”فون ، خون ، جنون اور سکون“ ……………….. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

آج سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگوں کی بھاری اکثریت یقین رکھتی تھی کہ خون کی اپنی تاثیر ہوتی ہے۔خون آخر خون ہوتا ہے۔بہتابھی ہے کچھ کہتابھی ہے۔جم بھی جاتاہے اوررنگ بھی چوکھالاتا ہے۔ لال رنگ کے خون میں چونکہ سفیدخلیے بھی ہوتے ہیں اس لیئے خون کا رنگ سفید بھی ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خون ”نیلے رنگ“ کا نہ بھی ہو،انہیں شاہی خون کا حامل تصور کیاجاتاتھا۔ اگر کوئی آدمی نیچ حرکت کر بیٹھتا تھا تو اُس کے فعل پرکم بحث ہوتی تھی۔ اُس کے خون پر لوگ زیادہ بات کرتے تھے۔خون کی تاثیر کے بارے میں تو کوئی ماہرہی بہتر رائے دے سکتاہے۔ ہم دن بدن فون کی تاثیر ضرور دیکھ رہے ہیں۔لوگ بھلے وقتوں میں خون دیکھتے ہوں گے۔ ہم نے تو یہی دیکھا ہے آج کل سب سے پہلے دوسرے کافون دیکھا جاتا ہے۔اگر کسی کے پاس ”آئی“ فون ہو تو اس کے بارے میں بہت سی باتیں آئی گئی کردی جاتی ہیں۔خون کا رنگ بھلے جو بھی ہو، فون کی قسمِ روزبروز اہم ہوتی جارہی ہے۔ آپ بھلے جتنے سمارٹ ہوں، اگر آپ کا فون سمارٹ نہیں ہے تو آپ کو زندہ رہنے کا آرٹ نہیں ہے۔فون کا سمارٹ ہونا انسان کے سمارٹ ہونے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔خون کی تاثیر کا تو پتہ نہیں، فون کی تاثیر کی بدولت ہرخاندان کارہن سہن بدل رہا ہے۔

فون کاجنون انسان کاسکون تباہ کیئے جارہا ہے۔گھرکے جتنے بھی افراد ہوں،چھوٹے بڑے کی بجائے چھوٹے بڑے فون کے چکر میں ہوتے ہیں۔مجھے اپنی نوجوانی کے دور کا ایک واقعہ بہت یاد آتا ہے۔ہمارے کچھ دوست روزگار کے سلسلے میں اسلام آباد مقیم تھے۔وہ ایک ہی کمرہ میں رہائش پذیرتھے۔ میں اُن سے ملنے گیا۔رات کو جب سب موجودتھے تو ایک دوست کہنے لگے اس کمرے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں سات لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور پھر بھی سب اکیلے اکیلے رہ رہے ہیں۔موبائل فون کی برکت سے اسلام آبادکے کمرے کی کہانی اب گھر گھر کی کہانی ہے اور سب کیلئے جانی پہچانی ہے۔

ایک انٹرویوکے دوران انٹرویولینے والے صاحب کھڑے ہوگئے اورامیدوار کوسلوٹ مارکرکہنے لگے میں تاحیات آپ کا ممنون رہوں گا خود سے بھی نالائق آدمی دیکھنے کی جومیری حسرت تھی، وہ آج آپ نے پوری کردی۔کئی لوگ سمارٹ فون بنانے والوں کے بھی بہت ممنون ہیں۔وہ بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ گئے وقتوں میں لوگوں کو جنون ہوجاتا تھااور اُن کو مجنون کہاجاتاتھا۔بزرگوں کی اس بات پر مگر کوئی دل سے یقین نہ کرتاتھا۔موبائل فون کی برکت سے بزرگوں کی بابت یہ بداعتمادی ختم ہوئی۔ اب ہرکوئی جانتا ہے کہ لوگ مجنون کیوں ہوتے ہیں اورمجنون لوگ کیسے لگتے ہیں۔

ہمارا جذبہ جنون اور جملہ فنون موبائل فون کی نذر ہوتے جارہے ہیں۔فون خود بھلے موبائل ہوگیا ہے۔زندگی کو اس نے مگرساکت کردیا ہے۔فون خود سمارٹ ہوگیا ہے لوگ مگر اس کی بدولت کاہل ہوتے جارہے ہیں۔

بقول ایک شاعر کے ایک خاتون نے اپنے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے باپ کاحکم نہیں مانے گا تو وہ اُس کو اپنا دودھ نہیں بخشیں گی۔بیٹے نے اطمینان سے جواب دیااُس نے ڈبے کادودھ پیا ہے۔اس لیئے ”ابے“ کا حکم منوانے کی خاطر والدہ کوکوئی اورحیلہ کرنا پڑے گا۔آج کل کے بچوں کو خون کے رشتے انتہائی غیر اہم اور فون کے رشتے بہت اہم لگتے ہیں۔ خون کی کشش ماضی کا قصہ بنتی جارہی ہے۔خون کی گردش فون کے سگنل سے منسلک ہوتی جارہی ہے۔جہاں وائی فائی میسر نہ ہووہاں اب ہائی فائی کلاس توکیاکوئی عام بندہ بھی جانے کاتصور تک نہیں کرسکتا۔جہاں فون نہ چلے وہاں زندگی رُک جاتی ہے۔

ہنی اور مون کواب فون کا جنون ہے۔ فون کی طلب نے محمود وایازکوایک کردیا ہے۔بندہ اوربندہ نواز دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہوکرآئی فون یااینڈرائڈکے نئے ماڈل کا انتظار کرتے ہیں۔پہلے اچھی کار اور اچھا یار لوگوں کے ذہن پر سوار ہوتے تھے۔ اب سب سمارٹ فون کے نئے ماڈل کے جنون میں مبتلا ہیں۔

فون کا یہ جنون نئی نسل کو اس حدتک مجنون بناچکا ہے کہ بزرگوں کاحال اب اُس مریض غم جیساہوگیا ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہاہے کہ لوگوں نے اُسے تسلی دینا بھی چھوڑ دیاتھاکیونکہ اُس کی حالت اتنی نازک تھی کہ اُسے صرف موت کی دعا دی جاسکتی تھی۔ پہلے لوگوں کو لگتا تھا کہ دشمن جادوٹونے کرکے اپنوں کوغیر بنادیتے ہیں۔اب تواہم پرستی کایہ دور تمام ہوااورفون کازمانہ آیا۔ فون کا جادوسب سے بڑھ کر اور سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ہرسُو اب یہی عالم ہے -:
فاصلے ایسے بھی ہوں گے کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھاوہ میرے اوروہ میرا نہ تھا

دنیا میں ہرچیز کامتبادل ہے۔ ایک سے بہتردوسری مل جاتی ہے۔ہرانسان مگراپنی جگہ ایک مکمل کائنات ہے۔ جس کا متبادل کوئی ہوہی نہیں سکتا۔یہ کائنات ایک دفعہ گم ہوجائے تودوبارہ پھر ڈھونڈنے سے کبھی نہیں ملتی۔موبائل فون کی دنیا میں کھوجانے والے لوگوں سے گزارش ہے کہ اس کائنات کونہ بھولیں۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں