ایک عظیم باپ کی ایک معصوم سی خواہش! ………………. تحریر، :شفقت اللہ مشتاق

ستمبر کا مہینہ آتا ہے تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں غم اور خوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور غم اور خوشی کی اس ہمنوائی کو انسانی کوششوں سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ 10ستمبر 1994 کے دن کو میری شادی ہوئی تھی اور یہ وہ دن تھا جس دن میرے والد محترم خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے وہ اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے زیادہ خوشی والا دن سمجھتے تھے ہمارے گھر میں ہر طرف رونقیں ہی رونقیں رقص کناں تھیں۔ مبارک بادوں کی آوازیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں میرے سر سے ویلیں دے دے کر عزیزواقارب نے معینان اور خسروں کو مالا مال کردیا تھا اور ان کے دل سے یہی دعائیں نکل رہی تھیں کہ شالا یہ ایسے ہی لمحے روز روز آئیں اور میں ان کی دعاوں سے خوفزدہ ہورہا تھا کہ اگر اللہ نے ان کی سن لی تو مجھے کئی شادیاں کرنا پڑ جائیں گی اور میں کثرت ازدواج کا نہ تو قائل ہوں اور نہ ہی متحمل ہوں۔ ویسے بھی دو بیویوں کے لئے بڑے ہی تحمل اوربرداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور میں تو پہلے ہی اعصابی طور پر کمزور تھا پھر کمزور اور طاقتور کا کیا مقابلہ۔ خیر شادی تو پھر شادی ہوتی ہے۔ کوئی خوش ہو نہ ہو والدین کا تو یہ خواب ہوتا ہے اور پھر خواب کا پورا ہونا، توبہ توبہ۔آج ہمیشہ آج نہیں رہتا بالآخر کل میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ آج کل میں بڑا فرق ہوتا ہے اور سال کا بیت جانا تو بہت ہی بڑا فرق ہوتا ہے۔ پھر وہ دن آیا جب خوشی غم میں تبدیل گئی خوشی کے گیت وینوں میں بدل گئے ہاسے ہنجووں میں تبدیل ہوگئے اور 19ستمبر 1994 کو میرے بارے میں خواب دیکھنے والا ابدی نیند سو گیا۔ خوشیوں کو عملی شکل دینے والا خوشیاں ساتھ لے کر ایسے دیس چلا گیا جہاں سے کوئی اپنے بچوں کو بھی پیچھےمڑ کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ یوں میں یتیم ہو گیا۔ مجھے کیا معلوم یتیمی کیا ہے۔ اس سے پہلے بیٹھے بٹھائے کھانا پینا اور موج مارنا۔ رات کے اندھیرے میں ڈر کے مارے باپ کے ساتھ چمٹ جانا۔ سفر اور حضر میں والدین کی دعاوں کے لحاف میں مکمل طور پر محفوظ ہونا۔ کسی کے ہونے کا احساس تک نہ ہونا اور اس بات کا بھی احساس تک نہ ہونا کہ آج کل میں بدل جائے گا اور سدا ماں پیو حسن جوانی نے نہیں رہنا۔ بابل کی گلیاں باپ کے دم قدم سے آباد ہوتی ہیں اور ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد ان گلیوں کا سنجا پن عذاب بن جائے گا۔ بہن بھائی گلے لگ کے روئیں گے ،آہیں بھریں گے اور بالآخر ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے پھر رو پڑیں گےاور یوں آہوں اور سسکیوں میں ہم بھی بوڑھے ہوجائیں گے لیکن والدین کے ساتھ گذرے شب وروز بھلا نہ پائیں گے۔ یہ ویسے بھول بھی کیسے سکتے ہیں جس والد نے مجھے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا مجھے سیدھی سمت میں دیکھنا سکھایا اور کامیابی کے زینوں پر چڑھنا سکھایا اس کو بھول جانا اگر اتنا آسان ہوتا تو مجھ جیسا بھلکھڑ کب کا بھلا چکا ہوتا-

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے۔ اور ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ یا تو وہ خود ڈپٹی کمشنر بن جائے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اس کا بیٹا ڈی سی بن جائے۔ اس کے لئے لوگ جب کسی پر بہت ہی خوش ہوتے ہیں تو دعا دیتے ہیں کہ اللہ آپ کو ڈپٹی کمشنر بنائے اور اگر کسی کے خلاف ہوجاتے ہیں تو اس کو اسکی اوقات یاد دلانے کے لئے بھی سہارا اسی عہدے کا لیا جاتا ہے اور یہ کہہ کر اپنا غصہ نکالا جاتا ہے کہ آپ تھوڑا ڈی سی لگے ہوئے ہیں۔ بہرحال ہر باپ اپنے بیٹے کو ڈی سی بنانا چاہتا ہے اور یہی خواہش میرے والد محترم کی بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے مقابلے کے امتحان کے عمل سے گذارا اور میری پوری رہنمائی کی۔ میرے سامنے کتابوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ اخباروں اور جرائد روزانہ مجھے خرید کر دینا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ خود اخبارات کا اس لئے عمیق مطالعہ کرتے تھے کہ کہیں سی ایس پی یا پی سی ایس کے امتحان کا اشتہار آجائے اور مجھے پتہ نہ چلے۔ روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی تیاری کے بارے میں مجھ سے پوچھ گچھ کرکے جائزہ لیتے کہ آج میری تیاری کا معیار کیا رہا ہے۔ گاہے بگاہے ہلکی پھلکی سرزش کرتے اور اگلے ہی لمحے مورال اپ کردیتے۔ حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کرتے مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کرتے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے پورا لائحہ عمل تجویز کرتے۔ عزت وقار سے جینے کا درس دیتے۔ اور پھر محنت سے ہر کام کے ہونے کی یقین دہانی کرواتے۔ عبادات سے رب کو منانے کے بارے میں بڑے پر امید ہوتے پچھلی رات کی عبادت کو اکسیر سمجھتے تھے اور جب بھی کسی بزرگ سے دعا کرواتے تو مقصد مجھے ڈی سی بنانا ہوتا۔ خیر امتحان پر امتحان اور پھر ہر تحریری امتحان میں کامیابی اور بالآخر انٹرویو میں ناکامی۔ کوئی بات نہیں ڈسٹرب ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بننا ہم نے ڈی سی ہی ہے۔

ایک پی سی ایس امتحان میں ٹائی میجسٹریٹ، سیکشن افسر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر اور تحصیلدار کی پوسٹوں میں ہوئی۔فوقیت کے لئے رضامندی میں نے دینا تھی اولذاکر تین سکیل 17 کی آسامیاں اور تحصیل دار سکیل 16 کی پوسٹ تھی۔ والد محترم نے میجسٹریٹ کے بعد اس لئے تحصیلدار کو فوقیت دلوائی کہ دونوں ترقی کرتے کرتے ڈی سی بنتے ہیں خیر میجسٹریٹ تو میں نہ بن سکا البتہ تحصیلدار کے طور پر میری تعیناتی اور پھر ان کا سوچنا کہ میں کتنے سالوں بعد ڈی سی بنوں گا۔ ان کی اس سوچ نے مجھے تو بالآخر مورخہ 27 مارچ 2021 کو ڈپٹی کمشنر بہاولنگر بنا دیا اور ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا لیکن افسوس یہ سارا کچھ وہ بچشم خود نہ دیکھ سکے۔ لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ سارے خواب اول تو پورے نہیں ہوتے اور اگر ہو بھی جائیں تو بعینہ نہیں ہوتے۔ میں اکثر سوچوں میں کھو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں والد اور بیٹے کا بھی کیا کمال کا رشتہ ہے کہ ایک بیٹے کو کامیاب کا بنانے کے لئے عمر بھر کی کمائی لگا دی جاتی ہے۔ شاید اولاد ہی والدین کی عمر بھر کی کمائی ہوتی ہے۔ دوران ملازمت جب کبھی کوئی والد اپنے بیٹے کے خلاف یا بیٹا والد کے میرے پاس پیش ہوا تو مجھے میرے والد کی عظمت یاد آئی جو اس وقت تک زندہ رہا جب تک میں کسی کام کا نہ بنا اور جب میں برسر روزگار ہوا تو وہ پریتوں اور محبتوں کے سارے وعدے پورے کرکے دور بہت دور چلے گئے۔ کاش آج ہوتے تو وہ یہ دیکھ کر بڑے خوش ہوتے کہ اللہ تعالی نے ان کی ہر خواہش پوری کردی ہے۔
بقول راقم الحروف
تیرے بن مشتاق مجھے تو
سونا سونا گھر لگتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں