غصہ پر کنٹرول کیسے کیا جائے ؟ ………… تحریر ، ڈاکٹر ظفراقبال رندھاوا

غصہ اس وقت آتا ہے جب آپ کے ارد گرد کوئ ایسی بات کہہ دے یا ایسا عمل کرے جس سے آپ کو زہنی یا جسمانی تکلیف پہنچتی ہو – اس کا سبب کسی کا آپ پر فزیکلی حملہ آور ہونا ، اپنے الفاظ اور اعمال سے آپ کو مشتعل کرنا یا آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنا ہو سکتا ہے – غصے کا قدرتی نتیجہ آپ کا رد عمل ہوگا جو کہ آپ غصہ دلانے والے یا والی کی ہی کرنسی میں نقد جواب دے دیں جس کا نتیجہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے لیکن ممکن ہے اس سے وقتی طور ہر آپ کے اعصابی تناؤ میں کمی آجائے – ظاہر ہے کہ یہ غصہ دلانے والے عوامل پر منحصر ہے کہ آپ کا رد عمل کیسا اور کس شدت کا ہوگا – اگر معاملہ فوری ہے پھر تو ردعمل بھی فوری ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ معاملہ وہیں ختم ہو جائے اور اعصابی تناؤ نارمل ہو جائے – اگر ایسا نہیں تو یہ فوری غصہ دائمی غصے میں دیر تک بھی رہ سکتا ہے جو کہ مستقل اعصابی تناؤ کا سبب بن کر آپ کی پوری بایئولوجی کو بدل کر رکھ دے گا –

اگر آپ کسی بھی وجہ سے مثال کے طور پر کسی فرد یا نظام کی زیادتی اور نا انصافی کی وجہ سے دائمی غصے میں رہتے ہیں تو اس کا حل تلاش کریں – کیا حل کریں ؟ کسی دن آرام سے کاپی پنسل لے کر بیٹھ جایئں اور اپنے شوق اور ہنر کی لسٹ مرتب کریں – اب اس لسٹ میں سے جو آپ کے دل سے قریب ترین ہے اور جس کے کرنے سے آپ کو سکون ملتا ہو وہ عمل روزانہ ایک آدھ گھنٹے کے لئے شروع کردیں – آپ دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ آپ کو غصے سے نجات مل جائے گی ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ عام طور پر ایسے شوق کون سے ہو سکتے ہیں جو غصہ اتارنے یا غصہ سدھارنے میں کام آسکتے ہیں ؟ لکھ کر غصہ اتارنا ، دوستوں ہم نشینوں کی بیٹھک ، کسی خدمت کے کام میں لگ جانا ، کسی کھیل یا واک پر لگ جانا ، لان اور پودوں کو مینٹین کرنا ، پرندوں چیونٹیوں یا کسی اور مخلوق کو کھلانا پلانا ، راستے میں کسی رکاوٹ کو ہٹانا ، کسی بزرگ کے پاس بیٹھ کر آپ بیتی سننا ، رات کے کسی پہر میں اٹھ کر لان یا چھت پر جا کر ستاروں کو دیکھنا اور سناٹے سے لطف اندوز ہونا ، کہیں دور سے آنے والی فجر کی اذان سننا ، کسی پہاڑ پر جھرنوں کی آوازیں سننا ، وغیرہ وغیرہ

سب کا بھلا سب کی خیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں