”ہیر،جاگیر اورزندگی گھمبیر“ ……………. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

میرے ایک دوست پڑھے لکھے، خوبصورت انسان ہیں۔ اچھی ملازمت کرتے ہیں۔انہوں نے ورثے میں نہ کوئی جاگیر پائی اورنہ ہی دورِ طالب علمی میں اور دورِ ملازمت میں آج تک کوئی”ہیر“کمائی۔مگر یہ محتاجی،یہ محرومی نہیں ہے اُن کیلئے باعثِ رسوائی۔وہ حال مست،کھا ل مست انسان ہیں۔ آپ اپنی پہچان ہیں۔دوستوں کی محفل کی جان ہیں۔غم سے انجان ہیں۔وہ ہمیشہ رہتے ہیں تن بہ تقدیر۔اُن کا نعرہ ہے نہ ”ہیر“ نہ ”جاگیر“ نہ زندگی ”گھمبیر“ اورمسرت کثیر۔اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب نہ وہ ”ہیریں“ہیں صرف تقریریں ہیں، نہ وہ رانجھے ہیں نہ ہی معاملات سانجھے ہیں۔اُن کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ پہلے ہمارے ہاں قید تنہائی کی سزاخطرناک ترین مجرموں کوملتی تھی۔اب یہ سزا ہم نے اپنے بزرگوں کوخود ہی دینا شروع کردی ہے۔میلے، ٹھیلے سے محبت کرنے والا معاشرہ اکیلے پن کاشکاربھی ہوچکا ہے اور اب تو اکیلے پن کوپسند بھی کرنے لگا ہے۔نفسیاتی وارڈ کا ایک لطیفہ اُن کا پسندیدہ ہے”ایک صاحب وہاں دورے پر گئے تودیکھاکہ ایک آدمی زور زور سے دیوار کوٹکریں ماررہا ہے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ کسی بنت حوا کاعاشق تھا مگر تمام تر کوشش کے باوجود اُس سے شادی نہ کر سکا۔وہ صاحب آگے گئے تو دیکھا کہ ایک اورآدمی دیوارکوٹکریں بھی ماررہا تھا اور خود کو دانتوں سے کاٹ بھی رہا تھا۔ استفسار پر بتایا گیا کہ یہ بھی اُسی بنت حوا کا عاشق تھا مگر اس کی شادی بھی اُسی سے بغیرکسی الجھن کے ہوگئی تھی۔“

زندگی ”ہیر“ یا ”جاگیر“ کی بدولت ”گھمبیر“ ہوتی ہے یااُن کے نہ ہونے سے، اس بابت کچھ کہنا انتہائی مشکل ہے۔ تقدیر اورتکفیر کے معاملات پرہرآدمی کوبات نہیں کرنی چاہیئے۔یہ علماء کاہی منصب ہے اور اُنہی کو زیب دیتا ہے۔میں مگر اتنا جانتا ہوں کہ اپنی زندگی ”گھمبیر“ بنانے میں ہمارا اپنا بھی بہت کردار ہوتا ہے۔جس شخص کو خود سے پیار ہوتا ہے، سادگی ہمیشہ اُس کا شعارہوتاہے۔زندگی جتنی پیچیدہ کرلی جائے ”گھمبیرتا“اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے اوردنیابندے کے سر کو چڑھتی جاتی ہے۔”ہیر“ یا ”جاگیر“ خوشی کا حتمی سبب نہیں ہوتے۔میرے خیال میں خوش رہنے کیلئے من کا فقیر ہونا زیادہ ضروری ہے۔

کوئی ساری زندگی اس لیئے روتا رہتا ہے کہ اُس کی ”ہیر“ نہیں ہے۔زندگی میں ”ہیر“ہو تو بندے کی بات میں تاثیر زیادہ ہوتی ہے یا بندے کی زندگی گھمبیر زیادہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں دونوں رائے ہوسکتی ہیں۔”ہیر“ کی برکت سے بندہ تقریر زیادہ کرنے لگتا ہے یا بندے کو تقریر زیادہ سننا پڑتی ہے۔اس بابت بھی دونوں طرح کے واقعات تجربے میں آتے ہیں۔ ہیر،جاگیر اور تقدیر کے معاملات بڑے گھمبیر ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی ”ہیر“ایسی ہوتی ہے جو آتی ہے تو جاگیر بھی ساتھ لاتی ہے مگر کسی کے آنے سے جاگیربھی چلی جاتی ہے اور پھروہ خود بھی چلے جاتی ہے۔کوئی من کا قرار لے جاتی ہے تو کوئی زندگی کا کاروبار لے جاتی ہے۔ہمارے ایک شاعر نے اپنے محبوب کے بارے میں کہا تھا کہ”اب اگروہ مل بھی جائے تو اُس کی فرقت کے صدمے کم نہیں ہوسکتے“۔

ہمارے ہاں کسی کو یہ دکھ ستاتا ہے کہ وہ صاحبِ جاگیر نہیں ہے۔کوئی اس لیئے روتا رہتا ہے کہ اچھی اُس کی تقدیر نہیں ہے۔ واصف علی واصف نے بجا کہا کہ”خوش قسمت وہ ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہو“۔ہمارے ہاں کسی نہ کسی بات پر رونے کا رواج بڑھتا جارہا ہے میرے خیال میں ہمیں ”ہیر“،”جاگیر“ یا اپنی تقدیر سے زیادہ اپنے ”ضمیر“ پررونا چاہیئے۔ ہمارے معاشرے کا اجتماعی ضمیربڑا خوبصورت تھااور ہے مگر ہم اپنی روایات کی خوبصورتی اپنی آنے والی نسلوں تک بہترین طریقے سے منتقل نہیں کرپارہے۔یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور من حیث القوم ہمیں اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

تدبیر اور تقدیر کا رشتہ بہت عجیب ہے۔ہمارے ہاں کہاجاتا ہے کہ اگر تقدیر اچھی ہوتو اُلٹے اقدام بھی سیدھے نتائج کاباعث بنتے ہیں۔ اگر تقدیر ہاری ہوئی ہوتو سونا بھی ہاتھ لگانے سے مٹی ہوجاتاہے۔ایک شاعر نے اپنادُکھڑا کچھ اس طرح سے رویاتھاکہ تقدیر کے موسم میں محنت کتنی کی جاسکتی ہے اوربندہ جتنی بھی محنت کرلے اُس کا فائدہ کیاہے؟۔ تقدیر اور تدبیر کا رشتہ بہت گھمبیر ہے۔اُمت کے زوال اور کمال میں اس رشتے کی نزاکتوں کابڑا عمل دخل ہے۔ تقدیراورتدبیردونوں کی اپنی اپنی تاثیر ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری تدبیر اللہ تعالیٰ کی تقدیرسے قبولیت کاشرف پائے اوراُمت یدبیضا پرپھر سے عروج آئے۔
میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھ
کھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھ

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں