لڑکی نے اپنا اور والدین کا ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیا ، پھر کیا بڑا انکشاف ہوا ؟؟ حیرت انگیز

خصوصی رپورٹ

ماں باپ کا سایہ بچوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ، کسی بھی شخص کیلئے اس کے ماں باپ دنیا کے سب سے قیمتی اور خاص لوگ ہوتے ہیں جو ان کو جنم دیتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ بچے اپنے والدین کے لئے اور والدین اپنے بچوں کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ لیکن سوچئے اگر کسی کو کئی سالوں کے بعد پتہ چلے کہ جن لوگوں کو وہ اپنے ماں باپ سمجھ رہا ہے وہ دراصل کوئی اور ہیں تو کیا گزرے گی؟ یقینا اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک جائے گی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین کے ناردن لا ریوجا میں واقع سین ملان ڈی راگرون ہسپتال میں 2002 میں پیدا ہوئی ایک بچی جب 19 سال کی ہوئی تواس نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا ۔ جب اس نے ٹیسٹ کا نتیجہ دیکھا تو دنگ رہ گئی ۔اس کا ڈی این این نہ تو اس کے باپ سے اور نہ ہی اس کی ماں سے میچ کررہا تھا ۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ لڑکی اور اس کے والدین کے درمیان کسی بات کو لے کر تنازع ہوگیا جس کے بعد لڑکی نے غصہ میں اپنا اور اپنے باپ کا ٹیسٹ کروایا ، ٹیسٹ میں دونوں کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا ، پھر اس نے اپنی ماں کے ساتھ بھی ٹیسٹ کروایا ، جس سے پتہ چلا کہ اس کی ماں سے بھی اس کا ڈی این اے نہیں مل رہا ہے ۔کافی چھان بین کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے اپنا ریکارڈ چیک کیا توایک بڑی غلطی کا انکشاف ہوا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ اسی دن ہسپتال میں 5 گھنٹے کے وقفہ سے دو کمزور بچے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے دونوں کو انکیوبیٹر میں رکھا گیا اور پھر وہیں بچوں کا تبادلہ ہوگیا ۔ لڑکی نے اب اس معاملہ میں ہسپتال پر بچہ بدلنے کا الزام لگاتے ہوئے 35 کروڑ روپے سے زیادہ کا کیس کردیا ہے ۔ لڑکی کے وکیل نے بتایا کہ بچی 5 گھنٹے بعد اسی دن پیدا ہوئی تھی لیکن جب بچوں کو واپس کرنے کا وقت آیا تو اسے 5 گھنٹے پہلے پیدا ہونے والی بچی کی جگہ دوسری خاتون کو دیدیا گیا ۔ ہسپتال انتظامیہ نے اپنی جانب سے جاری بیان میں لڑکی سے معذرت کی ہے اور اس کو انسانی غلطی بتایا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں