مجازی خدااورمزاجی خدا ! ………………………. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

مجازی خدا کی وجہ تسمیہ کے بارے میں اہل علم مرد اور خواتین کی رائے میں کافی تضاد نظر آتا ہے۔ مگر باقی معاملات میں بھی تو ان کی رائے میں مطابقت نہیں پائی جاتی۔ اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ وہ تمام آراء آپ کے سامنے لائی جائیں۔

مردوں نے مجازی خدا کہنا یا کہلوانا، کب شروع کیا۔ اس بارے میں تاریخ کے مطالعہ سے کوئی حتمی بات تو سامنے نہیں آتی مگر مختلف مفروضات پیش کیئے جاتے ہیں۔ایک مفروضہ یہ ہے کہ مرد حضرات کا محاورہ ہے تم مجھے نیازی کہو تو میں تمہیں نیازی کہو ں گا اسی طرح اپنے اپنے گھروں میں اپنی اوقات کو لے کر، ایک دوسرے کی خفت مٹانے کیلئے انہوں نے باہمی طور پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ اپنے اپنے گھر میں مجازی خدا ہیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک مجازی با ت تھی اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔مگر رفتہ رفتہ یہ بات کم از کم مرد حضرات کی حد تک قبول عام کی سند پا گئی۔

یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جب ہم اس لفظ کی ابتدا کے بارے میں حتمی طور پر نہیں جانتے تو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کسی عورت نے پہلی دفعہ یہ لفظ نہیں بولا ہوگا۔ ہم لفظوں کی تاریخ تو نہیں جانتے مگر عورتوں کی تاریخ جانتے ہیں۔ اس لیے کسی عورت پر یہ شک نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی کو مجازی خدا کہہ سکتی ہے۔ ایک بچہ سکول میں لڑنے کا بڑا شوقین تھا۔اس کا والد اس کو ماہر نفسیات کے پاس لے گیاماہر نفسیات نے کہا کہ بیٹا جب تمہارا کسی سے لڑنے کا دل کرنے لگے تودس تک گنتی گِن لیا کرو۔والد نے فوراََ کہا کہ اس سے ترکیب سے بچہ ٹھیک نہیں ہونے والا۔ ماہر نفسیات نے کہا کہ آپ نفسیات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ باپ نے فی البدیہہ جواب دیا کہ آپ بھی پپو اور اس کی ماں کے جنگجو ئی کی صلاحتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس لیے یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی عورت میاں کو مجازی خدا کہے۔ وہ تو یہ مجازی طور پر بھی نہیں کہ سکتی۔

مرد کو ” مجازی خدا” کیوں کہا جاتاہے اس بارے میں مردانہ لسانیات پر نظر رکھنے والی ایک ماہر کا کہنا ہے کہ مرد حضرات شروع سے ہی ایک دوسرے کو بے وقوف بنانے کے شوقین رہے ہیں۔ ایسے ہی کسی مرد نے دوسرے مرد کو مذاقاََ کہہ دیا ہوگا کہ وہ” مجازی خدا” ہے اور وہ سچ سمجھ بیٹھا ہوگا۔اور آج ان کا یہ مذاق لغت کا حصہ بن چکا ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ حضرات اپنے رقیب سے دھوکہ دہی کرکے اس کو انجام تک پہنچانے کیلئے کوئی بھی سازش کر گزرتے ہیں۔ یہ لفظ بھی کسی ایسی سازش کا شاخسانہ لگتاہے۔ کوئی مرد اپنی محبوبہ کے شوہر سے چھٹکارا پانا چاہتا ہوگاتو اس نے شوہر کے اپنے گھر جاتے وقت اسے کہا ہوگاکہ تم کوئی عام انسان تھوڑا ہو تم تو ” مجازی خدا” ہو۔ اس کے بعد گھر جانے والے شخص کے انجام کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔

ایک تاریخ دان خاتون کا کہنا ہے کہ مرد نے خدا کیا مجازی ہونا ہے۔ہر زمانے میں بہت سارے مرد تو مرد بھی مجازی طور پر ہی ہوتے ہیں۔ جیسے آدمی ہونے سے ہر کوئی انسان نہیں ہو جاتا ایسے ہی مرد کہلانے سے ہر کسی میں مردانگی نہیں آجاتی۔ جیسے گلاب کو کسی بھی نام پکارو وہ گلاب ہی رہتا ہے اسی طرح سراب کو کسی نام سے پکارو سراب ہی رہتا ہے۔مجازی خدا کہنے سے کوئی خدا تو کیا مرد بھی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ بناوٹ کے اصولوں سے سچائی چھپ نہیں سکتی اور خوشبو کاغذی پھولوں سے آ نہیں سکتی۔

ایک سماجیات کی ماہرکہتی ہیں مرد نہ مجازی طور پر خدا ہو سکتا ہے اور نہ مزاجی طور پر۔حقیقی خدا نے تو شیطان کو بھی اپنی بات کی وضاحت کا موقع دیا اور مہلت دی۔ ادھر ” مجازی خدا” بننے کے شوقین آئے دن کسی کی کائنات، وضاحت کا موقع اور مہلت دیئے بغیر اجاڑ دیتے ہیں اور ”کن” کہنے کی بجائے ان کے ” گن” صرف ” طلاق،طلاق،طلاق” کہنے تک محدود ہوتے ہیں۔

خواتین تاریخ دان یہ کہتی ہیں کہ آج تک تاریخ میں ایک واقعہ ایسا نہیں ملے گا جب کسی عورت نے خدائی کا دعوی کیا ہو۔مردوں کی عقل کا یہ حال رہا ہے وہ ہر دور میں خدائی کا دعوی کر بیٹھتے ہیں۔ مرد حضرات اکثر اوقات نہ صرف یہ دعوی کر بیٹھتے ہیں بلکہ دعوی کیئے بغیر بھی ہر مرد خود کو مجازی خدا تو سمجھتا ہی ہے مگر طاقت اپنی مجازی خدا سے بہت زیادہ سمجھتا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ مرد اپنی ہر تخلیق کیلئے عورت کا محتاج ہے۔ عورت کے بغیر مرد نہ بچہ پیدا کر سکتا ہے نہ غزل لکھ سکتا ہے صرف ایک دوسرے کی ہزل لکھ سکتا ہے۔

ایک خاتون پروفیسرکا کہنا ہے کہ مرد حضرات گلہ کرتے ہیں کہ وہ عورت کی وجہ سے جنت میں سے نکالے گئے ہیں۔جبکہ شیطان ان کا ہم صنف ہے۔ کائنات میں خرابیوں کی جڑ مذکر ہیں جو کبھی خدا کے حکم کے آگے بغاوت کرتے ہیں تو کبھی اپنی بیوی سے شرارت کرتے ہیں۔ خدا کی مانتے نہیں مگر” مجازی خدا” بننے کی دھن ہر وقت ان کے سر پر سوار رہتی ہے۔ خواتین مزاجی طور فقیر ہوتی ہیں اور اس لیئے مرد حضرات پل بھر میں خدا بن بیٹھتے ہیں اور منہ کی کھا کر بھی سبق نہیں سیکھتے۔

جب پہلے پنجابی مرد نے خود کو مجازی خدا کہا تو اس کی بیوی کا ” ہاسا” نکل گیا اور تب سے یہ بات زبان زد عام ہے ” ذات کی چھپکلی،وہ بھی کل کی اور جھپے چھیتروں کو”

ایک اور خاتون محقق یہ کہتی ہیں کہ مرد کے مجازی خدا کے لقب کے پیچھے اس کا خود پر بے جا اعتماد ہے۔ مرد یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس شکل اور عقل کے ساتھ شوہر بن سکتے ہیں تو کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیئے اپنے لیے اس طرح کے نام گھڑ لیتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔

ایک اور خاتون جو روحانیت یہ کافی یقین رکھتی ہیں وہ یہ کہتی ہیں کہ مجازی خدا کا لفظ ان عورتوں کی تخلیق ہے جن کے میاں نکھٹو، کاہل اور بیکار تھے۔ ہر وقت گھر پڑے رہتے تھے،اخر ایک دن ایک عقل مندخاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے اپنے شوہرِ نام دار کو بتایا کہ اخر کو وہ بھی مجازی خدا ہے حقیقی خدا تو کبھی نظر نہیں آتا اسی لیے مجازی خدا کو بھی دن کا کچھ حصہ کم از کم بیوی کو نظر نہیں آنا چاہیے۔

اردو ادب میں مجازی خدا کا لفظ مجازی طور پر آیا ہے یا حقیقی طور پہ، اس پر بھی بحث جاری ہے مگر کوئی واضح نتیجہ آج تک اخذ نہیں کیا جا سکا۔ خواتین شدت سے اس بات پر اعتراض کرتی ہیں کہ اردو ادب میں یہ لفظ آیا ہی کیوں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اس لفظ سے اردو کی شان میں نہیں ابہام میں اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ مرد اس بات کا مجاز نہیں ہے کہ خود کو مجازی خدا کہہ سکے۔مزید ان کا یہ کہنا ہے کہ مردوں میں شروع سے یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات اور اپنی اوقات سے تجاوز کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ لفظ بھی اس بات کی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مرد حضرات عقل سے زیادہ جذبات کی پیروی کرتے ہیں اپنے منہ میاں مٹھوبننے کا شدید شوق رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی اپنے منہ نہ صرف میاں مٹھو بن جاتے ہیں بلکہ مجازی طور پر ہی صحیح خود کو خدا کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اگرچہ تاریخ میں بہت سارے مرد حقیقی طور پر بھی خدائی کا دعوی کر چکے ہیں۔اکثر مرد حضرات کا کردار مجاز جیسا ہوتا ہے اور وہ مجاز کی طرح عقل خرد سے بیگانہ ہو کر ہر طرح کے دعوے کر جاتے ہیں۔مردوں کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ جس کام کو کرنے کے مجاز نہ ہوں اسی کو کرنے کے زیادہ شوقین ہوتے ہیں اور یہ عادت تو جنت میں بھی ان میں پائی جاتی تھی۔ جس شجر کو وہ چکھنے کے مجاز نہ تھے اسی شجر کو چکھ کر رہے۔ مرد بے شک خود کو مجازی خدا کہہ سکتا ہے مگر خواتین مردوں کے اس طرح کے بلند و بانگ دعوی جات کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ مدعی لاکھ برا چا ہ کر بھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

ایک اور ماہرلسانیات کہتی ہیں مرد کو مجازی خدا کہنے والوں کی عقل پر ماتم کیا جا سکتا ہے ہاں ان کو صرف مجازی کہنے والوں کی تحسین کی جا سکتی ہے کیوں کہ ان کا موقف حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔

(کالم نگار نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پنجاب حکومت کا حصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں