کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات ! …………….. تحریر ، اورنگزیب لغاری

ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈ میں منعقدہ انتخابات حکمران جماعت کو اپنی تین سالہ کارگردگی کو جانچنے کا بہترین موقع ہے. وزیراعظم عمران خان کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا. کہ ان سے کہاں کہاں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں. جس کی بدولت پاکستانی عوام میں ان کی جماعت کی مقبولیت میں دن بہ دن کمی واقع ہو رہی ہے. یہ انتخابات ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کا درجہ رکھتے ہیں. تمام جماعتوں کو اپنی اپنی عوامی مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے. پنجاب جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے. یہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے اکثریت میں کامیابی حاصل کی ہے. یہاں حکمران جماعت کی تیسری پوزیشن ہے. پاکستان پیپلز پارٹی کی کوئی سیٹ نہیں. پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری آجکل جنوبی پنجاب کے دورے پر ہیں. وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین اور پارٹی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں. بقول ان کے پنجاب میں آیندہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی بنائے گی. مگر انہیں کنٹونمنٹ بورڈ کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے. پنجاب میں اپنی پارٹی پوزیشن کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا. کہ پنجاب کی سیاست کا محور آج بھی میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف ہیں. کیونکہ انہوں نے پنجاب کی انتھک خدمت کی ہے. اور پنجاب کی عوام ان سے والہانہ محبت کرتی ہے. پنجاب کی جیت پر پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں. کیونکہ دوسرے صوبوں میں اس کی پوزیشن بالکل اچھی نہیں. یہ صرف اور صرف پنجاب کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے. اسی طرح سے پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ الیکشن لمحہ فکریہ ہے. اس نے الیکشن 2018 میں پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی اکثریت پر ڈاکہ زنی کرکے اپنی حکومت قائم کر لی تھی. مگر تین سال بعد بھی حقیقت تبدیل نہیں ہو سکی. آج بھی پنجاب پاکستان مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے.

کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن نے ملک کی سیاسی پارٹیوں کو ان کی اصلیت دیکھا دی ہے. کہ وہ کہاں کھڑی ہیں. پاکستانی عوام حکمران جماعتوں کی پالیسیوں سے بیزار ہو چکی ہے. اس لیے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت میں ووٹ نہیں ڈالے. پاکستان تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں سوائے انتقام کے کچھ نہیں کیا. اس کے پاس اب صرف دو سال رہ گئے ہیں. اگر اس نے اپنی روش تبدیل نہ کی. تو جیسے پنجاب کی عوام نے اسے مسترد کیا ہے. جنرل الیکشن 2023 میں سارے پاکستان سے اس کا صفایا ہو جائے گا. پاکستان تحریک انصاف کی ناکامی کی بنیادی وجہ اس میں خوشآمدی ٹولے کی موجودگی ہے. یہ ٹولہ وزیراعظم پر اس قدر حاوی ہے. کہ اس نے منتخب نمائندوں کو ایک ایک کرکے پارٹی سے نکال باہر کیا ہے. یا پھر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے. جہانگیر ترین، علیم خان، جسٹس وجیہہ الدین، جیسے زیرک لوگوں کو پارٹی سے باہر نکال دیا گیا ہے. اور غیر منتخب لوگوں نے پارٹی پر قبضہ کر رکھا ہے. ان لوگوں کی وجہ سے ہی پارٹی مقبولیت میں روز بہ روز کمی آتی جا رہی ہے. پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت دلوانے والے بھی اب اس کی پالیسیوں سے نالا نظر آتے ہیں. اس حکومت نے ملک کے ہر آئینی ادارے کو اپنے خلاف کیا ہوا ہے. عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن سب کے خلاف محاذ جنگ شروع کر رکھا ہے.

عوام پر مہنگائی کا اٹیم بم گرا ہوا ہے. ایسے میں بھی یہ امید رکھتے ہیں. کہ عوام انہیں ووٹ دے گی ہرگز نہیں. پاکستان مسلم لیگ ن کی جڑیں پنجاب میں تو بہت مضبوط ہیں. اسے اس پر فخر کرنے کی بجائے. ملک بھر میں اپنی پارٹی کی مضبوطی کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہو گا. کنٹونمنٹ بورڈ کی عوام پڑھی لکھی ہوتی ہے. یہ ملکی اور بین الاقوامی حالات سے بہتر طور پر باخبر ہوتی ہے. اس کی طرف سے حکمران جماعت کی پالیسیوں پر عدم اعتماد یہ واضح کر رہا ہے. کہ آنے والا وقت پاکستان تحریک انصاف کے لیے اچھا نہیں. یہ جو حکومتی وزراء دن رات اپنی کامیابیوں کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے. ان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے. خدارا عوام سے جھوٹ بولنے کی بجائے. اپنی کارگردگی کو بہتر کریں. پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی التجا ہے. کہ وہ اپوزیشن کا ساتھ دے یا حکومت کا. وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں. سیاست میں یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چلتا. جن لوگوں نے آپ کو تسلی دی ہے. کہ اگلی حکومت آپ کی ہو گی. وہ کسی سے مخلص نہیں ہوتے. انہیں صرف اور صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے. جس سے ان کا مفاد واسطہ ہوتا ہے. یہ اس ہی کے گن گاتے ہیں. میاں محمد نواز شریف آج بھی پاکستانی سیاست کا محور ہے. پاکستانی عوام انہیں چاہتی ہے. ملکی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے. ملکی مفاد میں فیصلہ سازی کرنی چاہیے. کیونکہ ان کی غلط فیصلہ سازی کا خمیازہ ملک پاکستان کو بھگتنا پڑتا ہے. ایک غلط فیصلہ ملک کو کئ دہائیاں پیچھے دھکیل دیتا ہے.ملکی اداروں کو سیاست میں ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر عوام کی رائے کو احترام دینا چاہیے. کیونکہ عوام ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے. بہتر فیصلہ سازی کرتی ہے. وہ اسی پارٹی کو منتخب کرتی ہے. جو ملک کی خدمت کر سکتی ہو.

سیاست میں سفارتی تجربہ کاری بھی اہم کردار ادا کرتی ہے. جس میں یہ حکومت ناتجربہ کار ہے. اسی لیے ملک بین الاقوامی سطح پر انتہائی تنہائی کا شکار ہے. ملکی سفارت کاری ہمارے ادارے کر رہے ہیں. وہی غیر ملکی وفود سے مل رہے ہیں. اور وہی غیر ملکی دورے کر رہے ہیں. جبکہ ہمارے منتخب وزیراعظم شجر کاری کر رہے ہیں. پاکستانی عوام ان تمام باتوں سے بخوبی آگاہ ہے. اس لیے وہ اب حقیقی سیاسی قیادت کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے. کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے. عوام نے ملکی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی مرضی سے آگاہ کر دیا ہے. کہ آیندہ ہم ایسے شخص اور پارٹی کو اپنا ووٹ دے گے. جو عوام کی حقیقی خدمت کر سکے. دیکھنے میں یہ محض کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن تھے. مگر ان الیکشن نے عوام کی منشاء کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے. ملکی سیاسی پارٹیوں کو عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے. اپنی اپنی پوزیشن کو بہتر کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی. کوئی بھی سیاسی پارٹی ملکی سطح پر واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی. سیاسی پارٹیوں کو عوام کے ساتھ اپنے روابط کو بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے. عوامی مشکلات کا حل ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے. تبھی سیاسی جماعتیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو پائے گا.حکومت کی کارگردگی کو جانچنے کے لیے عوامی رائے بہترین پیمانہ ہوتا ہے. عوام کو کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آزادانہ مواقع فراہم کرنے چاہیے. اس طرح سے ایک بہترین سیاسی نظام پروان چڑھے گا.

کرو نہ فکر ضرورت پڑی تو دیں گے ہم
لہو کا تیل چراغوں میں جلانے کے لیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں