”قربانی ، جوانی اورنفس کی شیطانی“ تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

بعض لوگوں کو اپنے قربانی کے جانورکی خوبصورتی کی فکر اپنے کردار کی خوبصورتی سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس رویے سے اُن کی عقل اور ان کے نفس کی شکل کااندازہ لگایاجاسکتا ہے۔بعض لوگوں کو قربانی نادانی لگتی ہے تو بعض لوگ ان کو نادان سمجھتے ہیں جو کسی مقصد کے لیے اپنا سب کچھ قربان نہیں کر سکتے۔حضرت ابراہیمؑ ہردور کے خوبصورت ترین مومن ہیں مگر آج کا دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے مگر ہرطرف بتانِ وہم و گماں کا راج ہے اگرچہ میسر ہمیں قرآن کی صورت میں ہدایت کا سراج ہے مگر ہماری زندگی قرآن پاک سے کٹی ہوئی ہے ہماری روح ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے،ہماری شخصیت دنیا داری کی گرد سے ہٹی ہوئی ہے۔ہمارے کردار کی قباجگہ جگہ سے پھٹی ہوئی ہے۔

جوانی میں اگر خواہشات نفسانی کو دل کی رانی بنالیا جائے توجوانی تباہ اوربڑھاپابرباد ہوجاتا ہے انسان فکر آخرت سے بظاہر آزاد ہوجاتا ہے مگردرحقیقت اندر سے ناشاد ہوجاتا ہے اوراپنے ہم نفسوں کیلئے باعث فساد ہوجاتا ہے۔

بعض لوگ ساری زندگی کسی کے لیے قربانی دیتے رہتے ہیں تو بعض لوگ ساری زندگی کسی سے قربانی لیتے رہتے ہیں۔ ہمارے بزرگ اس وطن پر قربان ہوگئے اورآج کے دور میں کئی لوگ اپنے معمولی خواہشات پرملکی مفادات قربان کیئے جارہے ہیں۔کئی عام آدمیوں کو کسی نظریے کیلئے دی گئی اُن کی قربانی لافانی بنا دیتی ہے تو بعض خودساختہ کرداروں کے فانی ہونے کا پتہ ہی اس وقت لگتا ہے جب کسی اعلیٰ مقصد کیلئے قربانی دینے کاوقت آتا ہے۔

ہماری جوانی کو خواہش نفسانی نگل چکی ہے،ہماری قربانی سے اصل روح نکل چکی ہے۔ہم نے جتنی عمرگزاری ہے۔ معاشرے پہ منافقت کی فضا طاری ہے۔دنیا کی خاطر ساری مارا ماری ہے۔ ہمارا شعارفقط دنیا کی پردہ داری ہے صدافسوس! اگر ہمارے حالات ایسے ہی رہے تو آخرت میں ہمارا انجام فقط آہ و زاری ہے۔

قربانی اور پیار کی حقیقت کے بارے میں دنیا کے ہر ادب میں بہت بحث کی گئی ہے۔ میرے خیال میں پیارقربانی کاہی دوسرا نام ہے اورکسی کیلئے اپنی پسندیدہ چیز کی قربانی دینے پیار کی بہترین شکل ہے۔ایک شاعرنے کہا تھاکہ زمانہ جسے پیار کہتا ہے اصل میں اُس کانام قربانی ہے۔ ہمارے معاشرے کی ہرایک عام عورت اس کی زندہ مثال ہے۔وہ بچپن میں اپنے والدین اوربہن بھائیوں کیلئے پورے خلوص اور خوشی کے ساتھ اپنی ہرخواہش قربان کردیتی ہے۔اُس کی جوانی شوہر کی تابعداری میں ہرقربانی دیتے ہوئے گزر جاتی ہے۔بڑھاپے میں وہ اولاد کی خوشی کیلئے اپنا سارا کچھ پوری رضامندی کے ساتھ قربان کردیتی ہے اس لیئے شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے رحم کیلئے ماں کی مثال دینا پسند کی ہے۔

ہماری تاریخ میں قربانی کی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اورانسان کو اپنے انسان ہونے پر بجا طور پر احساس تفاخر بھی ہوتا ہے اوراُس کا دل شکرمندی کے جذبات سے بھی بھر جاتا ہے۔ہمارے جدامجد حضرت آدم کو جب اندازہ ہوا کہ وہ نادانی میں ایک بھول کاارتکاب کربیٹھے ہیں تو انہوں نے اللہ پاک سے اتنی گریہ زاری کی کہ اللہ کو اُن کے آنسوؤں کی قربانی پسند آگئی اوراللہ پاک نے اُن کوہرطرح کے انعامات سے نوازا۔حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کواللہ پاک نے آخرت تک تمام لوگوں کیلئے ایک مثال بنادیااورلازوال بنادیا۔حضرت اسماعیل ؑ کارویہ بھی جملہ انسانیت کیلئے باعث تقلید ہے انہوں نے اپنے والد کے حکم کے آگے اپنی ذات کی قربانی کو پوری تابعداری کے ساتھ قبول کیا اوراپنے دل میں کسی وہم وگمان کو جگہ نہ دی۔

میرے خیال میں جملہ انسانیت کیلئے سب سے زیادہ قربانی دینے والی ہستی ہمارے پاک پیغمبر حضرت محمدﷺ ہیں جس ہولناک دن تمام انسان اپنی ذات کیلئے معافی کے طلبگار ہوں گے ہمارے پاک پیغمبر اُس وقت بھی اپنی اُمت کی بخشش کیلئے مناجات کررہے ہوں گے۔جس ہستی پر خودقادرمطلق درودپاک بھیج رہا ہے وہ ہستی پیدا ہوئی تو یتیمی کاغم آپ کے ساتھ دنیا میں آیا۔کتنی ہی ہستیاں جن سے آپؐ کو پیار ہوا،وہ اللہ پاک کو پیاری ہوگئیں۔آپ نے والدہ ماجدہ،داداحضور،شفیق چچا،رفیقہ حیات، عزیزازجان اولادکواپنی نظروں کے سامنے اس جہان سے رخصت ہوتے دیکھا۔اپنے وطن سے ہجرت کی۔ اپنی اُمت کی بخشش کیلئے ہر گھڑی اپنے آرام کی قربانی دی۔فلاح انسانیت کیلئے آپ کی زندگی کاہرلمحہ وقف تھااورہمارے لیئے آپ کی مثال سب سے بڑھ کرقابل تقلید ہے۔

اللہ کے آخری نبی ﷺسے جب پوچھاگیاکہ اللہ کی راہ میں کیا قربان کیاجائے تو آپؐ کے احکامات کا خلاصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ جو بھی چیز جواپنی ضرورت سے زائد ہواوربہترین ہو۔اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے پاک پیغمبر کے اس پیغام پرپورے دل و جان سے عمل کیا انہوں نے اپنا تن،من،دھن فلاح انسانیت کیلئے قربان کردیا۔اسلام کی تاریخ قربانی کی تاریخ ہے۔ اسلام ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں ایک انسان اپنے جسم و جان کی قربانی دے کر اللہ پاک کی رضا خرید لیتا ہے اورامر ہوجاتا ہے۔

جنگ یرموک میں قربانی کا ایک شاندار واقعہ ملتا ہے ایک شخص پانی لے کر میدان جنگ پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ایک زخمی پیاس سے جان بلب ہے جب وہ پانی لے کر اُس کے قریب پہنچاتو دوسری طرف سے آواز آئی ”پانی“،”پانی“ زخمی نے پانی پینے سے انکار کردیا اور اُسے دوسری طرف جانے کا اشارہ کیا اورکہا کہ پہلے اسے پلاؤ شاید اسے مجھ سے زیادہ پیاس لگی ہوجب وہ دوسرے کے پاس پہنچاتو ایک اور زخمی نے پانی مانگادوسرے نے بھی اشارہ کردیا کہ پہلے اسے پلاؤوہ تیسرے زخمی کے پاس پہنچاتو وہ جان جان آفرین کے سپرد کرچکاتھاوہ دوسرے کے پاس آیاتو اس کی روح بھی پرواز کرچکی تھی وہ دوڑ کر پہلے کے پاس پہنچاتو وہ بھی اللہ کو پیارا ہوچکا تھا۔ یہی قربانی کااصل فلسفہ ہے۔جملہ الہامی کتابیں قربانی کے فضائل بیان کرتے ہیں میرے خیال میں ایک انسان کاضابطہ حیات جوبہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے
“Thy need is greater than mine”
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے اس بات اظہار نہایت مسرت کے ساتھ کیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجوددوسروں کیلئے ایثار کرتے اوراُن کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔
انسانیت کی اور قربانی کی تاریخ حضرت حسینؓ اوراُن کی قربانی کے ذکرکے بغیراُدھوری ہے۔حضرت حسین ؓ نے رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کردی کہ مسلمان اُصول پر زندہ رہتا ہے اور اُصول کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دے سکتاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اُن لوگوں میں شامل ہونے سے بچائے جن کے دل امام اورایمان کے ساتھ ہوتے ہیں مگر جن کی قوت اورمحنت ہمیشہ باطل کی فتح کیلئے وقف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ کی قربانی کے صحیح فلسفے کوسمجھنے اوراس پرخلوص نیت سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں