کار اور کردار ! ……………………………….. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

جو افراد بڑی شدت سے اس بات کا گلہ کرتے رہتے ہیں کہ دنیا بہت بدل گئی ہے۔وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پہلے بھی عزت اسی کی تھی جس کے پاس کوئی” کار” ہوتا تھا اور اب بھی عزت اسی کی ہے جس کے پاس کوئی “کار” ہوتی ہے۔پہلے زمانے کا انسان اس لیے مشکل میں تھا کہ اسے کار ہائے نمایاں انجام اور بعض اوقات سرانجام دینے پڑتے تھے جبکہ آج کل اگر کسی کے پاس ” کار” ہائے نمایاں موجود ہوں تو اس کے بہت سارے کام خود باخود سر انجام پاجاتے ہیں۔ کچھ معاملات میں دنیا آج بھی وہیں کھڑی ہے۔ جہاں آج سے صدیوں پہلے تھی۔ پہلے جس کے پاس کوئی “کار” نہیں ہوتا تھا اسے بیکار سمجھا جاتا تھا۔ اب جس کے پاس کوئی کار نہیں ہوتی۔ اسے بیکار سمجھا جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں عزت کا ہمیشہ سے کار کے ساتھ بہت گہراتعلق رہا ہے۔ پہلے قلم کار، فنکار، موسیقار، اداکار، صدا کار کی عزت ہوتی تھی۔ آج کل بھی صاحب “کار ِ”اورسرکار کی بڑی عزت ہوتی ہے۔ پہلے لوگ اپنے کار ہائے نمایاں کی وجہ سے یاد رکھے جاتے تھے۔ اب جس کے پاس کوئی نمایاں کار ہو اس کو دنیا یاد رکھتی ہے۔پہلے ہاتھ میں قلم ہونا بھی ایک کارِ نمایاں تھا۔ اب ہاتھ میں کسی نہ کسی کا ٰ علم ہونا ہی کارِ نمایاں رہ گیا ہے۔

اب بے کار آدمی کے ساتھ ہمارا سلوک بدل گیا ہے۔ پہلے ہم بے کار آدمی کو کار آمدبنانے کی کوشش کرتے تھے مگر اب جس آدمی کی آمد کار سے نہ ہو وہ فوراََ برآمد کر دیا جاتا ہے۔اب کارآمد ہونے کیلئے آمد بذریعہ کار لازمی قرار پا چکی ہے۔ پہلے ہمارے ہاں کاریں کم اور کارآمد آدمی زیادہ ہوتے تھے۔اب کاریں ہر طرف نظر آتی ہیں اور کارآمد آدمی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ پہلے ہم کار کے علاوہ کارآمد لوگ بھی درآمد کر لیتے تھے مگر اب ہم کاریں درآمد کرتے ہیں اور کارآمد لوگ فوراً برآمد کر دیتے ہیں۔ پہلے لوگ کار ہائے نمایاں سرانجام دیتے تھے اور اب “کار” ہائے نمایاں ہی ہر کسی کا انجام ہے۔آپ کے پاس “کار” ہائے نمایاں ہوں تو آپ کے کافی کام لوگ خود بخود ہی انجام دے دیتے ہیں۔

پہلے کسی کی عزت اس لیے ہوتی تھی کہ اس کے ساتھ “کار “لگتا تھا جیسے صدا کار، فن کار،اداکار، قلم کار مگر چونکہ اب سپیشلائزیشن کا زمانہ ہے اس لیے صرف سرکار کی عزت ہوتی ہے۔ ماضی میں پہلے دستار آتی تھی اور پھر اللہ تعالی کی برکت سے کبھی نہ کبھی کار بھی آ جاتی تھی۔ آج کل جب تک کار نہ آئے کسی کے سر پہ دستار ہی نہیں آتی۔انگریز کے زمانے میں بعض ایسے لوگ بھی سر بن جاتے تھے جن کے پاس کار نہیں ہوتی تھی صرف دستار ہوتی تھی۔اب ہم ہر اس آدمی کے سر ہو جاتے ہیں جس کے پاس کار نہ ہو بھلے کتنی ہی خوبصورت دستار ہو۔پہلے کارآمد شخص کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اب اس شخص کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی آمد کار میں ہو۔ پہلے ایک دوسرے کو متاثر کرنے کا کام اچھے کردار سے لیا جاتا تھا۔ آج کل اس کام کیلئے اچھی کار ہی کافی ہے۔ لوگوں کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ وہ دوسرا آدمی ہم سے کردار میں کتنا بہتر ہے۔ اور اب اس بات کی فکر رہتی ہے کہ اس کی کار ہماری کا ر سے کتنی بہتر ہے۔پہلے لوگوں کو یار کی یاری سے مطلب ہوتا تھا اور اب لوگوں کو یار کی سواری سے مطلب ہوتا ہے۔ بے کار سرکار سے تکرار نہیں کرتا اور سرکار صاحبِ کار سے تکرار نہیں کرتی اس طرح معاشرے میں امن و امان قائم رہتا ہے۔ اچھی کار اور اچھی سرکار تو لوگوں کا خواب تھے ہی اب اچھا کردار بھی لوگوں کے لیے خواب و خیال بنتا جا رہا ہے۔

پہلے ہمارے ہاں کاریں کم ہوتی تھیں اور کارآمد لوگ زیادہ ہوتے تھے۔ اب ہمارے ہاں کاریں تو بہت ہوگئی ہیں مگر کارآمد لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ہم کاریں تو درآمد کیے جا رہے ہیں مگر وہ لوگ، جو اگر پاکستان میں رہیں تو شاید کاریں یہیں بننے لگیں، ان کو ہم برآمد کیے جا رہے ہیں۔درآمد اور برآمد کا یہ پیٹرن انتہائی خطرناک ہے۔پہلے ہمارے ہاں کاریں کہیں کہیں نظر آتی تھیں مگر کارآمد لوگ ہر جگہ نظر آتے تھے۔اب کاریں ہر جگہ نظر آتی ہیں اور کارآمد لوگوں کو ڈھونڈنا پڑتاہے۔اب تو وہی شخص کارآمد ہے جس کو کی آمد کسی اچھی کار سے ہو اور بندے کی آمد جتنی بڑی کار سے ہوتی ہے اس کے کارآمد ہونے کا معیار بھی اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔

کار کے بغیر بندہ خود زیادہ خوار ہوتا ہے یا کار آنے کے بعد دوسروں کو زیادہ خوار کرتا ہے. اس بات پر صاحب علم لوگ ہی تبصرہ کر سکتے ہیں۔

میری بیٹی سارہ جب میرے ساتھ کسی ایسے گھر جاتی ہے جہاں بہت ساری کاریں کھڑی ہوتی ہیں تو وہ یہ سوال ضرور کرتی ہے کہ بابا ! کیا کاریں اکٹھی کرنے والے شخص کو قارون کہا جاسکتا ہے؟ میں یہ سوال آپ سے کرتا ہوں۔۔۔!

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہے اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہا ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں