”جو بکرے نے مارا بکری کو سینگ“ …. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

کسی زمانے میں شاعر نے کہا تھا کہ
”جو بکرے نے مارا بکری کو سینگ
تو بکری بھی مارے گی بکرے کو سینگ“

شعر کے نفس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ شعر او رشاعر دونوں گوگل اور انٹرنیٹ سے پہلے کے دور کے ہیں۔جب انسان کی معلومات نامکمل تھیں اور اس شاعر کاتوتخیل بھی محدودتھا٭۔شاعراگر گوگل اور انٹرنیٹ کے دور کاہوتا تو اُس کی سمجھ شریف میں یہ بات آچکی ہوتی کہ اگر بکرا،بکری کوقصداً یا سہواً سینگ مار بیٹھے تو پھربکری اُسے صرف سینگ نہیں مارتی اور بھی بہت کچھ مارتی ہے بلکہ اتنا کچھ مارتی ہے جس کو گننا انسان کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ یہ گنتی تو کوئی عام کمپیوٹر بھی نہیں کرسکتا صرف سپرکمپیوٹر ہی کر سکتا ہے٭۔ بکرے کو عموماً بکری کی مار کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔بکرے کا دل تو تب ٹوٹتا ہے جب بکری اُسے غیروں سے مرواتی ہے۔ یہی بات اُسے تڑپاتی ہے٭۔

ہمارے ایک شاعر جو اس اُمت کے حکیم بھی ہیں اوربجا طور پر اُمت کی رگ رگ سے واقف ہیں، بہت پہلے فرماگئے تھے کہ اگر بکری کی ذات چھوٹی بھی ہوتو دل کو اُسی کی بات لگتی ہے۔بکرے کی بات عموماً نظر انداز کردی جاتی ہے٭ علامہ اقبال اُمت کی نبض پہچانتے تھے، اسی لیئے کہہ گئے -:
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی

اگرچھوٹی ذات کی بکری کی بات بڑی ہوتی ہے تو بڑی ذات کی بکری کی بات کی کیا ہی بات ہوگی٭۔

جیسے دانا خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے ایسے ہی بکراکو اگراچھے قصائی اوراچھے نائی کے ہاتھ لگ جائیں توانتہائی لذیزڈش تیار ہوجاتی ہے۔لوگوں کو بکرا تو یاد نہیں رہتا مگر لذیزکھاناساری عمر یاد رہتا ہے۔شاید اسی کو کہتے ہیں -:
کسی کی جان گئی
کسی کی ادا ٹھہری٭

جیسے زندہ ہاتھی لاکھ کا ہوتا ہے تو مردہ سوا لاکھ کا۔ایسے ہی بکرا زندہ بھی قیمتی ہوتا ہے مگر جب بکرا ”ڈکرا“ بن جائے بلکہ ڈکرے ڈکرے ہوجائے تو اس کی قدروقیمت میں اضافہ ہوجاتاہے۔انسان کاکردار حالات کی بھٹی میں تپ کر اکسیر ہوجاتا ہے ایسے ہی بکرا کڑاہی میں پک کر بے نظیر ہوجاتا ہے٭۔

آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر مناسکتی ہے مگر ہمارے ہاں بکرے کی ماں ”بھار“ضرور مناتی ہے ’’بھار“ مقامی زبان میں غرورکوکہتے ہیں ٭۔بکری کی ماں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب تک خیر منائے گی اوروہ بیچاری تو ”بھار“ بھی نہیں مناسکتی٭۔ بکرے عموماً حال مست اور کھال مست ہوتے ہیں۔بکروں کا قومی شعار یہ ہے کہ ان کو جہان کی کوئی فکر نہیں ہوتی اور وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتے ہیں -:
”مجھے فکر جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یہ میرا“٭

بکروں کو سب سے بڑی پریشانی یہ رہتی ہے کہ یہ دنیا مطلب کی ہے،اُن کی نہیں ہے۔کئی بکرے اسی اُمید پہ زندہ ہیں کہ دنیا کبھی نہ کبھی اُن کی ہو جائے گی۔ دنیاآج تک بڑے بڑوں کی نہیں ہوئی تو کسی بکرے کی کیسے ہوسکتی ہے۔٭بکرے کے چال چلن سے زیادہ اس کا قد و قامت اور وزن دیکھا جاتاہے۔ بکرے کی زندگی تو ویسے بھی عارضی ہے۔ لوگوں کی نظر میں کچھ بکرے ٹیڈی ہوتے ہیں توکچھ ریڈی۔بکری کے سامنے تمام بکرے ہی ٹیڈی ہوتے ہیں اور بکرا ٹیڈی ہو یا نہ ہو بکری کے ایک اشارے پراپنی جان دینے کے لیے عموما ریڈی ہو تاہے٭۔

ایک دل کے ٹکڑے ہزار ہو سکتے ہیں اور وہ یہاں وہاں بھی گر سکتے ہیں مگر ایک بکرے کے ٹکڑے گنے چنے ہی ہوتے ہیں اور ان میں سے قصائی کے پاس چنے ہوئے ہی آتے ہیں اور وہ ان کواپنے چنے ہوئے لوگوں کوہی دیتا ہے٭۔اس چنن چنائی میں عام آدمی کے لئے بکرازندہ یا مردہ ہرجائی ثابت ہوتا ہے اوراُس کے دل کے ارمان آنسووں میں بہہ جاتے ہیں شرمندہ بل نہیں ہوتے٭۔

ہمارے علاقے کے ایک شاعر کا جب اپنی محبوبہ سے جھگڑا ہوا تو اس نے محبوبہ کو تڑی لگائی کہ اگر جھگڑا ہو بھی گیا ہے تو کیا۔ وہ کوئی گھاس پھوس توہے نہیں جس کو محبوبہ اکھاڑ کے کہیں دفن کر دے گی۔ بکرے کا اگر اپنی بکری سے جھگڑا ہوجائے تو وہ تڑی لگانے کی پوزیشن میں ہوتاہے یانہیں اس بارے میں سائنس توخاموش ہے مگر گمان یہ ہے کہ وہ بالکل تڑی لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتازیادہ تر بکرے صلح جو ہوتے ہیں اور ظلم و زیادتی کو گاندھی جی کے ”آہنسا“کے تمام اصولوں کے عین مطابق برداشت کرتے ہیں ٭۔

ایک صاحب ایک دفعہ بڑے تفاخر کے ساتھ ملک و ملت کے لیے اپنی خدمات گنوا رہے تھے اگرچہ ان کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ ان کی خدمات گنتی میں نہیں آسکتی۔کافی دیر ان کا بھاشن سننے کے بعد ایک صاحب جو شاید کسی زمانے میں محکمہ انسداد بے رحمی حیوانات سے وابستہ رہ چکے تھے کھڑے ہوگئے اور بصد احترام کہنے لگے کہ آپ کی خدمات سے انکار نہیں مگر یہاں ان بکروں کے لیے بھی اک کلمہ تحسین کہنا بے جا نہ ہوگا جو ان خدمات کی بجاآواری میں آپ کے معاون ثابت ہوئے اور جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر آج آپ کویہاں کھڑے ہوکرہمارے علم میں اضافہ کرنے کاموقع فراہم کیا٭۔

ہمارے ملک کے تمام علاقوں میں بکروں کی بڑی قدروقیمت ہے۔کہیں بکروں کی سجی پسند کی جاتی ہے تو کہیں بکرے کی سجی کھبی ران سمیت ہرچیز بڑی رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ کہیں بکرے کوسجایاجاتا ہے تو کہیں بکرے کاروسٹ بنایا جاتا ہے کہیں بکروں کی ٹکاٹک بن رہی ہوتی ہے تو کہیں بکروں کی ٹک ٹاک بن رہی ہوتی ہے۔٭

دنیا ایسی ظالم جگہ ہے جہاں کئی لوگ ساری زندگی محنت کرتے رہتے ہیں مگر ان کی دکان پرعمربھر اتنی”بکریِ“ نہیں ہوتی کہ وہ ایک بکری ہی خرید سکیں ٭۔کچھ لوگ ساری زندگی بکرے پالتے رہتے ہیں اوران کو دوسروں کیلئے سنبھالتے رہتے ہیں مگر خود بکرے کے گوشت کو ترستے رہتے ہیں۔٭

زندگی کسی کے لیے خواب، تو کسی کے لیے عذاب ہے مگرکسی بکرے کی قربانی ایک ایسا کار ثواب ہے جو صرف اس مومن کو حاصل ہوتا ہے جوجانتا ہے کہ قربانی کیا چیز ہے؟قربانی کے جذبے کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ قربانی بھلے کوئی دے، اس کے ثمرات میں حصہ سب کا ہوتا ہے٭۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں