ہم اور ہماری پلاننگ ! ………………….. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

دشمن کے پروپگنڈا کی بدولت بعض اوقات ہمارے لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں پلاننگ پر توجہ نہیں دی جاتی ٭حالانکہ ماضی میں ایسانہیں تھا۔ہمارے ہاں دنیا کی بہترین پلاننگ کی جاتی تھی جس کی ایک روشن مثال آج بھی لاہور میں دیکھی جاسکتی ہے۔ لاہور میں ایک سڑک ایسی بھی ہے جس کے ایک طرف خواتین کے تین کالجز ہیں تودوسری طرف تین ہسپتال ہیں۔جن میں سے ایک دل کا،ایک ذہنی امراض کا اور ایک عمومی امراض کاہے٭۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگ شروع سے ہی جانتے تھے کہ تعلیم نسواں کے پھیلاؤ سے مردوں پر جوقلبی،ذہنی اوردیگرجسمانی اثرات مرتب ہونے ہیں، اُن سے بطریق احسن عہدہ برا کیسے ہوا جاسکتاہے۔ پلاننگ کی اتنی خوبصورت مثال شاید ہی دنیا میں کہیں اوردیکھنے کوملے۔٭

ایک ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ جب اُن کا داخلہ ایک مشہور میڈکل کالج میں ہواتوملحقہ ہسپتال کے ساتھ ہی اُن کو ایک بہت بڑا قبرستان نظر آیاجس سے اُن کو یقین ہوگیا کہ ہسپتال اورکالج کی جگہ کاتعین مکمل دیکھ بھال کرنے کے بعدپوری ذمہ داری سے کیا گیا ہے اس سلسلے میں تمام ممکن احتیاط برتی گئی ہے اورشعبہ طب کی تمام ضروریات کاپورا خیال رکھاگیا ہے۔

پلاننگ کی ایک بہترین مثال یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہونے کے پہلے سال کے اندر ہی والدین یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ بچے کو کیا بننا ہے اور بعض والدین تو اس معاملے میں بچے کی پیدائش کا بھی انتظارنہیں کرتے اور شادی کے فوراً بعد ہی اس سوچ میں گم رہنے لگتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوکرکیا بنے گا۔٭وہ اس سلسلے میں ساری پلاننگ خودکرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پلاننگ کرنا کوئی بچوں کاکھیل نہیں ہے اوربڑے بڑے لوگ مل کرہی اچھی پلاننگ کرسکتے ہیں اس لیئے پورا خاندان بچے کے بولنے کی عمر کوپہنچنے سے پہلے ہی عموماً اُس کے پورے مستقبل کی پلاننگ کرچکاہوتا ہے۔اُس کی شادی سے لے کر اُس کے روزگار کے تمام فیصلے پہلے ہی کرلے جاتے ہیں تاکہ عین وقت پر کہیں پلاننگ کے فقدان سے مسائل کھڑے نہ ہوجائیں۔٭

مجھے ذاتی طور پر پلاننگ کے مختلف ماڈلزمیں قیام پاکستان سے پہلے یہاں رہنے والے سکھوں کاپلاننگ ماڈل بہت اچھا لگتا ہے کہتے ہیں کہ سکھوں کے دو بڑے شہر پشاور اور امرتسر تھے۔ انہوں نے ایک یونیورسٹی بنانی تھی اورامن وامان کا مسئلہ پیداہوگیا تھاکہ یونیورسٹی کس جگہ بنائی جائے۔آخرتصفیہ اس بات پرہواکہ یونیورسٹی پشاوراورہوسٹل امرتسر بنا دیاجائے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے اکثر والدین اپنی اولاد کیلئے پلاننگ کرتے ہوئے غیر شعوری طور پر اس سکھ ماڈل سے متاثر ہوتے ہیں ٭۔

بعض لوگ تاریخی وجوہات کی بناء پر لفظ پلان اورپلاننگ کے بارے میں اچھا گمان نہیں رکھتے آپ پرانی اُردو فلمیں دیکھیں توہمیشہ مجرم کردار ہی پلان بناتے نظر آتے ہیں مگراس کے باوجود ہم عموماً اپنی اولاد کی ساری زندگی کی پلاننگ خودہی کرلیتے ہیں ٭۔یہ الگ بات ہے کہ میرے ایک شامی دوست کے بقول ہماری پلاننگ ”چلو ٹھیک ہے“سے شروع ہوکر ”چلو ٹھیک ہے“ پر ختم ہوجاتی ہے۔٭

عموماً ہماری پلاننگ کادائرہ کاراپنی ذات سے شروع ہوکراپنے گھر پر ختم ہوجاتا ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ اپنے گھر کاکوڑا باہرگلی میں پھینک کرشہرکی صفائی کی بابت حکومت کی پلاننگ کوموردِالزام ٹھہراتے ہیں۔٭ہم میں سے زیادہ تر لوگ ڈرائیونگ لائسنس بنواتے ہوئے سفارش کرواناغلط نہیں سمجھتے اورحادثات ہونے کی صورت میں یہ کہتے ہیں کہ حکومت کی روڈ سیفٹی کی کوئی پلاننگ ہی نہیں ہے۔٭

ہماری پوری پلاننگ میں اپنے ملک اورقوم کی بہتری کیلئے جو ہمارا کردارہوناچاہیئے، اُس کا فقدان ہے اوراب یہ کمی دن بدن شدیدہوتی جارہی ہے۔ ہماری پلاننگ کادائرہ کارعموماًبڑی محدودنوعیت کاہوتا ہے۔اپنی سوسائٹی کی بہتری کیلئے کوئی کردار ادا کرناشاید ہماری ترجیحات میں بہت پیچھے چلا گیا ہے۔٭میں سمجھتا ہوں کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں اپنی پلاننگ اپنے گھر،محلے، شہر،ملک اورقوم کے مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے کرنی چاہیئے وگرنہ ہمیں لے کر ہمارے دشمن توایک مدت سے بڑی سنجیدگی سے اپنی بہترین پلاننگ کرچکے ہیں۔اللہ پاک ہمارے ملک و ملت کواغیار کی تمام سازشوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے ملک اور قوم کی ترقی کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔آمین۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہے اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہا ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں