محترم ڈاکٹر اسحاق قریشی: اے بسا آرزو کہ خاک شد است ! …………. تحریر ، کاشف نعمانی

ہمارے مشرقی معاشرے میں جس طرح باپ کا دوست بھی باپ کی طرح محترم اور لائق تعظیم ہوتا ہے اسی طرح استاد کا دوست بھی استاد ہی کی طرح لائق احترام ہوا کرتا ہے۔ محترم ڈاکٹر اسحاق قریشی مرحوم سے میرا محبت اور احترام کا تعلق دوگونہ بلکہ سہ گونہ تھا۔

آپ میرے ایک استاد کے نہیں کئی اساتذہ کے دوست تھے۔ ڈاکٹر ریاض مجید، ڈاکٹر ریاض احمد ریاض، ڈاکٹر انور محمود خالد، پروفیسر عصمت اللہ خان، پروفیسر عبد الرحمن شاکر اور ڈاکٹر احسن زیدی وہ ہستیاں ہیں جن کے فیض سے میں نے علمی مدارج طے کرنے کے ساتھ بے شمار دنیوی مراتب بھی حاصل کیے۔ ان اساتذہ کی شفقت اور مہربانی تھی کہ مجھ ناچیز کو نہ صرف اپنے قدموں میں بیٹھنے کا شرف بخشتے تھے بل کہ سفر وحضر اور کلام و طعام کی محفلوں میں بھی مجھے اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ ان کی مشفقانہ معیت کے نتیجے میں مجھے جن بڑی شخصیات سے ملنے کا موقع ملا ان میں ایک شخصیت محترم ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب کی بھی تھی۔

ڈاکٹر صاحب سے میرا دوسرا تعلق استاد محترم پروفیسر ریاض احمد قریشی صاحب کے تلمذ کی نسبت سے قائم ہوا۔ میں ایف ایس سی کا نالائق سا طالب علم تھا اور پروفیسر ریاض احمد قریشی صاحب میرے عالی مرتبت استاد تھے۔ اسے میری لیاقت کہیں یا نالائقی کہ میں ان سے انگریزی تو نہیں سیکھ سکا لیکن انگریزی کے علاوہ بہت کچھ سیکھ گیا۔ اگر کسی کو مجھ میں نرم خوئی جیسی کوئی شے نظر آتی ہے تو یہ انہی کا فیض ہے۔ استاد محترم پروفیسر ریاض قریشی صاحب بھی اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب کی طرح بہت نرم مزاج اور حلیم الطبع استاد تھے۔ مجھے یہ کہنے کے لیے نہ کسی سے اجازت کی ضرورت ہے نہ کسی کی طرف سے تردید کا خطرہ ہے کہ ایک استاد کو جس درجہ مشفق و مہربان ہونا چاہیے وہ اس درجے سے کسی طور کم نہ تھے۔
کسی کے نرم لہجے کا قرینہ
مری آوازمیں شامل ہےاب تک

یہ حلم و بردباری اور شرم و وضع داری یقینا اس خاندان کے خصائص میں سے ہے کہ اسی خانوادے کے ایک اور چشم و چراغ پروفیسر سلیم صدیقی بھی، جنہوں نے ڈاکٹر صاحب سے میرے تعلق کو تیسری بعد (Third Dimension) عطا کی، انہی صفات سے متصف ہیں۔ مجھے پروفیسر سلیم صدیقی صاحب کے ساتھ کئی سال رفیق کار ہونے کا شرف حاصل رہا۔ اس دوران میں وہ ہمیشہ اپنے عالی مرتبت بزرگوں کا نقش ثانی نظر آئے۔ رفاقت کے اس طویل عرصے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات کی ہو یا اپنے بزرگوں کے کردار کے منافی کوئی رویہ اختیار کیا ہو۔

بات محترم ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب سے چلی تھی سو دوبارہ انھی سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب “نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو” کی زندہ مثال تھے۔ آپ اکثر نرم لہجے اور مدھم سروں میں گفتگو فرماتے اور مخاطب کو اپنے سر ساگر میں بہا کر کہیں سے کہیں لے جاتے۔ جب تک کسی بات پر شدت سے اصرار کرنا یا زور دینا مقصود نہ ہوتا تب تک ‘تیور سروں’ کا استعمال نہ کرتے۔ سروں کا یہ فرق تب واضح ہوتا جب آپ کبھی ڈاکٹر ریاض احمد ریاض صاحب سے محو کلام ہوتے۔ ڈاکٹر ریاض احمد ریاض اپنی تمام تر خوش اخلاقی کے باوجود ‘تیور’، اور ‘ات تیور سروں’ سے نیچے اتر کر بات کرنے کے عادی نہ تھے اور ڈاکٹر اسحاق قریشی ایسی نرم خرام ندی کی طرح تھے جو اپنے دامن میں طوفانوں کو سموئے رہتی مگر ”جوئے نغمہ خواں” کی طرح قلوب و اذہان سے گزرتی چلی جاتی تھی۔

اگر میں یہ کہوں کہ “طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض” تو جہاں میں نے ڈاکٹر ریاض احمد ریاض صاحب سے بے جا قدغنوں سے آزاد زندگی گزارنا سیکھا؛ ڈاکٹر ریاض مجید صاحب، ڈاکٹر انور محمود خالد صاحب اور ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی صاحب سے علم دوستی سیکھی؛ پروفیسر عصمت اللہ سے خوش پوشاکی اور گفتگو کا سلیقہ سیکھا؛ وہاں اپنے ان عالی مرتبت استادوں سے یہ بھی سیکھا کہ ایک اچھے استاد کو کیسا ہونا چاہیے۔ کچھ استاد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ایک اچھے استاد کو ‘کیسا نہیں ہونا چاہیے’ لیکن میں نے اوپر جن اساتذہ کا ذکر کیا ہے ان سب میں مثبت پہلو زیادہ اور کم زور پہلو بہت کم تھے۔
ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب کو میں نے ہر پہلو سے ایک مکمل استاد پایا انہیں اپنے علم پر مکمل گرفت تھی بلکہ (ہم جیسوں کی تعلیم کی غرض سے) اس کے اظہار میں بھی کبھی تامل نہیں فرمایا۔ گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے مذکورہ بالا مشفق و محترم اساتذہ کی کرم فرمائی اور قدر افزائی کے نتیجے میں مجھے اور پنجابی زبان کے بڑے میٹھے اور پختہ گو شاعر (میرے بی اے کے کلاس فیلو، بریگیڈیر) عارف منظور کو گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے ہائیڈ پارک یعنی ٹی کلب تک رسائی حاصل تھی۔ اگرچہ کچھ اساتذہ اس پر جزبز بھی ہوا کرتے تھے لیکن ہمارے ان مہربان اساتذہ نے کبھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ: “کاشف یا عارف آپ ذرا باہر چلے جائیں۔” کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹی کلب کی بے تکلف گفتگو اور فری اسٹائل مباحثوں کے دوران میں بھی میں نے محترم ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب کو کبھی ایسا کلام کرتے نہیں دیکھا جس پر مجھے نظریں جھکانی پڑی ہوں یا بھولا سا بن کر ادھر ادھر دیکھنا پڑا ہو۔ ڈاکٹر صاحب عالمانہ متانت اور سنجیدگی کا ایسا پیکر تھے کہ اول تو وہ کبھی کسی ایسی بحث میں شامل ہی نہ ہوتے جو ان کے وقار اور مقام کے منافی ہو، اگر کبھی
“کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا”
جیسے کسی محرک کے تحت لب کشائی کرتے تو ایسی تمکنت سے گفتگو فرماتے کہ اس میں اختلاف کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی اور محرک بحث کو اپنا موضوع موضوع گفتگو بدلنا پڑتا۔

یوں تو استاد محترم ڈاکٹر ریاض مجید صاحب اور ڈاکٹر انور محمود خالد صاحب کی موجودگی میں دنیا کا کوئی غیر ادبی یا غیر علمی موضوع، غیر ادبی اور غیر علمی رہتا ہی نہیں تھا لیکن اگر کبھی ڈاکٹر ریاض احمد ریاض صاحب کی شگفتہ مزاجی اور ان کا ورسٹائل مگر فری اسٹائل انداز گفتگو، محفل کا مزاج تبدیل کردیتا تو ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب کی “جوے نغمہ خواں” ٹی کلب کے کسی گوشے سے حرکت میں آتی اور گفتگو اپنا دائرہ تبدیل کر لیتی۔

میں نے مضمون کے شروع میں یہ بات کہی تھی کہ ڈاکٹر اسحاق قریشی صاحب سے میرا تعلق سہ گونہ تھا۔ اس سہ گونہ تعلق کے نتیجے میں ان سے آزادانہ گفتگو اور بے تکلف رسم و راہ میرا حق تھا لیکن میں آج سب کے سامنے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ان کی سنجیدگی اور متانت کے نتیجے میں مجھے کبھی ان کی مزاج پرسی یا طالب علمانہ سوال و جواب سے آگے جانے کی جرات ہی نہیں ہوئی۔ اے بسا آرزو کہ خاک شد است !!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں