”صحافیوں کالانگ مارچ“ …………… تحریر، شہبازعلی ہادی

حکومت اپنا کام صیح کیوں نہیں کررہی؟ادارے قانون وآئین کی پاسداری کیوں نہیں کرتے؟عام آدمی کوتحفظ کیوں میسر نہیں؟اورعوام کے مسائل حل کیوں نہیں کئے جارہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کی پاداش میں صحافیوں کوغائب،تشدد اورموت کے گھاٹ اتارے جانے کی سزائیں مل چکی ہیں۔سلسلہ یہیں تک نہیں رکا بلکہ ان کا معاشی قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ یہاں پرکسی کوتنقید برداشت نہیں۔اسی لئے ناقابل برداشت لوگوں کو گولی ماری جاتی ہے،غائب کیا جاتاہے،ہاتھ پاؤں توڑے جاتے ہیں اور پھرسفاکی سے قتل کردیا جاتاہے۔درج ہونے والے کیسز کے نتائج نہیں آتے صرف دھمکیاں آتی ہیں۔رواں سال کے دوران مارچ میں سکور کے اجے لالوانی،اپریل میں کرکے کے وسیم عالم خٹک،عبدالوحید رئیسانی اوراب بلوچستان کے شہزاد ظاہری قتل ہوئے جبکہ مطیع اللہ جان،سیدعمران شفقت،عامر میر،وارث رضا ودیگر کواٹھانے اورہراساں کرنے کے بعد چھوڑدیا گیا اورجن لوگوں نے اپنی زبان کو لگام نہیں دی پھر انہیں گولی کی زبان سمجھائی گئی جیساکہ اپریل کے ماہ میں معروف صحافی ابصار عالم کے ساتھ ہوا،اسی طرح جنوری میں حیدر آباد کے جی این مغل،مئی میں اسدعلی طور اورجولائی میں اصغر جعفری کوتشدد کانشانہ بناگیا اوران کے حق میں آواز اٹھانے پر حامد میرجیسے صحافیوں کی زبان بندی کروادی گئی۔مسینگ جرنلسٹ مدثر نارو کی واپسی کے انتظار میں اس کی بیوی خوداس دنیا سے چل بسی۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ نے اپنے جاری کردہ وائٹ پیپرمیں پاکستان کوپانچویں نمبر پررکھاہے جوصحافیوں کے لئے خطرناک ممالک میں شامل ہے جبکہ صحافیوں کے خلاف دیدہ اورنادیدہ قوتوں کی جانب سے کئے جانے والے حملوں کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت خاصہ اضافہ ہواہے۔صحافیوں کیساتھ اسلام آباد میں پیش آنے والے ہولناک واقعات پرمبنی فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ(2020-2021ء) قابل توجہ ہے جس میں کہا گیا کہ ملکی سطح پر درج ہونے والے 148 کے لگ بھگ کیسز میں سے51فیصد کاتعلق اسلام آباد سے ہے،جس میں 6صحافی قتل ہوئے،7پرقاتلانہ حملے ہوئے،5کواغوا،26گرفتاراور27 کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔یہ حال ملک کے درالحکومت کاہے توصوبوں،شہروں،چھوٹے قصبوں اورکچے جیسے علاقوں میں صحافیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟؟(جن کی خبر بھی ان کی لاش کے مسخ ہونے کے بعد ملتی ہے) ہم اس کااندازہ لگا سکتے ہیں۔اس حوالے سے پی ایف یوجے نے آگہی مہم کے ذریعے جرنلسٹ پروٹیکشن بل کی منظوری کیلئے بھرپور جدوجہد کی۔تمام ترمزاحمتی رکاوٹوں کے باوجود بل تو منظور ہوگیا لیکن ابھی بھی آزادی اظہار رائے اورآزادی صحافت کے خلاف یہ سلسلہ ء ستم نہ رک سکاہے۔

پہلی بار فوادی چوہدی وزیراطلاعات بنے تو انہوں نے ملک کی بڑی میڈیا انڈسٹری کوتباہ کردیا۔جہاں پی ٹی آئی حکومت نے لوگوں کیلئے ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنا تھیں وہاں پر انہوں نے ملک کے لاکھوں صحافیوں کو بے روز گار کردیا۔اشتہارات کے سرکاری ریٹ کم کئے اورریجنل کوٹے کوختم کیاجس کاخمیازہ میڈیا ورکرز کوبھگتنا پڑا۔اے پی این ایس نے واجبات کی ادائیگی اوراشتہارات کے نرخ وغیرہ کیلئے حکومت سے مذاکرات کئے لیکن ان کی بات حکومت نے رد کردی جس پرمیڈیا مالکان نے اپنے منافع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ایک بڑی تعداد میں ورکرز کونوکریوں سے فارغ کردیا۔اس معاملے میں ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ نے بری طرح اپنے لوگوں کونکالا۔اس وقت میڈیا مالکان ڈویژنل اخبارات چھاپ رہے ہیں اوراشتہارات کی مد میں پیسہ بنارہے ہیں جبکہ ورکرزفاقوں کاشکار ہیں اورجوگنا چونا سٹاف میڈیاہاوسز میں موجود بھی ہے وہ کم تنخواہوں،کٹوتی اورانتہا کے استحصال کاشکارہے۔حکومتی نمائندگان کے میڈیا بارے غیر ذمہ دارانہ بیانات اورپالیسی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حکومت ہرلحاظ سے صحافیوں کے گرد”کنٹرولڈ میڈیا“کاشکنجہ سختی سے کسناچاہتی ہے۔ملک میں اس وقت غیر اعلانیہ سنسرشپ کی پالیسی رائج ہے۔جس کا مظاہرہ ہمیں لاہور میں ایک تنظیم کے خلاف کارروائی کی کوریج سے روکے جانے سے پتہ چلتاہے۔آٹھویں ویج بورڈ میں ورکرز کی نمائندگی کے دوران مالکان کی طرف سے مجھے کہا گیاکہ آپ کااخبارلاہور سے چپ رہاہے جس پر میں نے جواب دیا کہ جناب ایسا بلکل بھی نہیں یہ اخبارفیصل آباد سے چھپ رہاہے اوراس کی پرنٹ لائن اس بات کی تصدیق کرتی ہے جسے آپ ہرروز کے پرچے میں دیکھ سکتے ہیں جس پر وہ خاموش ہوگئے۔یہی وجہ ہے کہ رواں ماہ کچھ میڈیا مالکان نے اپنے گرد شکنجہ تنگ ہوتے ہوئے محسوس کیا ہے تو بروقت تنخواہ کی ادائیگی اورکچھ فیصد بڑھانے کی پالیسی پر عملدرآمد کردیاہے۔

اخبار مالکان ہرشہر سے اشتہارات کی مد میں پیسے لے رہے ہیں لیکن یہاں کے ورکر کیلئے وہ نوکری نہیں دے رہے۔اخبار کی قیمت میں اضافہ ہوگیا لیکن ورکر کی تنخواہ نہیں بڑھی۔صحافی تنظیمیں خاص کر پی ایف یوجے2019ء میں میڈیا کرائسسز کے بعد سے ورکرزکی تنخواہوں میں اضافہ،باقاعدگی سے ادائیگی،نوکریوں پر بحالی اورجانی تحفظ جیسے موضوعات پراپنے 18نقاط کے ایجنڈے پر فعال کرداراداکررہی تھی کہ د وسری بار فوادی چوہدی نے وزارت اطلاعات کی کرسی سنبھالی تو پھرانہوں نے میڈیا ہاوسز کی بربادی کاپلان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی صورت پیش کردیا۔ جہاں ہماری لڑائی میڈیا مالکان سے ورکرز کی بحالی تھی اب ہمیں آزادی صحافت بھی خطرے میں نظر آنے لگی ہے۔فیک نیوز کاجواز بناکر کسی بھی ادارے اورفردکے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔اب ادارے ہونگے تو ورکرز کی بحالی،تنخواہوں میں اضافہ اوربروقت ادائیگی جیسے مطالبات پیش کئے جائیں گے۔اگر چینلز اوراخبارات ہی بند ہوگئے تو قلم کے مزدور کیا کریں گے؟؟ اس ساری صورت حال میں حکومتی اداروں کے روئیے کے خلاف پورے ملک کے صحافی احتجاج کیلئے متحد ہیں جس کاآغاز18 اکتوبر2021ء کو فیصل آباد یونین آف جرنلسٹ کے زیراہتمام ہونے والے آگہی کنونشن سے ہوگا۔اس کنونشن میں شہر کے تمام صحافی،سول سوسائٹی ودیگرطبقات کے لوگ شر کت کریں گے اور ملک میں اہل قلم کودیوار سے لگانے اورعوام کے مسائل ایوانوں تک پہنچانے والوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کریں گے۔کنونشن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی قائدین خطاب کریں گے اورعوام کو 19نقاط پر مبنی مطالباتی ایجنڈے بارے آگاہ کریں گے۔یہ کنونشن پی ایف یو جے کی کال پر منعقد کیا جا رہاہے اورایسے بہت سے مقامی کنونشنز کے بعد نومبر2021ء میں کوئٹہ سے”صحافی مکاؤ“ جیسی حکومتی پالیسیوں کے خلاف لانگ مارچ ہوگا اورملک کی صحافتی برادری اپنے مطالبات کی منظوری تک قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دے گی۔آزادی صحافت کی 70سالہ تاریخ میں یہ بڑااحتجاج ہے جس سے ورکرز صحافیوں کواپنی تنخواہوں میں اضافہ،نوکریوں پربحالی اورجانی تحفظ مہیا کئے جانے کی امیدیں وابستہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں