حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) …… تحریر و ہدیۂِ عقیدت، احمد ثبات قریشی الہاشمی

سرزمینِ فیصل آباد پہ ربِ ذوالجلال نے ایسی ایسی باکمال شخصیات کو پیدا کیا ہے کہ جن کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے علماء اکرام کی جانب نگاہ دوڑائیں تو کہیں محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد(رح) اپنے صاحبزادگان مریدین و عقیدت مندان کے ساتھ “مصطفیٰ(ﷺ) جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” کی صدائیں بلند کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں مفتی زین العابدین(رح) شریعت و طریقت کی شمع جلائے دکھتے ہیں۔کہیں مولانا عبدالقادر شہید(رح) مولانا معئن الدین(رح) اور صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری(رح) کے ساتھ جامعہ قادریہ کے ذریعے دینِ معین کو علماء کی کثیر تعداد ہر سال دیتے نظر آتے ہیں تو کہیں حضرت مفتی محمد امین(رح) اپنے خانوادے کے ساتھ “آبِ کوثر” کے ذریعے بے شمار لوگوں کے قلب و زبان پر درود و سلام جاری کر کے قربتِ مصطفیٰ(ﷺ) کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔کہیں بلال مسجد اور مرکزِ اسمٰعیل سے جماعتوں کی جماعتیں تعلیم و تبلیغ کے لیئے دنیا بھر کے سفر کے لیئے روانہ ہوتی ہیں تو کہیں حضرت مولانا اشرف علی ہمدانی(رح) کی پرسوز دعا کا اثر لینے دنیا کی دنیا اُمڈتی آتی ہے۔کہیں مولانا اسحٰق(رح) اتحاد بین المسلمین کا درس دیتے دکھتے ہیں

بعین ایسے ہی صاحبانِ فقر اصحابِ طریقت و خانقاہوں پہ نگاہ کریں تو صاحبانِ طریقت کی بڑی بڑی قدآور شخصیات آج بھی اپنا فیض جاری و ساری کیئے ہوئے ہے کہیں حضرت بابا لسوڑی شاہ(رح) اپنی چوکھٹ پہ آنے والے زائرین کے لیئے دروازے کھلے بیٹھے دکھتے ہیں کہیں حضرت بابا نولکھ ہزاری(رح) سہروردی فیض کی مالا سے زائرین کو مستفید فرماتے ہیں کہیں حضرت خواجہ سید ظہور محمد مہاراج(رح) حضرت حاجی غلام رسول(رح) حضرت حاجی غلام علی(رح) اور حضرت میاں سخاوت علی چشتی(رح) کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے شہر فیصل آباد کی فضاؤں کو اجمیر شریف کی مہک سے معطر کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں حضرت بابا رنگ علی سرکار(رح) قلندرانہ چولہ پہنے دنیا سے بے نیازی کا درس دیتے دکھتے ہیں۔کہیں حضرت صوفی برکت علی لدھیانوی(رح) حضرت خاں عبدالصمد خاں(رح) اور حضرت صوفی محمد شفیع(رح) کے ساتھ “یاحییُ یاقیوم” کے ورد کی مالا جپتے بےشمار روحانی و جسمانی مریضوں کے مسیحا بنتے دکھتے ہیں تو کہیں حضرت بابا قائم سائیں سرکار(رح) “اللّٰہُ الصمد” کے ذکر کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔کہیں حضرت قیس چشتی(رح) اپنے فرزندِ ارجمند حضرت پروفیسر افتخار چشتی(رح) کے ساتھ جامعہ چشتیہ میں بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرتے نظر آتے ہیں۔کہیں حضرت نعیم چشتی(رح) صابری دربار سے صابری فیض کی سبیل سے راہِ طریقت کے پیاسوں کی پیاس بجھاتے دکھتے ہیں تو کہیں صوفی محمد عاشق(رح) حضرت خواجہ محمد معصوم(رح) کے بتائے ہوئے درس کے مطابق “اللّٰہ ھو” کے ذکر کی صدائیں بلند کرتے نظر آتے ہیں۔تو کہیں حضرت دیوان شاہ صابری(رح) کے خلیفہ حضرت رستم علی شاہ(رح) بسم اللّٰہ پور شریف میں بیٹھے ” بسم اللّٰہ الرحمٰنِ الرَّحِیم” کے فیوض و برکات سے آنے والے زائرین کے قلوب معطر کرتے نظر آتے ہیں ۔ایسے ہی بےشمار خانقاہیں و درگاہیں سالکینِ طریقت کی روحانی منازل میں ترقی اور معرفتِ الہٰی کے فیض کے حصول کے لیئے راہنمائی و ہدایت کا سرچشمہ بنے بیٹھے ہیں

انہیں خوبصورت تاروں کی کہکشاؤں میں ایک خوبصورت اور روشن تارہ جسے صاحبانِ طریقت و معرفت امیرِ شہر فیصل آباد حضرت بابا نور شاہ ولی العربی (رح) کے نام سے پکارتی ہے جو صدیوں سے اس سرزمین کی گود میں آرام فرما ہیں حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کے حوالے سے کوئی بھی مستند اور قوی روایت موجود نہ ہے۔البتہ گزٹ آف لائیلپور میں انگریز مؤرخین نے ان کے حوالے سے تحریر کیا ہے
مصدقہ روایات کے مطابق انگریز افسران سرگودھا سے جھنگ کا جب سفر کرتے تھے تو ساندل بار کی سرزمین پہ ایک چھوٹا سا گاؤں بنتا تھا جو تقریباً اس سفر کا درمیان بنتا تھا اسے پکی ماڑی کے نام سے پکارا جاتا تھا یہاں چند محدود گھر تھے ان گھروں سے کچھ فاصلے پہ ایک چھوٹا سا مزار شریف تھا اور اس مزار شریف کے احاطے میں ایک کنواں موجود تھا آنے جانے والے مسافر اس دربار شریف پہ رکتے کچھ سستاتے اپنے اور اپنے جانوروں کی پیاس بجھاتے پھر اگلے سفر پہ چل نکلتے انگریز افسران بھی اس مزار شریف پہ قیام کرتے۔مقامی لوگوں سے جب اس دربار شریف کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کا مزار شریف ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق وہ اس شخصیت کے حوالے سے ذیادہ نہیں جانتے فقط اتنا ہی بتا سکتے تھے کہ پہلے یہاں نہ قبر تھی نہ اس کا کوئی نشان تھا ان کے مطابق وہ اپنے جانور چرانے کے لیئے یہاں لاتے تھے اور ایک خاص مقام پہ آکر ان کے جانور ڈر جاتے تھے انکا خیال تھا شاید یہاں کوئی جن یا بھوت پریت کا سایہ ہے اسی بناء پر وہ اس جگہ سے اجتناب کرتے تھے اس معمہ کا ذکر انہوں نے ایک بار سیال شریف کے معروف بزرگ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی(رح) سے کیا حضرت(رح) نے فرمایا کہ جب کبھی ان کا ہمارے علاقے کے پاس سے گذر ہوا تو اس جگہ جگہ کو دیکھیں گے اور پھر حتمی رائے دیں گے حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی(رح) کا ایک بار اس علاقے کے پاس سے گزر ہوا آپ(رح) نے اس مقام کا مشاہدہ فرمایا اور اس مقام پہ مراقبہ فرمایا آپ(رح) نے جب آنکھیں کھولیں تو تبسم آپ(رح) کے چہرے پر عیاں تھا آپ(رح) نے فرمایا کہ “ساتھیو یہاں کوئی جن یا بھوت پریت نہ ہے بلکہ اس مقام پہ اللّٰہ کے ایک بہت بڑے ولی دفن ہیں” آپ(رح) کے حکم پر کھدائی کروائی گئی اور اس مقام سے حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کا جسدِ مبارک واضح ہوا بعد ازاں حضرت بابا نور شاہ ولی(رح) کی قبر دوبارہ صحیح طریقے سے تعمیر کی گئی اور مزار شریف و کنواں کی تعمیر کی گئی۔مقامی لوگوں کے مطابق جب حضرت شمس الدین سیالوی(رح) سے ان کے حوالے سے پوچھا گیا تو آپ(رح) نے فرمایا کہ میں ان بزرگوں کا اصل نام تو نہیں بتا سکتا کہ اس کی اجازت نہیں فقط اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ آپ(رح) حضرت علی(کرم اللّٰہ وجہُ الکریم) کی اولادِ پاک میں سے ہیں اور آپ(رح) تبلیغِ دین کے لیئے عرب سے ہندوستان تشریف لائے تھے۔اس سے زائد کسی کے پاس بھی آپ(رح) کے حوالے سے معلومات نہ تھیں۔

انگریز سرکار نے جب سوچا کہ سرگودھا اور جھنگ کے درمیان کوئی شہر آباد کرنا چاہئیے تو حضرت بابا نور شاہ ولی(رح) کے مزارِ اقدس کے قریب کی جگہ کا انتخاب کیا گیا اور پکی ماڑی سے کچھ فاصلے پر شہرِ لائیلپور کی بنیاد رکھی گئی جو وقت گزرنے کے ساتھ آج فیصل آباد کے نام سے پوری دنیا میں جانا اور پہچانا جاتا ہے حضرت بابا نور شاہ ولی(رح) کا مزارِ پرانوار جس مقام پہ ہے آج سے کم و بیش ایک ہزار سال قبل یہاں دریائے چناب بہتا تھا دریا نے بحکمِ الہٰی اپنا رخ تبدیل کیا اور اس مقام سے چنیوٹ کو اپنا مسکن بنا لیا ماہرین کی رائے میں آج سے ایک ہزار سال قبل حالیہ فیصل آباد پہ ایک شہر آباد تھا دریا کا رُخ بدلنے کے بعد جتنی آبادیاں بیچ میں آئیں تمام دریا برد ہو گئیں اور دریائے چناب اُن آبادیوں کو نگلتا ہوا چنیوٹ جا آباد ہوا۔قرین قیاس یہ ہے کہ آپ کی قبرِ انور دریا کے رُخ بدلنے سے پہلے یہاں موجود تھی۔بعض افراد کی رائے میں آپ(رح) تبع تابعین میں سے تھے جبکہ بعض کی رائے میں آپ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش(رح) کے دور میں ہندوستان تشریف لائے تھے چونکہ حضرت داتا گنج بخش(رح) کو بھی اس دنیا سے پردہ فرمائے تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن حضرت بابا نور شاہ ولی(رح) کے حوالے سے حتمی بات کہنا ممکن نہ ہے واللّٰہ عالم الغیب

وقت گزرتا گیا اور ساندل بار کی یہ دھرتی پکی ماڑی سے لائیلپور اور لائیلپور سے فیصل آباد بن گیا اور اس ساری ترقی کے دوران فقہاء و صوفیاء نے ہمیشہ حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کے مزارِ پرانوار کو ہمیشہ عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا۔لاری اڈہ کے عقب میں واقع یہ مزارِ پرانوار آج بھی تمام خواص و عوام کے قلوب پر انوار و تجلیات کے ظہور کا سبب بن رہا ہے
1973 میں دریائے چناب ایک بار پھر اپنا رُخ دوبارہ پرانے مدار کی جانب لے آیا دریا ایک سیلاب کی شکل میں لائیلپور(فیصل آباد) کی جانب دوڑتا ہوا آیا اور فیصل آباد کی گلیاں دریائے چناب کے پانی سے بھر گئیں اس دور میں ڈر تھا کہ دریا کہیں اپنے ہزار سال پرانے رُخ پہ نہ آجائے اور بستیوں کی بستیاں تہ و بالا نہ کر دے لیکن مالکِ ارض و سماء نے مخلوق پہ رحم کیا اور دریائے چناب نے واپس چنیوٹ کا سفر شروع کردیا اس سیلاب کے باعث حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کی قبرِ انور پانی کے باعث دوبارہ کھل گئی اور وہ افراد جن کا کہنا تھا کہ اس قبر میں کوئی موجود نہ ہے مالکِ حق نے ان پر واضح کر دیا کہ اس کا پیارا بندہ یہاں آرام فرما ہے۔
اس دور میں آپ(رح) کے دربارِ گوہر بار کی دوبارہ مرمت کا کام کیا گیا آپ(رح) کی قبرِ مبارک کی کھدائی کر کے دوبارہ اس کی بنیادیں بنائی گئیں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے افسران ،معروف سیاسی شخصیت انور خان بلوچ(مرحوم) ، معروف صنعتکار جاپان ڈائینگ کے مالک حاجی شیخ بشیر مخی حضرت(رح) کی قبرِ میں اترے اور آپ(رح) کی دوبارہ تدفین کا انتظام کیا۔راقم الحروف نے کئی سال قبل جب مرحوم انور خان بلوچ سے ملاقات کے دوران اس واقعے کا ذکر کیا تو انہوں نے انتہائی احساسِ تفاخر سے اظہار کیا کہ”میں اُن چند خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہوں نے حضرت بابا نور شاہ ولی(رح) کے جسمِ اطہر کی زیارت کی ان کا کہنا تھا کہ جب آپ(رح) کی قبرِ انور شق ہوئی تو ایسی خوشبو نہ پہلے کبھی سونگھی اور شاید نہ اس دنیا میں دوبارہ سونگھنے کو ملے۔آپ(رح) کا جسمِ مبارک باکل تازہ محسوس ہوتا تھا۔حاجی شیخ بشیر مخی(جاپان ڈائینگ والے) کے کہنے پہ ہم نے قبرِ مبارک کو فوراً بند کر دیا کہ کہیں عوام الناس آپ(رح) کے جسمِ مبارک کی بے ادبی نہ کر دیں۔

آپ(رح) کی یوں تو بے شمار کرامات سننے کو ملتی ہیں لیکن ایک واقعہ ناچیز احباب کے گوش گذار کرنا سعادت کا باعث سمجھتا ہے۔بوئے اجمیر میرے شیخِ کامل حضرت سید ظہور محمد مہاراج(رح) کی درگاہ شریف کے گدی نشیں پیرِ کامل حضرت حاجی غلام علی(رح) کی سنگت میں بیٹھا تھا حضرت کی طبیعت انتہائی پر لطیف تھی ذکر ہوتے ہوتے حضرت بابا نور شاہ ولی(رح) تک جا پہنچا حضرت حاجی غلام علی(رح) کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک عود آئی آپ(رح) نے فرمایا کہ” ایک روز حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کے عرس کے موقع پر میں وہاں دربار شریف حاضری کے لیئے گیا درگاہ شریف پہ محفلِ سماع انعقاد پذیر تھی میں نے محفلِ پاک میں شرکت کی محفلِ سماع کے بعد میں وہاں سے اُٹھ گیا۔محفلِ پاک کے بعد میں گھر آگیا اور سونے کے لیئے اپنے بستر پر دراز ہو گیا۔جونہی آنکھ لگی تو کیا دیکھتا ہوں کہ جنابِ رسالت مآب(ﷺ) بمعہ اپنے اصحابِ باصفاء(رض) کے ہمراہ گمٹی چوک ریلبازار کے باہر جلوہ افروز ہیں۔حضورِ اقدس(ﷺ) کو دیکھتے ہی میں ان کے قدموں سے لپٹ گیا عرض کی حضور(ﷺ) آپ نے اس علاقے کو کس باعث رونق بخشی۔ فرمان جاری ہوا کہ ہم اپنے پیارے نور شاہ ولی سے ملاقات کے لیئے آئے تھے اب واپسی کر رہے ہیں۔” اس واقعے کے بعد حضرت حاجی غلام علی(رح) کی آنکھیں پُرنَم ہو گئیں اور کمرے میں کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ قبلہ حاجی غلام علی(رح) اس زیارت کے لمحات سے دوبارہ مستفید ہورہے ہیں اور میں حضرت حاجی غلام علی(رح) کی آنکھوں کو اپنی آنکھوں سے بوسے لینے لگا کہ “گر یار نہ سہی یار کے محبوب کی زیارت سے محظوظ ہوجائیں کہ ان آنکھوں نے رُخِ یار (ﷺ) کے بوسے لیئے ہیں میں ان آنکھوں سے اپنی آنکھوں کو تسکین دینے لگا۔”
حضرت بابا نور شاہ ولی العربی(رح) کا عرس مبارک ہر ساون کی پہلی جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کو انعقاد پذیر ہوتا ہے ہزاروں عقیدت مند پاکستان کے طول و عرض سے اپنی اپنی محبت کے چراغ ہاتھوں میں سجائے دل کی میل ختم کرنے اس ولئِ کامل کی بارگاہ میں حاضری دینے پہنچتے ہیں

یہ غاذی یہ تیرے پراسرا بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں