”یہاں آپ کے آنے سے پہلے میں جوان تھا“ …………. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

کچھ لوگ چورہوتے ہیں۔ کچھ کام چور ہوتے ہیں جبکہ کئی عمر چور ہوتے ہیں۔کسی شاندار انسان میں ان میں سے ایک سے زائد خصوصیات بھی پائی جاسکتی ہیں۔کچھ لوگ چوری کرتے ہیں اور سینہ زوری بھی جبکہ کئی ایسے بھی حضرات ہیں جو چوری کرتے ہیں تو کسی کوپتہ نہیں لگنے دیتے۔ بعض اوقات اُن کے رویے سے لگتاہے کہ خود اُن کو بھی پتہ نہیں چلا۔کئی لوگ ایسی چوری کرتے ہیں کہ ایک دنیاسینہ کوبی کرتی ہے اورکرتی ہی رہ جاتی ہے۔

میرے ایک دوست کام چورنہیں ہیں۔اس کایہ مطلب نہیں کہ میرے باقی تمام دوست کام چور ہیں۔ میرے وہ دوست اتنا کام کرتے ہیں کہ مشقت سے چور،چور ہوجاتے ہیں۔وہ عمر چور ضرور ہیں اور عمر چور بھی بلا کے ہیں۔اگر وہ کام چوری کرنے لگیں تو کوئی انہیں یہ نہیں کہے گا کہ وہ کام چور ہیں۔سب یہی کہیں گے،بچہ ہے اور بچہ اتنا بھی کام کرلے تو بہت ہے۔ اُن کی حقیقی عمر کے ”جن“ بھی اب اُن جتناکام کرکے تھوڑی تھکن ضرور محسوس کرتے ہیں۔

ایک شہرکے دو رہائشی پڑوسی اور بچپن کے دوست تھے۔ان کی عمرو ں میں دو سال کا فرق تھا۔دونوں کی ملازمت ایک ہی محکمے میں ہوگئی مگرتعیناتی الگ الگ مقامات پر ہوئی۔بہت عرصے بعدوہ ایک ضلع میں اکٹھے ہوئے تو دو سال بڑے صاحب دوسرے سے بیس سال بڑے لگتے تھے۔ بڑی عمر کے صاحب سب ملنے والوں کوفوراً یہ بتاتے تھے کہ یہ جوان مجھ سے صرف دوسال چھوٹے ہیں۔ ایک دن کم عمر دوست نے گلہ کیا ہرکسی کوعمرکے حقیقی معاملات بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر میں جوان لگتا ہوں تومیری ”ویلیو“ بنی رہنے دیں۔ بڑے صاحب نے بڑے دکھی لہجے میں کہا ”دراصل تمہارے آنے سے پہلے یہاں میں جوان سمجھا جاتا تھا“۔

ہمارے ہاں جوان لگنے کا شوق لوگوں کے گلے کا طوق بنا دیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں ”کہیں بڈھے طوطے بھی پڑھے ہیں“،”بڈھی بھینس کا دودھ“،”شکر کا گھولنا“،”بڈھے مرد کی جورو“،”گلے کاڈھولنا“اور ”بڈھی گھوڑی لال لگام“ جسے محاورے زبانیں زد عام ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں لوگ جس عمر میں جوان ہوتے ہیں ہمارے ہاں اُس سے چھوٹی عمر کے لوگوں کو بوڑھاسمجھنے شروع کردیاجاتاہے۔

ایک صاحب کاکہنا ہے کہ عمر چور شخص کبھی کام چور نہیں ہوسکتااورکام چور کبھی عمر چور نہیں ہوسکتا۔عمر چور ہونے کیلئے بھرپور محنت کرنا اورمعاملات میں باقاعدگی رکھنا بہت ضروری ہے۔عمر چور خود کو بہت ساری جائز خواہشات سے بھی روک رکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمر چور ضبط نفس کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔کام چورکچھ کیئے بغیرتھکنے کی بہترین صلاحیت کا حامل ہوتا ہے۔کچھ نہ کرکے بھی ہروقت تھکاوٹ کااحساس کام چور آدمی کی بنیادی پہچان ہے۔ایک شاعر نے کہا تھا کہ اس کا محبوب دن بھرکچھ نہیں کرتااوروہ خود دن بھر آرام کرتا ہے۔محبوب اپناکام کرتا ہے اور وہ اپنا کام کرتا ہے۔ نشترمیڈیکل کالج میں میرے ایک استادچند طلباء کے بارے میں یہ کہاکرتے تھے کہ وہ مغرب کے فوراً بعد سو جاتے ہیں اور صبح سورج نکلنے کے کافی دیر بعد بیدار ہوتے ہیں۔ان کے ذہن میں پہلا خیال یہ آتا ہے کہ ابھی تھوڑی دیر آرام نہ کر لیا جائے۔ اس پیمانے کے مطابق ہمارے کافی لوگ میڈیکل کالج کا طالب علم بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنے آپ کو بہترین حالت میں رکھنا ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے اور صحت کی بہتری کا بہترین ذریعہ بھی۔ اللہ تعالی جمیل ہیں اورجمال کوپسند کرتے ہیں۔پیغمبرؐ آخرالزماں کے ارشاد کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ مردوں کو اپنی بیویوں کے لیے بہترین صورت میں رہنا چاہیئے اور اپنی صحت اور ہئیت کا خیال رکھنا چاہیئے۔ایک صحابی کے باہر نکلے پیٹ پر کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نبیؐ نے کہا کہ اگر یہ نہ نکلا ہواہوتاتو بہت بہتر تھا۔حضرت محمدﷺ باقاعدگی سے چہل قدمی کرتے تھے۔ اکثر اوقات بیمار کی عیادت کیلئے پیدل جاتے تھے۔ اپنے دور کی مروجہ ورزشوں اور کھیلوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ کے مقابلے کے واقعات بھی سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔

صحابہ کرام اور ہمارے اکابرین محنت کرنے کے عادی تھے۔ اُس زمانے میں کا م چوری کا تصور تک نہ تھا۔لوگ دن بھر دنیا کیلئے محنت کرتے تھے اوررات بھر نوافل ادا کرتے تھے۔قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ پیغمبر خداؐ کوکہا گیا کہ وہ کچھ وقت آرام بھی کیا کریں۔حضرت محمدﷺنے مسلسل محنت اور جدوجہد کی لافانی مثال قائم کی۔آپ ؐ کی ذات ہمارے لیئے بہترین نمونہ ہے۔آپؐ دوڑ بھی لگاتے تھے،گھڑسواری بھی کرتے تھے اورتیراندازی بھی آپﷺ کا پسندیدہ مشغلہ تھی۔ صحابہ کرام بھی یہ بات جانتے تھے کہ اپنے جسم کو بہترین حالت میں رکھنا ایک پسندیدہ فعل ہے۔اس کیلئے کوشش کرناہرمسلمان پر فرض ہے۔

ہماری قوم کوکام چوروں کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ہمیں ایسے لوگ چاہئیں جن کادل بھی جوان ہواورحوصلہ بھی۔ وہ عمر چور ہوں بھی توکوئی بات نہیں بس چوراورکام چورنہ ہوں۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں