جنت میں ہم کو حوراں ملیں گی حوراں! …………………….. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

میرے ایک راجپوت دوست اکثر بیٹھے جنت کی ایک ہی نعمت کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ اور کہتے رہتے تھے کہ ہمیں جنت میں حوراں ملیں گی حوراں۔ میں نے ایک دن انہیں کہا جیسا آپ کا کردار ہے جنت میں شائد آپ کو غفوراں بھی نہ ملے۔

ہم میں سے اکثر لوگوں کا کردار ایسا ہے کہ جب کہیں بھی بیٹھے ہوئے وہ کہہ رہے ہوں کہ اللہ ہمیں جنت دے! اللہ ہمیں جنت دے۔ تو شک ہونے لگتا ہے کہ اللہ سے کسی جنت نامی کسی خاتون کا سوال کر رہے ہیں۔

اگر کوئی ہمارا گناہگار دوست حمدوثنا شروع کر دے تو ہم سمجھتے ہے کہ سب ثنا کی تمنا میں کیا جا رہا ہے۔اور ہمارے دوست کا حال اس طوطے جیسا ہے جو اپنے ساتھی طوطے کے ساتھ ہر وقت سجدے میں پڑا رہتا تھا ایک دن جب ان کا مالک ایک طوطی لایا تو اس نے اپنے ساتھی طوطے سے کہا سر اوپر اٹھا آج دعا قبول ہو گئی ہے۔

ہمارے اکثر مومنین کا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ وہ جنت کے ساتھ فردوس بھی چاہتے ہیں اور فوری چاہتے ہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ ارم بھی عطا کر دے تو کیا کہنے۔مومن بے چارا نہ اس دنیا میں اپنے لیئے جیتا ہے اور نہ اگلے جہان میں۔ مومن کی یہ دنیا فردوس اور ارم کی تمنا میں گزر جاتی ہے اور وہ اگلے جہان میں جنت الفردوس ہی چاہتا ہے۔

کسی ملک میں ایک بہت بڑی مذہبی شخصیت نے جب ایک مشہور اداکارہ سے شادی کی تو لوگوں نے شدید حیرت کا اظہار کیا اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تو انہوں بڑا خوبصورت جواب دیا کہ دنیا میں تمام حسن صرف کناہگار وں کے لیے ہے اور نیک لوگ صرف مرنے کے بعد ہی حسین لوگوں کی صحبت میں رہ سکتے ہیں۔

عورتوں کے بارے میں ہمارا عمومی روئیا ہمیشہ سے ہی کچھ اس آدمی کی طرح رہا ہے جس کی شکل و صورت میرے جیسے تھی مگر اس کی بیوی نہایت حسین تھی۔ ایک دن وہ اپنی بیوی کے ساتھ بازار جا رہا تھا کہ کسی دل جلے ان کو دیکھ کر آواز لگائی۔
پہلوہئے حور میں لنگور
وہ آدمی اپنی بیوی سے کہنے لگا دیکھ لو معاشرہ اس حد تک گر گیا ہے کہ آب لوگ سرعام ایک عورت کو لنگور کہتے ہوئے زرا بھی نہیں شرما رہے۔ بے باکی اور بے حیائی کی حد ہوگئی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دنیا میں بھی جنت اور فردوس مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آخرت تو ہر مسلمان کی واحد تمنا جنت الفردوس ہی ہونی چاہئے۔ مگربندے کے اعمال میں بھی اتنا خلوص ہونا چاہیے کہ زمین پر جو اس کو جنت یا فردوس یا ارم ملی ہوئی ہے وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ رہنے کی تمنا کرے۔

ایک واقعہ سناتے ہوئے ہمیشہ میرا دل روتا ہے مگر لوگ وہ واقعہ سن کر بہت ہنستے ہیں یہ سچا واقعہ ہے کسی شہر میں دو بھاہیوں کی دوکانیں ساتھ ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ان میں سے ایک بھائی بیمار ہو کر انتقال کر گیا۔ دوسرے بھائی نے اس کی دوکان پر قبضہ کر لیا۔ لوگوں نے بہت سمجھایا مگر وہ قبضے پر بضد رہا۔ کافی سال گزرنے کے بعد ایک مقدس مقام پر ایک فریضہ ادا کرتے ہوئے چچا اور بھتیجے کی ملاقات ہوگئی تو بھتیجے نے کہا کہ اب تو مان جائیں کہ اس دوکان پر ہمارا حق تھا۔ تو چچا کہنے لگا کیسے مان جاؤں اسی دوکان کے گناہ کو بخشوانے کے لیے یہ سارا خرچہ کیا۔

جس شخص نے ساری زندگی دودھ میں ملاوٹ کی ہوتی ہے وہ بھی جنت میں خالص دودھ کی نہروں سے اپنے آپ کو صرف ایک اینچ کی دوری پر سمجھ رہا ہوتا ہے۔

اکثر مومنین جو خود کو ابھی سے جنت کی حوراں کے مالک سمجھے بیٹھے ہے وہ میرٹ پر صرف فرشتوں کے ہوروں کے مستحق ہیں۔

(مصنف نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پنجاب کی صوبائی سول سروس کا حصہ ہیں اور آج کل چولستان ترقیاتی ادارہ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں