”صاحب کا دورہ پڑ گیا ہے“ …………………….. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

صاحب دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جودورے کرتے ہیں دوسرے وہ جن کو دورے پڑتے ہیں بعض اوقات چند صاحبوں کو دورے کرنے کادورہ پڑجاتا ہے۔

کافی عرصے پہلے اُسے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا تو ایک انتہائی اہم محکمے کے ملازم سے ملاقات ہوئی تو اسے بڑا اُداس پایا وجہ پوچھی تو کہنے لگا ”صاحب کا دورہ پڑ گیا“میں سمجھاکہ شاید اس کے صاحب کو دورہ پڑ گیا ہے وہ اس وجہ سے بہت اُدا س ہے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کے صاحب کو کس چیز کا دورہ پڑا ہے، تو وہ جل کر کہنے لگا کہ صاحب کو کوئی دورہ نہیں پڑا۔ ہمارے سرکل کوصاحب کادورہ پڑ گیاہے اور اب اس کے اثرات کافی عرصہ تک ہم پر رہیں گے۔

ماتحت عملے کی حالت اس وقت شدید قابل رحم ہوتی جب اُن کو صاحب کا دورہ پڑتا جاتا یا اُن کے گھر میں کسی کو دورہ پڑجاتا بلکہ اگر اُن کے کسی فیملی ممبر کو دورہ پڑتا تو وہ شاید اتنے پریشان نہیں ہوتے تھے جب ان کو صاحب کا دورہ پڑتاتھا وہ زیادہ پریشان ہوتے۔صاحب کا دورہ پڑنے والے مظلوم بعض اوقات ساری زندگی یہ دعا مانگتے رہتے کہ صاحب کو بھی کوئی دورہ پڑ جائے یا اپنے سے بڑے صاحب کا دورہ پڑ جائے۔

گئے دنوں میں جب کسی علاقے کو صاحب کا دورہ پڑتا تھاتو علاقے میں تعینات ہر ملازم کو رنج و غم کا دورہ پڑجاتا تھا کہتے ہیں کہ گئے وقتوں میں یا صاحب کو غصے کا دورہ پڑتا تھا یا صاحب کے دورہ کے بعد علاقے کو غم و غصے کا دورہ پڑتا تھا۔اور کافی دیر پڑا رہتا تھا۔

دوروں میں صاحب کے ساتھ جتنا عملہ ہو صاحب کا دورہ اتنا ہی کامیاب رہتا اوراس کے اثرات اتنے ہی دیرپاہوتے صاحب سے دورے کے فرائض بجالانے میں جوکمی کوتاہی رہ جاتی وہ ٹرینڈ عملہ بخوبی پوری کردیتا۔بعض اوقات صاحب کے ایک کامیاب دورے کے بعد ماتحتوں کو کئی کئی دن غشی کے دورے مسلسل پڑتے رہتے۔

جب صاحب دورے پر جاتے تو اپنا کھانا پانی ساتھ لے کر جاتے مگر کئی واپس بھی ساتھ لے کر آ جاتے اور وہ کافی عرصے تک کافی لوگوں کو کافی رہتا۔

ایسے صاحب رفتہ رفتہ ختم ہوتے جارہے ہیں جو دورہ کرتے ہیں اورایسے ماتحت تو نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں جو اگر صاحب کا دورہ پڑجائے تو سابقہ روایات کالحاظ کرتے ہیں۔

کچھ عرصے پہلے تک سرکاری ملازمین کی جو تنخواہوں کے جوحالات تھے یکم تاریخ آتے ہی اور بیوی کی زیارت ہوتے ہی ان کو دورہ پڑ جاتاتھا۔

ایک مرشد ٹائپ افسر ایک جگہ دورے پر جانے لگے تو انہوں نے اپنے ماتحت سے پوچھا کہ وہاں دورے کا بندوبست کیسا ہے تو ماتحت نے ادب سے بتلایا کہ پورا علاقہ جانتا ہے کہ آپ تو کسی سے پانی بھی نہیں پیتے۔ افسر اعلیٰ کہنے لگے کہ یہ بات بجاہے کہ میں کسی سے پانی بھی نہیں پیتا مگر کبھی کبھی پیسپی پی لیتا ہوں آپ لوگوں کوپوری بات بتائیں۔

ہماری قوم کی اکثریت کی حالت دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ وہ اُس صاحب جیسی ہے جس کوغصے کا دورہ پڑا رہتا ہے یا پھر اُس ماتحت جیسی ہے جس کو صاحب کا دورہ پڑجاتا ہے۔ دعا ہے کہ ہماری قوم کوخوشی کا دورہ پڑجائے۔جیسے کہ ایک دفتر آنے والی ایک عورت کو پڑا تھا وہ عورت خود کو آگ لگانے پر تلی ہوئی تھی۔افسرکی وجہ پوچھنے پراُ س نے بتلایاکہ وہ بیوہ عورت ہے اور اس کے مقدمے کافیصلہ نہیں ہورہا افسر نے اسے باعزت بیوہ ہونے پر مبارک باد دی اور اپنی بیوی کے جذبات اس تک پہنچائے جوکئی سالوں سے بیوہ ہونے کیلئے ہر جتن کررہی تھی مگر کامیاب نہیں ہورہی تھی۔افسر اسے گھرلے گیا اوراپنی بیوی سے بھی ملوایا اوریہ بھی بتایا کہ ایک بڑے افسر کی بیوی بیوہ ہونے کیلئے ایک طویل مدت سے منتیں مانگ رہی ہے مگر کامیاب نہیں ہورہی ہے یہ سن کر اُس عورت کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔

ہمارے لوگ احتجاج کرنے پہ آتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ پوری قوم کو جنون کا دورہ پڑگیا ہے اوریہ دورہ ناقابل علاج ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس قوم کوہرطرح کے دوروں سے نجات مل جائے۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہے اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں