”مہنگابستہ، بچپن سستا“………. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

جب معاشرے میں ”بستہ“ کی قیمت بڑھتی جاتی ہے توبچپن کی چاشنی مٹتی جاتی ہے۔مہنگاجتنا”بستہ“ ہوگابچپن اُتنا ہی سستا ہو گا۔ جس کے ہاتھ میں قلم کتاب کی بجائے ٹائر اورپانے ہوں اور جس کامقدراُستادکے طعنے ہوں وہ بچپن میں بھی پچپن کا ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے جذبے حصول رزق کے رستے میں چھن جاتے ہیں اورخواب اُس عہد کی تنہائی نگل جاتی ہے۔شاید بچپن سے محنت کرنے والے بچوں کویہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ بھوک کے علاوہ بھی انسان میں کوئی جذبہ ہوتا ہے۔اُن کی عمر ایک ساعت میں پگھل جاتی ہے۔دن لمبے اورعمر تھوڑی ہوتی ہے۔ہر پل پہاڑ جیسا ہوتا ہے تو نسلیں خاک ہی خاک میں ملتی رہتی ہیں۔وہ خواب نہیں عذاب دیکھتے ہیں،اُن کادین،دھرم روٹی ہوتا ہے۔ تخیل کی پروازبھی روٹی،پیاز تک محدود ہو جاتی ہے۔جس دن روٹی کے ساتھ بوٹی بھی مل جائے اُن کی زندگی مکمل ہوجاتی ہے۔ جب امیر کے بچے کے ہاتھ میں ”بستہ“ ہوتا ہے تو غریب کا بچہ چولہے سے وابستہ ہوتا ہے۔اس لامحدودکائنات میں اُن کا واحد رشتہ ایک چولہے سے ہوتا ہے۔ اپنے گھر کا چولہا چلانے کیلئے وہ نسل در نسل ایک ہی مقام پر رُکے رہتے ہیں۔

دنیا کاتجربہ یہ کہتا ہے کہ بالاخروہی گھرانہ ہنستابستاہوتا ہے جس کے ہر بچے کے پاس اپناہرابھرا”بستہ“ ہوتا ہے۔”بستہ“ صرف ”بستہ“ نہیں، ترقی کا رستہ ہوتاہے جس سے نسلوں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔جس بچے کا بچپن اپنے ”بستے“سے پیوستہ ہوتا ہے وہی بڑا ہو کرقوم کی تقدیر بدل سکتاہے۔ایک چھوٹے سے ”بستے“کے ساتھ کتنے بڑے بڑے خواب وابستہ ہوتے ہیں،یہ بات شاید ایک غریب باپ ہی جان سکتاہے جو قوم آج اپنے بچوں کو ”بستہ“ نہیں دیتی،کل تاریخ اُس کو بقا کارستہ نہیں دیتی۔ جو قوم آج اپنے بچوں کو ”بستہ“ دینے سے عاری ہے کل وہ اقوام عالم کے در پہ بھکاری ہے،اُس پر جمود طاری ہے۔ اس کے افراد کی تقدیربے کاری ہے۔

بدقسمتی سے بہت سے لوگ اس بات پر کمر بستہ ہوچکے ہیں کہ ہمارے بچوں کے ہاتھ سے بستہ چھین کر ہتھیار کاآزار تھما دیں گے اور یوں قوم کا مستقبل گہنادیں گے۔ بستہ ”ب“ میں عموماً وہ لوگ جوان ہو کر شامل ہوجاتے ہیں جن کو بچپن میں ”الف“،”ب“ والا ”بستہ“ نصیب نہیں ہوتا۔اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ اُس کے افراد بستہ ”ب“ میں شامل نہ ہوں توارباب بست و کشاد کویہ بات یقینی بنانی چاہیئے کہ کسی کا بچپن ”الف“،”ب“ والے ”بستہ“ سے خالی نہ ہو۔

موجودہ دور کے ہمارے بچے بہت حساس اور سمجھدار ہیں۔میری بیٹی ”سارہ“ نے ایک دن اپنی ڈائری میں لکھا-:
قائد کی زندہ قوم پر پڑ گئی عجب افتاد
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے تاجر و استاد
اشعار کے اوزان پر نظر رکھنے والے ایک دوست کہنے لگے خیال اچھا ہے مگر وزن میں نہیں۔میں نے انہیں گزارش کی جس قوم کے استاد تاجر بن جائیں وہاں اشعار ہی نہیں،افکاربھی وزن سے خالی ہوجاتے ہیں اورایک دن اُس پوری قوم کا اقوام عالم میں کوئی وزن نہیں رہتا وہ اس بے وزنی کی کیفیت میں اِدھر اُدھر ڈولتی پھرتی ہے اور اپنا آپ رولتی پھرتی ہے۔جہاں تعلیم فقط ایک تجارت ہے وہاں بہتری کی ہر اُمید اکارت ہے۔اُس قوم کا مقدراقوام عالم کی حقارت ہے کیونکہ تعلیم،تعلیم نہیں زندہ رہنے کی مہارت ہے۔ استاد قوم کا مالی ہے، رتبہ اُس کا عالی ہے، کردار اُس کا مثالی ہے، مگر آج کا استادافکار سے خالی ہے،دھن مایہ کا سوالی ہے،اس کا مطمع نظر قوم کی تقدیر بدلنا نہیں اپنی رہائش اور زیبائش بدلناہے۔
”پوپ“ نے کہا تھا کہ انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہ سکتا مگر جن کی ساری زندگی پیٹ کے دوزخ کی نذر ہوجائے انہیں ”پوپ“ کی یہ بات بہت بڑا ”پاپ“ لگتی ہے۔جو قوم اپنے بچوں کے ہاتھ سے ”بستہ“چھین کر بوٹ پالش کرنے والا برش تھما دے، اُس کے مستقبل کے باغ میں اُمیدوں کے گلاب نہیں،صرف غربت کے عذاب اُگتے ہیں۔ اُس کے بہتر مستقبل کی اُمید فقط سراب ہے۔ غربت دنیا ہی نہیں آخرت بھی تباہ کردیتی ہے۔رحمت العالمین کافرمان ہے ”غریبی کفرتک پہنچادیتی ہے“۔جہالت بھی غربت کی بدترین شکل ہے۔جہالت،جہالت نہیں درحقیقت خجالت ہے۔تاریخ کی اپنی ایک عدالت ہے جس میں جاہل کی نہ کوئی وکالت ہے اُس کاماضی، حال اورمستقبل فقط ذلالت ہے۔
تقدیر کے قاضی کا ازل سے یہ فتوی ہے کہ”جرم ضعیفی کا مقدرہمیشہ مرگِ مفاجات ہوتا ہے“۔
سائنس بھی اس بات کی قائل ہے کہ صرف بہترین کاحق بقاہے اوربے علم کیلئے فنا ہے۔اللہ کی آخری کتاب بھی واضح طور پر کہتی ہے کہ ”عالم اورجاہل کبھی برابر نہیں ہوسکتے“۔

ایک شاعر نے کہا تھاکہ”دل کی بستی عجیب بستی ہے اور یہ بستے بستے بستی ہے“افراد کی طرح اقوام کا بھی دل ہوتا ہے۔ اس دل کی بستی میں اگرعلم کا نور نہ ہوتو وہ قوم اپنی ہستی سے جاتی ہے اورعدم کا قصہ بن جاتی ہے۔صوفیا کا کہنا ہے کہ اپنے آپ کو پہچان کر ہی خدا ملتا ہے جو قوم اپنے بچوں کو اپنی پہچان بنانے کا موقع نہیں دیتی باقی ساری دنیا اُن کو جان بھی جاتی ہے اور پہچان بھی جاتی ہے اور یہ مان بھی جاتی ہے کہ ایسی قوم سے جان پہچان کاکوئی فائدہ نہیں جس کو اپنی ہی پہچان نہیں۔

کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ بستہ“کے بغیر انسان، انسان نہیں اوراُس کا کوئی جہان نہیں -:
”پیوستہ رہ بستہ سے اوراُمید بہار رکھ“

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں