فیصل آباد میں ابھی سموگ کا نام و نشان نہیں تو پھر بھٹے کیوں بند کروائے جارہے ہیں؟؟؟

فیصل آباد ( ملک شفیق سے )

فیصل آباد میں محکمہ ماحولیات کی طرف سے سموگ کی آڑ میں بھٹوں کے خلاف کاروائیوں پر ضلعی صدر انجمن مالکان بھٹہ خشت ایسوسی ایشن چوہدری عبدالرزاق باجوہ،چیئر مین حاجی الطاف،ڈویژنل صدر حاجی اسلام،جنرل سیکر ٹری حاجی غلام مصطفی،سیکر ٹری فنانس میاں یوسف،ارسلان سنی نے محکمہ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم احسن کے ساتھ ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں ابھی تک سموگ کا کوئی نام و نشان نہیں ہے لیکن حکومتی احکامات پر محکمہ نے بھٹے بند کروانے شروع کر دیئے ہیں۔بھٹہ مالکان کے خلاف کارروائیاں اور بھاری جرمانے بند کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی غربت، مہنگائی اور بیروزگاری عام ہے، بھٹہ پر کام کرنے والے بہت ہی غریب، پسماندہ اورمفلوک الحال طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے خاندانوں سمیت روزمرہ کی بنیاد پرمزدوری کرکے زندگی کی گاڑی بمشکل کھینچ پاتے ہیں، اسموگ کا بہانہ بنا کر ایسے کم از کم30 لاکھ مزدوروں کو بیروزگار کرنا کوئی معقول فیصلہ نہیں ہے،اسموگ کے اسباب میں بھٹہ انڈسٹری صرف5فیصد اثر انداز ہوتی ہے جبکہ 95فیصد دیگر انڈسٹریز ہیں جن کی طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھٹہ مالکان اس وقت شدید مالی بحران میں مبتلا ہیں وہ مزدوروں کو تنخواہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ اسموگ فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں ابھی آئی ہی نہیں اس لیے وہاں بھٹہ بندش قانون لاگو کرنا کھلی زیادتی ہے۔ وزیر اعظم اور ملک کے دیگرمقتدر اداروں کو اس قانون پر فورا ایکشن لینا چاہئے اور بیروزگاری کی اس لہر سے عوام کو بچانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں