”اب بندہ گھر بیٹھے بات بھی نہیں کرسکتا“ …………….. تحریر ، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

پچھلے دنوں ایک سماجی تقریب میں ایک صاحب سے ملنے کااتفاق ہوا۔ انہوں نے بتایاکہ اُن کی بیوی لیکچرر ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ یہ مردحضرات کامشترکہ دکھ ہے۔ہر بیوی لیکچررہوتی ہے۔ چند خوش قسمت بیویاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو سرکار بھی تنخواہ دے رہی ہوتی ہے۔ باقی مظلوم خواتین کوتوصرف شوہر کی آمدن پرگزراہ کرناپڑتاہے۔لیکچرتوسب کو دینا پڑتا ہے۔المیہ مگریہ ہے کہ اثرکسی پربھی نہیں ہوتا۔خواتین مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتیں کہ وہ بھینس کے آگے بین بجا رہی ہیں،کیوں کہ بھینس تو مونث ہوتی ہے۔ گھر میں بات نہ کرسکناایک عمومی مسئلہ ہے۔ مرد عورت، دونوں متاثرین میں شامل ہیں۔ایک میر عالم صاحب اپنے گھریلوحالات سے تنگ تھے۔ایک دن انہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہنے لگے ”ایسی زندگی سے تو موت اچھی۔اللہ پاک مجھے اُٹھا لے“۔فوراًآسمان سے ایک ذی روح اُترا۔میرعالم صاحب نے کانپتے ہوئے پوچھا آپ کون ہیں؟۔جواب ملا ”آپ کی دعا قبول ہوگئی ہے۔میں موت کا فرشتہ ہوں اور آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں“۔میرعالم نے کانپتے ہوئے مگر مسکراتے ہوئے کہا ”اتنا جبرتو نہیں ہوناچاہیئے کہ بندہ گھر بیٹھے بھی دل کی بات نہ کرسکے“۔

میرعالم صاحب تو پھر بھی اپنے گھر بیٹھے دل کی بات کرسکتے تھے مگر کچھ نامور لوگوں کو اتنی آزادی بھی حاصل نہیں رہی۔ ہمارے ایک مشہورشاعراپنے گھر کے ایک کمرے میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے جوانی کی اولین محبت کو یاد کرکے آنسو بہا رہے تھے کہ اچانک زوجہ محترمہ اندر تشریف لے آئیں۔ محترمہ نے غصیلے لہجے میں پوچھا ”کیا ہوگیاکیوں ٹسوے بہا رہے ہو؟“۔جواب ملا”کچھ بھی تو نہیں ہوا،بس ذرا والدہ محترمہ کی یاد آگئی تھی۔“

ہمارے ہاں بچوں کوسختی سے منع کیا جاتا ہے کہ وہ بڑوں کی موجودگی میں خاموش رہیں۔اس لیئے بچے عموماً بڑوں کی موجودگی میں خاموش رہتے ہیں اوراُن کی غیر موجودگی میں ایسی گفتگوکرتے ہیں کہ ایک آدھ فقرہ بھی بڑوں تک پہنچ جائے تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔بعض اوقات تواُن کو چپ لگ جاتی ہے۔اکثر بزرگ اپنی موجودگی میں کسی کو بولنے نہیں دیتے اور اگر کوئی بول پڑے تو پھر اُس کے ساتھ وہی ہوتا ہے-:
لمحوں نے خطا کی
صدیوں نے سزا پائی

ایک انتہائی دھیمے مزاج کے نفیس انسان ایک چھوٹے ضلع میں ایک انتظامی محکمہ کے سربراہ بن گئے۔وہ اپنے ایک ماتحت کو جوبھی ڈاک بھیجتے،اُس کا جواب کئی کئی دن نہ آتا۔ایک دن انہوں نے موصوف کو طلب کیااورنہایت سلجھے ہوئے لہجے میں اس رویہ کی وجہ دریافت کی۔ جواب ملا”ہمارے ہاں بڑوں کوجواب دینااچھانہیں سمجھاجاتا“ وہ لاجواب ہوگئے۔ اتنے قابل آدمی کوایک چھوٹے سے ضلع میں مزید خوار ہوتانہ دیکھ سکے۔فوراًصوبائی دارلحکومت روانہ کردیا۔

سوال کرنا بھی ہمارے ہاں اچھا نہیں سمجھاجاتا۔یہ روایت مگر تعلیمی اداروں تک محدود ہے۔شاہ راہوں اور چوراہوں پرلوگ سوال کرتے ہیں اورمتواتر کرتے ہیں۔ کوئی تفریحی مقام سوال کرنے والوں سے خالی نہیں ہے۔بعض اوقات تو بندہ یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ عمر کا دامن تنگ ہے اورسوال کرنے والے بہت۔

تعلیمی اداروں میں سوال کرنے اور سوال سننے کارواج کچھ عرصہ پہلے تک بالکل نہیں تھا۔اچھا اُستاداُسے سمجھاجاتاتھاجس کے تدریسی کمرہ میں مکمل خاموشی ہو۔ کسی بھی طالب علم کوسوال کرنے پراُستادایسی نظروں سے دیکھتا تھا کہ بے ساختہ پروین شاکریاد آجاتی تھیں -:
میرے پاس اتنے سوال تھے میری عمر سے نہ سمٹ سکے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تری ایک نگاہ میں آگئے

ایک یونیورسٹی میں ایک انتہائی اہم شعبے کے سربراہ تدریسی سال میں ایک لیکچر خود دیتے تھے۔ اگرکوئی اُن سے ایک سوال کرنے کا مرتکب ہوتاتھا تو وہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ وہ دوبارہ بھی سوال کرے۔ تمام چیزیں جوڑا جوڑا پیدا کی گئی ہیں تو سوال اکیلا کیوں؟ یہ الگ بات ہے کہ طالب علم کو اگلے سوال کاموقع اگلے سال ملتا تھامگرجوڑا پورا ہوجاتاتھا۔

ہمارے ہاں اکثر لوگ اپنے علم کے دریاکی روانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت کرنے کیلئے قطعاً تیار نہیں ہوتے۔ وہ ایک آدھ سوال تو سہہ جاتے ہیں مگر سوال کرنے والے بہہ جاتے ہیں اورکلاس میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔زندگی میں مگر وہی لوگ آگے نکلتے ہیں جوکمرہ جماعت میں سوال کرتے ہیں اورباقی مقامات پر عموماً خاموش رہتے ہیں۔خاموشی ہی دانائی ہے مگرجہاں سوال علم اوردانش کا ہو،وہاں خاموشی مستقبل کی رسوائی ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی مجلس میں ایک نوجوان نے بزرگوں کی موجودگی میں کوئی رائے دی تو آپ نے اُسے خاموش رہنے کاکہا۔نوجوان نے نکتہ اُٹھایاکہ اگربزرگی ہی دانائی کامعیارہے تو آپ خلافت بھی کسی بزرگ کے حوالے کردیں۔آپ نے نوجوان کے جواب پرمسرت کااظہار کیا۔

بعض سوال کسی کوبے حال کرنے کے لئے کیئے جاتے ہیں توکئی سوال علم کا کمال ہوتے ہیں۔بعض دفعہ سوال نہ کرنے والاساری زندگی ملال کرتارہتاہے۔ایک مفکر کے مطابق علم سوال کرنے کاہی دوسرا نام ہے۔ قرون اولی کے مسلمان سوال کرنے کوپسند کرتے تھے مگردنیاوی مقصد کے لیئے دستِ سوال دراز کرنے کا رواج بالکل نہ تھا۔تعلیمی درس گاہوں کی بہتات تھی۔اساتذہ کے حلقے جگہ جگہ قائم تھے۔ علماء لوگوں کوتعلیم دینااپنی زندگی کا واحدمقصد سمجھتے تھے۔سوال وجواب کاسلسلہ مسلسل جاری رہتاتھا۔لوگ جانتے تھے کہ دین ”اقرا“ ہے”اکراہ“نہیں۔حصول علم کے لیئے سینکڑوں میلوں کا سفر کیاجاتاتھاتاکہ جاننے والوں سے سوال کیاجائے اورعلم کی پیاس بجھائی جائے۔

قرآن کہتاہے کہ جس بابت انسان علم نہیں رکھتا،اُسے چاہیئے کہ وہ اہل علم سے اس بارے میں سوال کرے۔دین فکر اور تدبر کاحکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے فرمایا ”جس شخص سے کسی علم کے بارے میں سوال کیاجائے اور اُس نے باوجود علم کے اُسے چھپایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے آگ کی لگام ڈالیں گے“۔حضرت علیؓ سے مروی ہے ”علم خزانہ ہے،سوال اس کی چابی ہے۔اللہ پاک تم پررحم فرمائے۔ سوال کیاکروکیونکہ سوال کرنے کی صورت میں چارافرادکو ثواب دیاجاتا ہے۔سوال کرنے والے کو،جواب دینے والے کو،سننے والے کو اور اُن سے محبت کرنے والے کو“۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں ”علم میں زیادتی تلاش سے اورواقفیت سوال سے ہوتی ہے۔جس کا تمہیں علم نہیں اُس کے بارے میں جانواورجوکچھ جانتے ہواُس پر عمل کرو“۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کائنات میں غوروفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں حقیقی اور نافع علم عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ”علیم“ہے اورعلم حاصل کرنے والے سے محبت کرتاہے۔دعا ہے کہ ہماراشمار بھی آخری سانس تک تحصیل ِعلم میں مصروف رہنے والوں میں ہو۔آمین۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں