”بیوی سے سی وی تک“ تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

اگر ہم انسانی تہذیب کاسفر مختصرترین الفاظ میں بیان کرناچاہیں تو شایداتنا ہی کہہ دیناکافی ہوگا کہ قدیم مدرسری معاشرے میں بیوی ہی سب کچھ تھی اور آج کے جدیدپدرسری معاشرے میں سی وی(CV) ہی سب کچھ ہے۔اگرہم اس کرہ ارضِ پر تہذیب و تمدن کی کہانی صرف ایک جملے میں بیان کرناچاہیں تو یہ کہاجاسکتا ہے کہ ”انسان کاسفرصرف بیوی سے سی وی تک کی کہانی ہے“ اب اس سفر میں مردنے جتناسفر (suffer)کیا ہے وہ بتانا شاید مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔

اچھی بیوی اوراچھی سی وی موجودہ دورکے ہرمرد کاخواب ہے۔بعض لوگ تو یہ خواب کھلی آنکھوں کے ساتھ بھی دیکھتے رہتے ہیں اوراُن کی آنکھیں اکثر اوقات کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔اگرخواب پورا ہوجائے تو کئی لوگ حیرت سے مرجاتے ہیں اور اگر پورا نہ ہو تو کئی لوگ غیرت سے مرجاتے ہیں۔کئی لوگ شادی کے بعد بھی بیوی سے زیادہ سی وی کی فکر کرتے ہیں اوراکثراوقات اپنی سی وی اچھی کرنے کے چکر میں بیوی کاوقت بُراکرتے رہتے ہیں۔جب وہ سی وی سے مطمئن ہوکربیوی کی طرف توجہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیوی توہمیشہ غیرمطمئن رہی ہے اوراُن کو”جیسی کرنی ویسی بھرنی“کاعملی مظاہرہ دیکھنے کوملتا ہے۔ان لوگوں کا یہ یقین مزیدپختہ ہو جاتا ہے کہ اچھی سی وی توبعض اوقات محنت سے بھی مل جاتی ہے مگر اچھی بیوی صرف قسمت سے ہی ملتی ہے اور اگرقسمت بہت اچھی ہوتو آخری دم تک بیوی اچھی رہتی ہے۔ اچھی سی وی بعض اوقات اس دنیاکوجنت بنادیتی ہے جبکہ اچھی بیوی کے بغیر دوسری دنیا میں جنت کاحصول تقریباًناممکن ہے۔

دنیا کے بیشتر علاقوں میں ”ناری“ ہمیشہ سے ہی اپنے ”پتی“کا انتخاب خودکرتی رہی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ”ناری“ چائے کی ”پتی“ کاانتخاب ایک عرصے سے خودکررہی ہے جبکہ ”پتی“کاانتخاب پہلے عموماً اُس کے خاندان والے خودہی کرلیتے تھے اوراُس کو اس معاملے میں زحمت نہیں دی جاتی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ وہ”پتی“ کئی دفعہ ”ناری“کیلئے ناراورباعثِ عارثابت ہوتاتھا۔اب ہمارے ہاں بھی صورت حال کافی بدل گئی ہے اورآج کی جدید عورت چائے کی ”پتی“اور”پتی“ کے انتخاب میں خود مختارہے اوراس بابت کوئی سمجھوتا نہیں کرتی۔ اگرکبھی”پتی“ کی کوالٹی چائے کی ”پتی“ کی طرح مزیدارنہ رہے تووہ”پتی“ کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو ایک خاتون نے اپنے بیمار خاوند کے ساتھ کیا تھا۔خاتون کاخاوند کام کی زیادتی کی وجہ سے دباؤ کاشکارتھا۔دونوں میاں بیوی متعلقہ ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر نے تسلی بخش طریقے سے معائنہ کیا اور پھر خاتون کو کہا کہ میں نے اکیلے میں آپ سے ایک بات کہنی ہے۔ اُس نے خاتون کو کافی دیر سمجھایا کہ اُس کے میاں کو مکمل آرام اور ذہنی سکون کی ضرورت ہے بعد میں میاں نے خاتون سے پوچھا کہ ڈاکٹر نے آپ کو اکیلے میں کیا کہا تھا؟ خاتون نے بتایاکہ ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ کے شوہر کامعاملہ دنیا کے کسی بھی ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں۔ آپ بس اللہ کی ذات سے امیدرکھیں اور دعاکریں۔

اکثر مردشادی کی عمر میں اپنی سی وی بہتر کرنے کے چکر میں رہتے ہیں بعض اوقات سی وی تو ہاتھ میں آجاتی ہے مگراچھے رشتے کی عمرچلی جاتی ہے۔ایک تقریب جوشمع بناسپتی اور سحربناسپتی کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی،مجھے اُس میں ایک پختہ عمر کے کنوارے دوست کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔جب تعاون کرنے والوں کانام پکاراجاتاتومیرے دوست کی آنکھیں خلا میں بھٹکنے لگتیں اور مجھے شدید تشویش ہوتی۔ میرے اصرار پر دوست نے اپنی اس حالت کی وجہ یہ بتائی کہ اُس کو لگتا تھا کہ اناؤنسر کہہ رہا ہے کہ ”شمع بِنا پتی“، ”سحربِناپتی“ یہ سن کر اپنے دوست کی حالت کاتصور کرکے میری آنکھیں بھی دورخلا میں بھٹکنے لگیں اور خود کوسنبھالنے میں مجھے بھی کافی مشکل ہوئی۔
ایک دوست ایک دن بھرائی ہوئی آواز میں بڑے درد دل کے ساتھ کہنے لگے کہ دنیااب بہت ظالم ہوگئی ہے۔ وجہ پوچھی تو بہت ہی دکھی لہجے میں بتانے لگے کہ گئے وقتوں میں بندہ ابھی جوان بھی نہیں ہوتاتھا کہ اردگرد کے تمام لوگوں اور پورے قبیلے کو اُس کی بیوی کی فکر پڑ جاتی تھی مگر اب بندہ بلوغت کے تمام مراحل گزارنے کے بعد تقریباً ”فارغ البال“ ہوچکا ہوتا ہے مگر دنیا کو صرف اُس کی سی وی کی فکر ہوتی ہے۔

جو مرد چاہتا ہے کہ اُس کو بیوی ایسی ملے جووفا کی دیوی ہواوراُس کی سی وی بھی بہت اچھی ہو،وہ عموماً ایک سے زیادہ شادیاں کرتا ہے مگر کامیاب اکثراوقات پھر بھی نہیں ہوپاتا۔سی وی اچھی ہوجائے توبیوی اچھی مل جاتی ہے یابیوی اچھی مل جائے تو سی وی اچھی ہوجاتی ہے، یہ بحث بالکل ایسے ہی ہے کہ انڈہ پہلے تھایامرغی۔ جنت الفردوس کاحصول پاکیزہ سی وی کے بغیر ناممکن ہے تو دنیا میں بھی ”پاکیزہ“ کا حصول اب اچھی سی وی کے بغیر ناممکن ہے۔

میرے ایک دوست جوبی۔وی۔(بہاول وکٹوریہ)ہسپتال میں کام کرتے ہیں، ایک دن کہنے لگے کہ مجھے اپنے بیٹے کیلئے اچھی بیوی کی تلاش ہے آپ کوئی رشتہ بتائیں۔میں نے اُنہیں کہا کہ اگرایسے ہسپتال میں ہوتے ہوئے بھی اُن کو کوئی رشتہ اچھا نہیں لگتا جو ہے ہی بی۔وی ہسپتال تو وہ ابھی صرف اپنے بچے کی سی وی کی فکر کریں۔سی وی اچھی ہوگی تو بیوی بھی اچھی مل ہی جائے گی۔وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ اچھی سی وی کیا ہوتی ہے میں نے اُن سے کہا کہ پہلے آپ بتائیں کہ اچھی بیوی کیا ہوتی ہے؟۔ابھی تک ہم دونوں ایک دوسرے کے سوال کاتسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں۔آپ سب سے اس قضیے میں مدد کی اپیل ہے۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہے اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں