مفکر پاکستان علامہ اقبال کی چک جھمرہ سے نسبت …………… تحریر، افضال تتلا

صاحب جب ڈاکٹر صاحب نے دم دیا تو میں ان کے بالکل قریب تھا صبح سویرے میں نے ان کو فروٹ سالٹ پلایا اور کہا اب آپ کی طبیعت بحال ہوجائے گی لیکن عین پانچ بج کر دس منٹ پر ان کی آنکھوں میں ایک تیز تیز نیلی نیلی سی چمک آئی اور زبان سے اللّٰہ ہی اللّٰہ نکلا میں نے جلدی سے ان کا سر اٹھا کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور انہیں جھنجھوڑنے لگا لیکن وہ رخصت ہوگے تھے”یہ الفاظ مفکر پاکستان شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے خادم خاص علی بخش کے تھے ان الفاظ کا تذکرہ قدرت اللّٰہ شہاب صاحب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں کیا جو میں یہاں پر یوں کے توں ہی لکھ دیے ہیں کیونکہ ان الفاظ کو میں اپنے طریقہ تحریر میں لکھوں تو شاید ان الفاظ کی توہین ہو اور ویسے بھی میں ابھی اس قابل نہیں۔قدرت اللّٰہ شہاب صاحب لکھتے ہیں کہ وہ ڈپٹی کمشنر جنگ تھے تو کسی کام سے لاہور گے تو وہاں پر ایک جگہ خواجہ عبد الرحیم صاحب سے ملاقات ہوگئی باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ علامہ اقبال کے دیرینہ خادم علی بخش کو حکومت نے اُن کی خدمات کے سلسلے میں لائل پور میں ایک مربعہ زمین عطاء کی ہے وہ بیچارا کئی بار چکر لگا چکا ہے لیکن قبضہ نہیں ملتا کیونکہ کچھ شریر لوگ اُس زمین پر ناجائز قابض ہیں –

جھنگ لائل پور کے قریب ہے کیا تم علی بخش کی کچھ مدد نہیں کرسکتے؟یوں قدرت اللّٰہ شہاب صاحب نے علی بخش کو اپنے ساتھ لیا اور زمین کو ناجائز قابضین سے واگزار کروانے کی ٹھان لی یہ زمین انہوں نے کس طرح واگزار کروائی اس پر ہم بعد میں بات کریں گے پہلے میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ علامہ اقبال کے خادم خاص علی بخش کو یہ زمین فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 188ر۔ب نلے والا میں الاٹ ہوئی تھی اس زمین کی موجودہ پوزیشن کیا ہے یہ پہلوں ہم بعد میں زیر بحث لائیں گے پہلے آپ یہ جان لیں کہ ضلع ہوشیارپور کے موضع اٹل کا رہنے والا علی بخش جب علامہ صاحب کے پاس آیا اس کی عمر چودہ سال تھی اس نے چالیس سال علامہ صاحب کی خدمت میں گزارے علی بخش لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا علامہ اقبال صاحب کی وفات کے بعد بہت سے لکھاریوں نے علامہ صاحب پر لکھنے کی جب بھی کوشش کی علی بخش سے ملتے رہے علی بخش کی یادوں کے دریچوں سے ہی پتہ چلا کہ علامہ صاحب کے کپڑے قلعہ گجر سنگھ کا ایک بوڑھا درزی نظام الدین سلائی کرتا تھا درزی کو ڈاکٹر صاحب سے بہت محبت تھی وہ بڑے دھیان اور احتیاط کے ساتھ ان کے کپڑے سلائی کرتا تھا علامہ صاحب ولایت جانے سے پہلے سوٹ نہیں پہنتے تھے بعد میں بھی انہوں بہت کم سوٹ زیب تن کیا علی بخش علامہ اقبال صاحب کی وفات کے بعد بھی اس اس خاندان سے منسلک رہے جب 1969ء علی بخش کی وفات ہوئی تو علامہ اقبال کے صاحب زادے جاوید اقبال بھی جنازے میں شریک ہوئے علی بخش کی تدفین بھی اسی گاؤں یعنی نلے والا کے ہی قبرستان میں ہوئی ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس کی گود میں مفکرِ پاکستان نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی وہ اب فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ کی گود میں ابدی ننید سو رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم ان کی قبر تک کو بھول چکے ہیں-

میں جب علی بخش مرحوم کے کھوج میں نکلا تو یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ جھمرہ کے بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ ان کی تدفین یہاں کے گاؤں 188ر۔ب نلے والا کے ہی قبرستان میں ہوئی ہے میں جب اپنے دوست مقامی صحافی عمر شفیق کے ساتھ علی بخش کی قبر پر پہنچا تو میں قبر کی خستہ حالی دیکھ کر دکھی سا ہوگیا برگد کے درخت کے نیچے دو قبریں جو درمیان سے کچی اور سائیڈوں پر پختہ اینٹوں کے کناروں سے بنی ہوئی تھی اینٹوں پے لگے ہوئے سمینٹ میں بھی جگہ جگہ دراڑیں پڑی ہوئی تھی قبروں کے اوپر سوکھے ہوئے پتے عجیب سی اداسی کا ماحول پیدا کررہے تھے ایک قبر پر علی بخش ولد حیات بخش دیرنیہ خادم علامہ محمد اقبال تاریخ وفات 2 جنوری 1969ء لکھا ہوا تھا جبکہ دوسری قبر پر محمد اقبال ولد مہردین تاریخ وفات 18ستمبر 2003ءدرج تھا میں نے فاتح کے لیے ہاتھ اٹھائے بے ساختہ آنکھوں کے کنارے بھیگ گے اور زندگی کی بے وفائی پر یعقین مزید پختہ ہوگیا فاتح خوانی کے بعد ساتھ والی قبر کے حوالے سے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ علی بخش صاحب کے بھتیجے کی قبر ہے اور ساتھ میں یہ بھی جاننے کو ملا کہ علی بخش کی موجودہ قبر چند سال قبل یہاں پر منتقل ہوئی ہے ورنہ یہ قبر اس قبرستان کی بیرونی دیوار کے ساتھ تھی مگر ایکسپریس وے کے نام سے بننے والی سڑک پر جب کام شروع ہوا تو اس قبرستان سے ایک سو دس کے قریب قبروں کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا جن میں علی بخش کی قبر بھی شامل تھی اب ہم آتے ہیں علی بخش کو ملنے والی زمین کی جانب تو یہ زمین ان ہی کے خاندان کے پاس ہے تاریخی حوالوں کے مطابق علی بخش کی شادی تو ہوئی مگر کسی وجہ سے ازواجی زندگی کامیاب نہ ہوسکی پھر انہوں نے پوری زندگی شادی ہی نہ کروائی اس طرح ان کی اپنی اولاد تو نہیں تھی پر ان کو ملنے والی زمین ان کے بھائی کے پاس آگئی اب یہ زمین کا ٹکڑا ایکسپریس وے کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے کافی مہنگا ہوگیا ہے علی بخش کے نام کی نلے والا گاؤں میں مقیم ان خاندان کے کسی فرد نے مین بازار میں ایک فارمیسی بھی بنائی ہوئی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اب علامہ اقبال کے خادم خاص کو بالکل کو فراموش کردیا گیا یہاں تک کہ اب اس گمنام سی قبر بھی خستہ حال ہوچکی ہے شاید اس گمنام سی قبر پر آواز اٹھانے والے مجھ جیسے گمنام سے لکھاری کی تحریر ارباب اختیار تک پہنچ پائے یا نہیں اور پہنچ بھی جائے تو ممکن ہے صاحب اختیار کے پاس پڑھنے کا وقت ہو یا نہ ہو یہ تو اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے پر میں یہاں پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر حکومت پنجاب رنجیت سنگھ کا مجسمہ بنانے پر لاکھوں کا بجٹ لگا سکتی تو علی بخش کی قبر پر بھی علامہ صاحب کے مزار کی طرز کا چھوٹا سا مزار بنوا دیں اور اس مزار پر ان کا مکمل تعارف اور علامہ صاحب کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کے کچھ واقعات بھی تحریر کروا دیں ہوسکے تو علامہ صاحب کی کچھ شاعری بھی لکھوا دی جائے تاکہ گمنامی میں خستہ حال اس قبر کو تاریخی ورثہ کے طور پر محفوظ کیا جاسکے-

اسی طرح ڈی سی فیصل آباد یا اسٹنٹ کمشنر چک جھمرہ اگر تھوڑی سی بھی کوشش کریں اس قبر پر چند لاکھ لگا کر کم از کم تحصیل سطح پر اقبال کی اس یاد کو نئی نسل کے ذہنوں اجاگر کرواسکتے ہیں یا پھر کوئی سیاسی و سماجی شخصیت ذاتی طور اگر علی بخش کی قبر کو محفوظ بنانے پر کچھ کرسکتے ہیں تو ان کو اس کار خیر میں ضرور حصہ لینا چاہیے اسی طرح ایکسپریس وے پر نلے والا فلائی اوور کا نام اگر علی بخش فلائی اوور رکھا دیا جائے یا چک جھمرہ مین چوک نام،نہیں تو نلے والا مین چوک یا روڈ کا نام اگر یہ بھی نہیں تو کم از کم اس قبرستان کا نام ہی علی بخش سے منسوب کردیں ورنہ چک جھمرہ کے ساتھ علامہ صاحب کی وابستہ یہ نسبت ختم ہوجائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں