر نے 1987ء میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے نوجوانوں کو بھارت کے خلاف بندوق اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے کبھی ملک کے زیر انتظام کشمیر کو ایک رول ماڈل بنانے کی کوشش نہیں کی۔ مظفر آباد میں ہمیشہ اسلام آباد کی مرضی کی حکومت بنتی ہے اور سری نگر میں نئی دہلی کی حکومت کی مرضی کی حکومت بنتی ہے۔

پانچ اگست 2019ء کے بعد سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہیں۔ عام کشمیری کا خیال ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی پانچ اگست 2019ء کے ‘سقوط کشمیر‘ کے ذمہ دار ہیں۔ عام کشمیری پیپلز پارٹی سے بھی ناراض ہے، جس نے 2018ء کے انتخابی منشور میں گلگت بلتستان کو علیحدہ صوبہ بنانے کا وعدہ شامل کر کے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی کا آغاز کیا۔ یہی عام کشمیری آج تک نہیں بھولا کہ 2015ء میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے روس کے شہر اوفا میں نریندر مودی سے ایک ملاقات کی اور ملاقات کے بعد، جو اعلامیہ جاری ہوا، اس میں مسئلہ کشمیر لاپتا تھا۔ کچھ دنوں بعد نریندر مودی اچانک جاتی عمرہ لاہور میں نواز شریف کے مہمان بنے بیٹھے تھے۔

شاید مریم نواز کو عام کشمیری کے جذبات کا احساس ہے، اسی لیے انہوں نے اپنے جلسوں میں یہ نعرہ لگوانا شروع کر دیا ہے،” بچہ بچہ کٹ مرے گا، کشمیر صوبہ نہیں بنے گا‘‘۔ اس نعرے کے بعد مریم نواز بہت سے قوم پرست کشمریوں کے لیے قابل قبول بن گئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ پچیس جولائی کے انتخابی نتائج اگر متنازعہ بن گئے تو مظفرآباد کی سیاست میں ایک ایسا طوفان جنم لے سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اسلام آباد کی سیاست کے مابین گہرے تعلق کے کچھ نظارے ہم پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دیکھ چکے ہیں۔ کشمیر کے جلسوں میں علی امین گنڈا پور کی تقریروں کا ردعمل ہم نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دیکھا۔ شکر ہے علی امین گنڈاپور نے ذوالفقار علی بھٹو کو صرف غدار ہی کہا، کافر نہیں کہہ دیا۔ ویسے بھی غداری کا الزام پاکستان میں کوئی گالی نہیں رہا کیونکہ جنرل ایوب خان نے الزام محترمہ فاطمہ جناح پر بھی لگایا تھا اور اس وقت ذوالفقار علی بھٹو بھی ایوب خان کے ساتھ تھے۔

جنرل ایوب کے سایہ شفقت میں سیاست شروع کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کے صرف ایک فیصلے نے انہیں لیجنڈ بنا دیا تھا۔ وہ فیصلہ یہ تھا کہ 1977ء کے مارشل لاء کے بعد انہوں نے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ڈیل کرنے کے بجائے یہ اعلان کیا،”میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔‘‘

بھٹو کو پھانسی لگانے کے بعد جنرل ضیاء کے حکم پر ان کے جسم کے پوشیدہ اعضاء کی تصاویر بنائی گئیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کا ختنہ ہوا تھا یہ نہیں۔ راولپنڈی جیل کے سابق سپریٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین نے اپنی کتاب’ بھٹو کے آخری 323 دن ‘ میں لکھا ہے کہ انہیں سرکاری طور پر کہا گیا تھا کہ بھٹو کی والدہ ہندو تھیں، جن کے ساتھ ان کے والد نے زبردستی شادی کی اور بھٹو کے ختنے نہیں ہوئے تھے۔ تاہم جب پھانسی کے بعد چیک کرنے پر بھٹو مسلمان نکلے تو اس پر جنرل ضیاء کو بہت مایوسی ہوئی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے پاکستان کی سیاست میں جو پولرآئزیشن پیدا ہوئی وہ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ علی امین گنڈاپور ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے برخوردار ہیں اور موصوف کی بھٹو سے نفرت کے پیچھے جنرل ضیاء کی سوچ ہے، جس نے پاکستان میں جھوٹ، منافقت اور دغا بازی کو ایک سرکاری پالیسی بنایا۔ آج ہماری سیاست میں سب ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ بول رہے ہیں اور سچائی لاپتا ہو چکی ہے۔ آئین اور جمہوریت سے لوگوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پچیس جولائی کو اگر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوئے تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں