” کرونا کا کچھ کرو! نا “ ………………….. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

چائنا کی چیزوں کی کوالٹی کے بارے میں لوگوں کی رائے کبھی بھی اچھی نہیں رہی مگر ”کرونا“ نے اس معاملے میں دنیاکے پچھلے تمام تجربات کو غلط ثابت کردیا ہے اورپائیداری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ چائنا ابھی دنیا پر چھا نہیں سکا مگر ”کرونا“ دنیا پر چھا گیا ہے۔چائنا کی باقی چیزیں بھلے دو دن نہ نکالیں مگر ”کرونا“ کایہ تیسراسال ہے اوران تین سالوں میں دنیا کوصرف ”کرونا“ کا خیال ہے یہ ایک مکمل وبال ہے اورہرفرد کی زندگی کاجنجال ہے۔ نہ کوئی اس کی سُر نہ تال ہے۔ اس سے بچنامحال ہے۔یہ وائرس بڑا ہی باکمال ہے اور بدلتاروزاپنے خدوخال ہے۔”کرونا“کی یہ تیسری لہر ہے اور ہرلہر کامدوجزرپہلی لہر سے زیادہ ہے۔ ہرلہرپہلی لہر سے زیادہ بڑا سونامی لارہی ہے اورابھی کچھ کہا نہیں جاسکتاکہ کتنی لہریں ابھی باقی ہیں۔

ہمارے لوگوں کامزاج عموماً اُس جھنگوی بھائی کے مزاج جیسا ہے جس سے ایک انکوائری آفیسر نے ذرا سخت لہجے سے پوچھا کہ آپ اس معاملے کی بابت کیا سمجھتے ہیں تو اُس نے جواب دیا کہ ”میں تمہیں کیاسمجھتاہوں“ نہ میں اس معاملے کو کچھ سمجھتا ہوں اورنہ تمہیں کچھ سمجھتا ہوں۔یہی نقطہ نظر ہمارے لوگوں کا شروع میں ”کرونا“ کے بارے میں تھا۔لوگ کہتے تھے کہ ”کرونا“ کچھ نہیں ہے اور کسی کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر جب ”کرونا“ اپنی کرنی پرآیاتو بڑی مشکل سے لوگوں کو یقین آیاکہ ”کرونا“ ایک حقیقت ہے اور اب ”کرونا“ کا کچھ کرناضروری ہوگیا ہے ویسے تو بعض اوقات یہ لگتا تھا کہ ”کرونا“کے معاملے میں ”بندہ کرہی کیا سکتا ہے کھانس لینے کے سوا“

”کرونا“ کے شروع کے دنوں میں انسان کوشدیدبے بسی محسوس ہوئی اور سب لوگوں نے ایک دوسرے سے منہ چھپا لیئے اگرچہ کچھ لوگوں کومیرٹ پر بہت پہلے ہی اپنے منہ چھپا لینے چاہیئے تھے۔”کرونا“نے صرف انسانی طرز زندگی بدل دیابلکہ لفظوں کو بھی نئے مفہوم عطا کیئے۔ پیارمحبت کرنے کے انداز بدل گئے۔ عالم انسانیت پرغم اور ڈر کا ایسا عالم پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا جیسا ”کرونا“ کے حملے کے ابتدائی دنوں میں دیکھنے کو ملا۔کچھ دن تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاید اب ماضی کی رونقیں کبھی واپس نہیں آئیں گی اورگئے دن اب خواب ہوئے لیکن کاتب تقدیرکوہمیشہ کی طرح اپنے بندوں پر رحم آیااوراب اللہ کے کرم سے انسان”کرونا“ کی ویکسین بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ”کرونا“ پر شک کیا جاتا رہاہے اور اب ویکسین پر شک کیا جارہا ہے۔یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ مجھے اس بات پر غصہ نہیں آتا کہ ہمارے ہاں لوگ بواسیر کاعلاج راکھ سے کرتے ہیں مجھے توغصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔”کرونا“ کے متاثرین کو یہ سہولت بالکل حاصل نہیں رہی اور ”کرونا“ کسی عطائی اورکسی ٹوٹکے ٹونے کو آج تک بالکل خاطر میں نہیں لایا۔اگرچہ ہمارے ہاں لوگوں کی کثیر تعداد ”کرونا“ کو بھی خاطر میں نہیں لائی مگر کافی لوگوں کو ”کرونا“بھی خاطر میں نہیں لایااوربہت سے خوبصورت چراغ ”کرونا“ نے ہمیشہ کیلئے گل کر دیئے۔ مگربجاہے کہ جس تن پرچوٹ لگے اُسی کوچوٹ کی شدت کااندازہ ہوتا ہے۔ باقی لوگ بعض اوقات دوسروں کادرد نہیں سمجھ سکتے۔ ”کرونا“سے جولوگ محفوظ رہے انہوں نے اُس کو اللہ پاک کی رحمت سمجھنے کی بجائے یہ سمجھا کہ متاثرین جھوٹ بول رہے ہیں۔ایسے ہی لوگ اب دوسری اور تیسری لہر کے دوران اُس اذیت سے گذر رہے ہیں جو پہلے دوسرے لوگوں کوبرداشت کرناپڑرہی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک انگریزکرنل سرگودھاکے ایک نامی گرامی زمیندار کے پاس آیااوربتایاکہ ہٹلر بہت ظالم ہے اور انگریز پوری انسانیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اُس نے درخواست کی کہ زمیندار فوج میں بھرتی ہونے کیلئے مقامی لوگوں کو رضامند کرے۔ ہمارے زمینداربھائی نے کافی دیر غورغوض کرنے کے بعد جواب دیا کہ گورا صاحب برٹش راج کی تمام ترعظمت اورطاقت کے باوجوداگر بات سرگودھے کے زمینداروں پر آگئی ہے توہٹلر سے صلح کرلیں۔یہی معاملہ ”کرونا“ کے ساتھ بھی ہے۔جدید میڈیکل سائنس اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ہرانسان کے انفرادی تعاون کے بغیر ”کرونا“ کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔چونکہ ”کرونا“ انسانیت سے صلح کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے اورجراثیموں کاہٹلرثابت ہورہا ہے اس لیئے اگرعام آدمی بھی اس جنگ میں اپنی خدمات سرانجام دے گا توانسان کی فتح یقینی ہوگی۔

ہمارے دین کا واضح حکم ہے کہ ایک انسان کی موت تمام انسانیت کی موت ہے اور خودکشی کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔ اس عاجز کا یہ خیال ہے کہ بداحتیاطی بھی ایک گناہ ہے۔ اپنی صحت کا خیال نہ رکھناشدیدکوتاہی ہے اوراپنی وجہ سے دوسروں کوخطرے میں ڈالناتوگناہ بھی ہے اورجرم بھی۔ ”کرونا“ کی وبا کے دوران یہ بات مزیدواضح ہوئی ہے کہ صحت پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں معاشرے کی اجتماعی کاوشیں ہی کامیاب ہوسکتی ہیں۔ اکیلا آدمی چاہے بھی تواپنی صحت کامکمل خیال نہیں رکھ سکتا۔ ایک فرد کی صحت اپنے اردگرد کے لوگوں کی صحت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اور بعض اوقات ایک فرد کی کوتاہی پورے معاشرے کی صحت خطرے میں ڈال دیتی ہے بجاہے کہ شاعر مشرق نے کہاتھا کہ فطرت افراد سے اغماض برتتی ہے مگر ”کرونا“ کو اس معاملے میں ایک استنائی حیثیت حاصل ہے اورایک فرد کی لمحوں کی خطا،پورے معاشرے کیلئے صدیوں کی سزا بن سکتی ہے۔

”کرونا“کولے کرہرانسان کودوسرے انسان کو یہ کہنے پڑے گا”کروناکاکچھ کرو! نا“۔جب تک ہم ایک دوسرے کی کاوشوں کو مضبوط نہیں کریں گے شاید ”کرونا“ پر قابوپانامشکل ہی نہیں نا مکمن بھی ہو۔”کرونا“ جراثیموں کا”ڈون“ثابت ہوا ہے اور ساری دنیا کی میڈیکل پولیس اس وقت ”کرونا“کے پیچھے ہے مگر”کرونا“ اپنی کرنی سے بازنہیں آرہااور ”کرونا“ کاسکوربڑھتا ہی جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کرے کہ انسان اتنے سمجھدار ہوجائیں کہ ہرانسان یہ سمجھے کہ ”کرونا“ کو بولڈ کرنا اُس کی ذاتی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ذمہ داری ادا کرکے رہے گا۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے عالم انسانیت کو”کرونا“سے جلد از جلد نجات عطا فرمائیں۔امین۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہے اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں