خواہشات اور انسان ! …………………… تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

میں اپنی خواہشات کو دفن کرنا چاہتا ہوں اور یہ کم بخت مجھے اتنا الجھا دینا چاہتی ہیں کہ میں گھٹ گھٹ کر ویسے ہی مر جاؤں اور میرے تابوت پر یہ لکھ دیا جائے خواہشات کا مارا ہواانسان۔ یہ ہے میرے اور میری خواہشات کے درمیان لڑائی۔ لیکن میں مروں گا نہیں بلکہ ان کو مار کے دنیا والوں کو بتا دوں گا کہ ان سے بچو خدارا ان سے بچو۔ یہ کبھی آپ کو گھر سے نکلنے پر مجبور کردیتی ہیں کبھی آپ کو سلطان راہی کی فلمیں دیکھ کر بڑھکیں مارنے پر مجبور کرتی ہیں کبھی آپ کو گھر پر مکھیاں اور کبھی گھر سے باہر گپیں مارنے پر مجبور کرتی ہیں۔ کبھی آپ کسی حسینہ چارسوویہہ کے لئے سماج کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں اور پھر چھترول ہی چھترول۔ جائیدادوں کے جھگڑے آپ کو باپ کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں اور بعض اوقات بھائی بھائی کا گریبان پکڑ لیتا ہے۔ اپنی شوخ بیوی کے لئے ماں سے الجھ کر آخرت خراب لیتے ہیں۔ گاڑی پارک کرنے کے لئے اپنے ہی ہم وطن کی ماں بھین ایک کردیتے ہیں۔ اچھی گاڑی،اچھا گھر اور مشہوری کے لئے عزت کو توڑ مروڑ کر خاک میں ملا دیتے ہیں۔ ہائے خواہشات تو نے ہم سے کیا کیا کروادیا ہم نے توکھوتا کبھی نہیں مارا تھا تم نے ہم سے ابن آدم مروا دیا۔ اب آدم اپنے رب کو کیا منہ دکھائے گا۔

تاریخ گواہ ہے جس نے بھی خواہشات پر کنٹرول کیا اور اعتدال کا راستہ اپنایا اس پر سکھ سکون اور استراحت کے سارے راستے کھل گئے اور وہ ہر میدان میں سرخرو ہوا اور جو بھی لوبھ اور لالچ میں پڑگیا وہ ایک “لمیں رولے” میں پڑ گیا اور ان رولوں نے اس کو ہمیشہ کے لئے “رول” کے رکھ دیا اور اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جہاں پر کچھ بھی رول بیک نہیں ہوتا۔ اور جب ایسا انسان دنیا سے رول بیک ہوتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی خام خیالی پر ہلکی ہلکی سمائل دے کر طنز کررہا ہوتا ہے۔ اس کے ڈسے ہوئے لوگ خوب کھل کھلا کر ہنس رہے ہوتے ہیں اس طنزومزاح میں اس کی اس دنیا سے رخصتی ہوتی ہے جس دنیا کو وہ فتح کرنا چاہتا تھا۔ جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا –

یقیناً خواہشات جب مرحوم ہو جاتی ہیں تو حسرتوں کا روپ دھار لیتی ہیں اور انسان ایسے موڑ پر دنیاءومافیہا سے مکمل طور پر محروم ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی محرومیوں،ناکامیوں اور مایوسیوں پر شاعر مشاعرہ منعقد کرتے ہیں اور آنے والی نسل کو پندونصائح سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ افسوس ہم اشعار کو سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ لمحاتی کیفیت سے ہی لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ اسی لطف نے ہی تو خواہشات کا تیا پانچا کیا ہوتا ہے۔ کاش مشاعروں میں اشعار کی تشریح بھی ہوجاتی تو شاید اشعار میں بیان کئے گئے حسن و عشق کے مضر اثرات کا بھی ہم سب کو معلوم ہوجاتا اور ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کرلیتے یوں کئی گھر اجڑنے سے بچ جاتے اور ویسے بھی بچوں کو ان اشعار کے حوادث سے بچانا بہت ہی ضروری ہے۔ بعض اوقات اچھا خاصا شریف انسان بھی کسی شعر کو سن کر اچھا خاصا سیریس ہو جاتا ہے اور پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ خواہشات کے جن کو ایک دفعہ بوتل میں بند کردیا جائے اور پھر اس کو باہر نہ نکلنے دیا جائے تاکہ اس کو بھی پتہ چلے کہ باہر اور اندر کی دنیا میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔

کہتے ہیں کہ جب گوتم بدھ پیدا ہوا اس کے بادشاہ باپ نے اس وقت کے مایہ ناز نجومیوں کو بلایا تاکہ نومولود بچے کے مستقبل کا پتہ لگایا جا سکے۔ ایک نجومی نے بتایا کہ اگر اس بچے کو دنیا کی ہوا نہ لگی تو یہ ایک بہت بڑا بادشاہ بنے گا اور اگر لگ گئی تو یہ بہت بڑا سادھو بن جائیگا۔ آفرین ہے اس وقت کے نجومی کی استعداد پر۔ اگر پاکستانی مایہ ناز نجومی ہوتا تو مایہ بھی ٹکا کر لیتا اور اصل بات پھر نہ بتاتا۔شاید بتا بھی نہ سکتا اس نے تو ہر کسی کو محبوب کو قدموں میں ہی گرانا ہوتا ہے۔اور اب محبوب کئی کئی مہینے جرابیں دھلانے کی زحمت نہیں کرتا باقی بات آپ خود سمجھ جائیں۔بادشاہ مذکور نے بچے کو اندر ہی رکھنے کا حکم صادر فرمایا اور یوں کئی ماہ و سال گزر گئے حتی کہ بچے میں باہر کی دنیا دیکھنے کی جستجو پیدا ہوئی اور اس نے اپنے خادم کو ڈرا کر یا لالچ دے کر اسے باہر جانے کے لئے تیار کرلیا۔ جب اس نے آنکھ کھول کردنیا کو دیکھا تو اس کو ہر شخص بہت ہی پریشان لگا یہ دیکھ کر وہ خود پریشان ہو گیا اسی اثنا میں اس کو ایک بزرگ نظر آئے جن کے چہرے پر اطمینان اور سکون تھا۔ وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ خواہشات کا نام دنیا ہے اور دنیا کی اس آگ میں تو پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں۔ یوں گوتم بدھ نے خواہشات کا خون کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا اور اپنے آپ کو دور بہت ہی دور لا کر نروان کے چبوترے پر بٹھا دیا۔ یوں اندر اور باہر کی دنیا میں بھی فرق واضح ہوگیا۔ فقر بھی خواہشات کی قربانی دینے کا نام ہے۔ فقر میں صبر ہے اور اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ یقیناً جن کے ساتھ اللہ ہوتا ہے وہ ہر چیز سے مالا مال ہوتا ہے اور صفت غنائیت سے بھی متصف ہوتا ہے۔

نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ والہ ولسلم نے فرمایا تھا کہ فقر میرا فخر ہے۔ شاید فخر کرنے کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے اور یہ کہنے کو تو آسان کام ہے لیکن کرنے کے لئے سوچ کے جانور کو پختہ یقین کے ساتھ ذبح کرنا پڑتا ہے۔ صوفیاء کا سارا پروگرام ہی جہاد بالنفس ہے اور اس کی عملی شکل یہ ہے کہ یہ حضرات اپنی خواہشات کے الٹ کام کرتے ہیں مثال کے طور پر اگر یہ حلوہ کھانا چاہیں تو یہ نمک پارے کھا لیتے ہیں اور حلوہ مولویوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اگر کوئی چہرہ ان کو خوب لگے تو یہ فوری آنکھیں بند کرلیتے ہیں اسی طرح اگر کوئی ان کو برا بھلا کہے تو یہ خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ یہ خواہشوں کی تکمیل کے لئے دردر دھکے نہیں کھاتے بلکہ ان کی شان بے نیازی مخلوق کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ شاید یہ وجہ ہے کہ آستانے معرض وجود میں آئے اور پھر ان کے وارثوں نے خواہشات کو سینے سے لگا لیا مجاہدہ مراقبہ اور ریاضت کی جگہ محلات، بڑی گاڑیوں اور زرق برق نے لے لی اور فقر اور تصوف کا اصل چہرہ ہی بدل گیا اور نقل کو اصل بنا کر پیش کیا جانے لگا اور ایسے لگا کہ خواہشات پر کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ایک دفعہ میں نے بھی اپنی خواہشات کو مارنے کی خواہش کی اس کے بعد میری ساری خواہشات نے مل کر میری اس خواہش کو ہی زندہ درگورکردیا اب میں بس یہ سوچتا ہی ہوں اور پھر سوچتا ہوں اور پھر اس سوچ کو خود ہی مار دیتا ہوں۔ سوچوں میں ڈوبا وہ انسان ہوں جو آج تک اندر اور باہر کی دنیا میں فرق نہیں کرسکا۔ جس کو آج تک یہ بھی نہیں معلوم ہوسکا کہ سکون کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور میں وہ شخص ہوں جو خواہشات کو پال پوس کر جوان کرتا ہوں اور پھر جب ان کو مارنے کی کوشش کرتا ہوں تو پھر دل کمبخت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ارادہ ترک کر دیتا ہوں۔ اور جب ان خواہشات کےپورے ہونے کا وقت آتا ہے تو یہ خود بخود ہی دم توڑ جاتی ہیں اور حسرتیں رہ جاتی ہیں جن کو کہیں اور جانے کا آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے مشورہ دیا تھا لیکن مشوروں پر کب کوئی عمل کرتا ہے۔ ویسے طبی مشوروں سے کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن خواہشات کی تکمیل بہرحال اب بھی تشنہ لب ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں