جوتے کی واپسی! ……………. تحریر ، عبداللہ مسعود

جوتا پاوں میں پہنا جاتا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں ثقافت اور ضرورت کے لحاظ سےکئی طرح کے ڈیزائن والے جوتے تیار کئے جاتے ہیں جسے مختلف رنگ و نسل کے لوگ استعمال کرتے ہیں تاہم جوتے کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو دنیا بھر میں کارکردگی کے لحاظ سے یکسانیت رکھتی ہے یہ وہ جوتا ہے جو دنیا بھر میں سیاسی دشمنی یا غصے سے بھرے افراد سیاست دانوں پر اچھالتے ہیں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایسی حرکات سے معاشرے میں پھیلی عدم برداشت ظاہر ہوتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے عراق میں خطرناک ہتھیاروں کاواویلا مچا کر حملہ کیا گیا وہاں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا جس وجہ سے اس وقت کے امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کے خلاف لوگوں میں نفرت بڑھی ، یہی وجہ تھی کہ عراق دورے کے دوران عراقی صحافی کی طرف سے جارج ڈبلیو بش کو دو جوتے مارے گئے، یہ وہ جوتے تھے جو سابق صدر کو لگے تو نہیں تاہم دنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔

پاکستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح جوتے، سیاہی پھینکے جانا نئی بات نہیں۔ کسی بھی معاشرے کی تربیت میں دینی ودیگر درس گاہوں کے ساتھ ساتھ سیاست دان بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اپنے کارکنان اور چاہنے والوں کو اختلاف رائے کرنا اور دوسری سوچ کی آواز اور عمل کو برداشت کرنا سیکھاتا ہے تاہم پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں سیاست دانوں کی طرف سے کارکنان کو مخالف سے شدید نفرت کرنا سیکھایا جارہا ہے ۔ اگر ماضی قریب میں نظر دوڑائی جائے تو موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے احتجاجوں کے دوران ایسی تقاریر کا سلسلہ تسلسل سے جاری رہا کہ ان کی جماعت کے ممبران کے علاوہ تمام سیاست دان کرپٹ اور غدار ہیں یا مذہب کی توہین کرتے ہیں ان کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا جائے۔ یہ الفاظ پارٹی کارکن یا عام شہری کےجذبات کو ابھارتےہیں یہی وجہ ہے کہ بعض جذباتی انسان انتہائی قدم نہ بھی اٹھائیں توبھی مخالف سیاست دان پر سیاہی یا جوتے سے وار کر دیتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات پاکستان میں بھی رونما ہو چکے ہیں۔

لاہور میں دینی درسگاہ کی تقریب کے دوران سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر جوتا اچھالا گیا اسی طرح خواجہ آصف پر سیاہی پھینکے جانا بھی عدم برداشت کی بڑی مثال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے جیسے ہم کئی بار صحیح ثابت ہوتا بھی دیکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کی تقریب میں عمران خان کے ساتھ موجود علیم خان پر بھی جوتا اچھالا گیا ۔ آزاد کشمیر میں انتخابات کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے جلسوں کا سلسلہ جاری ہے چند روز قبل جلسے کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پورکوبھی جوتا مارا گیا جبکہ اب تو بات انڈوں، ٹماٹروں اور پتھروں تک پہنچ گئی ہے اس عمل کا الزام مخالف پارٹی ن لیگ پر لگایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ یہ ان جوتوں کی واپسی ہو رہی ہے جو پی ٹی آئی کے کارکنان کی طرف سے مخالفین پر اچھالے گئے تھے اور امکان ہے آگے بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سیاست کو اگر نیک نیتی اور عوام کی خدمت کی غرض سے کیا جائے تو بڑی عبادت ہے تاہم سیاست دانوں کی طرف سے سیاست میں دوسری سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والےلیڈران کے خلاف نفرت انگیز الفاظ شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اپنے کارکنان اور سپورٹرز کو مخالف کی رائے کا احترام کرنے کا سبق پڑھانا چاہیے تاکہ آپ کے کارکن کی طرف سے مخالف سیاست دان کو مارا گیا جوتا واپس آ کر ان لیڈران کو نہ لگے اور معاشرے میں بہتر جمہوری روایات پروان چڑھ سکے ایک دوسرے سے اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں تاکہ سیاست دان، کارکن سمیت دیگر عام شہری میں بھائی چارہ بڑھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں