ڈاکٹر سیف اللہ اور سیفیات ظریفانہ ……………… تحریر، شفقت اللہ مشتاق

پاکستان میں سینما گھروں کا اس دن سے کام تمام ہو گیا ہے جب سے جگت بازی کا کلچر عام ہوگیا ہے ۔ یقیناً کلچر تبدیل کرنے کیلئے سالہا سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن بعض اوقات تبدیلی سر چڑھ کے بولتی ہے اور پھر اس تبدیلی کی اپنی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ بہر حال سارے راستے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ بیک ڈور چینل ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیئے۔ اندر کی بھڑاس نکال کر انسان ہلکا ہو جاتاہے اور زندگی میں ہلکا پھلکا طنزومزاح ہونا چاہیئے۔ جگت پچھلے چند سالوں سے پاکستان میں بڑی مقبول ہوئی ہے۔ بلکہ عام ہوگئی ہے۔ فیصل آباد کے لوگ تو جگت بازی میں بہت مشہور ہوگئے ہیں۔ اگر پنجاب کے کلچر میں جگت کو تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ جھنگ کی وگتی کی اگلی شکل ہے۔ بلکہ بہت ہی اگلی شکل ہے۔ بعض اوقات تو جگت پھکڑ بازی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور بے اختیارمسخرابھانڈ صاحب حیثیت واختیار لوگوں کی سب کے سامنے پتلون اتار دیتا ہے ۔ اور آجکل اکثر اوقات طنزومزاح بے عزتی پروگرام بن جاتا ہے۔ یہی فرق ہے وگتی اور جگت میں کہ وگتی میں کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے کے مصداق معاملہ ہوتا ہے۔ معاشرہ کے خبائث کو ہلکے پھلکے انداز سے یوں پیش کیا جاتا ہے کہ بڑے بڑے معزز بے نقاب بھی ہوجاتے ہیں اور عزت سادات بھی برقرار رہتی ہے۔ سانپ بھی مر جاتا ہے اور لٹھ بھی بچ جاتی ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جہاں بھی جاگیردارکلچر تھا وہاں وگتی بڑی مقبول عام ہوتی تھی۔ اس صنف سخن میں بڑی بڑی تلخ باتوں کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کردیا جاتا تھا۔ امیر ہنس ہنس کر ہلکا پھلکا ہو جاتا تھا اور غریب کا”پھلکا”بھی متاثر نہ ہوتا تھا۔ یوں امیر غریب کا کھیل تماشہ چلتا رہتا تھا۔ ویسے بھی زندگی کے معاملات کو چلتے رہنا چاہیئے ورنہ معاملہ خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ خطرہ خطرہ ہوتا ہے خواہ بے عزت ہونے کا ہو یا 420 وولٹ کا ہو۔

ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی ایک پی ایم ایس افسر ہیں اور ہیں بھی جھنگ کے رہنے والے۔ ڈاکٹر، پی ایم ایس اور جھنگ۔ان تین خوبیوں کا حامل شخص اپنی نوعیت کا مختلف انسان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بلا کے ذہین ہوتے ہیں۔ پی ایم ایس اور پی اے ایس کا تعلق اونچ اور نیچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور اوپر سے بندہ جھنگ کا ہو تو اس میں بلا کی حس مزاح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس ساری صورتحال میں وگتی کی سیف سے بے شمار معاشرتی مسائل کی تندیں کاٹی جاسکتی ہیں اور اگر اخلاقی جرات ہو تو پھر تند تو کیا تانی کی تانی ہی کاٹی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر مذکور سے میری پہلی ملاقات بوساطت آصف نول بمقام قذافی سٹیڈیم ہوئی۔ ان کی باتوں میں مجھے بلا کی کاٹ دکھائی دی۔ اور بڑی ہی جوانمردی سے وہ میری اور آصف نول کی باتوں کو کاٹ کاٹ کر بات کو آگے بڑھا رہے تھے اور جب بات بہت ہی آگے بڑھ گئی تو ہم دونوں نے ان کے پرخلوص دسترخوان پر کھانا کھانے کو ترجیح دی تاکہ تازہ دم ہو کر ان سے بات کی جائے۔خیر اتنی دیر میں وہ بھی تازہ دم ہوگئے تھے اور انہوں نے اگلی سے پچھلی بڑھا دی بہر حال ہمیں حوصلہ دے کر پیچھے نہیں ہٹنے دیا اور بالآخر ہمارے ہاتھوں میں ایک ایک کتاب تھما کر مطالعہ کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ اس کے بعد دوبارہ بات کریں گے بات ختم نہیں ہونی چاہیئے۔ ان کے حوصلے ہمت اور مورال پر ہمیں رشک آیا شکر ہے حسد نہیں ہوا ورنہ ایک دو یا ہم تینوں کے جذبات کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ناحق قتل ہونے کا بھی امکان تھا۔

۔مذکورہ کتاب کا نام تھا”سیفیات ظریفانہ”۔ میں نے ٹھیک ٹھاک اس شکست کا ردعمل دکھایا اور یہ کتاب لا کر سیدھی طاق میں رکھ دی۔ دوسری میری ملاقات بہاولپور میں ہوئی جب وہ ایم ڈی چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی تھے یہ جولائی کے دن تھے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ آج سیفیات ظریفانہ کے مصنف کے ٹکا کے پسینے نکل چکے ہوں گے لیکن صورتحال کچھ اس سے مختلف تھی وہ چار پانچ مرد و زن میں جلوہ افروز تھے اور ان کی دھواں دھار گفتگو نے سب کے پسینے نکالے ہوئے تھے اور ان کی شتر بے مہارگفتگو کے ہتھوڑے متواتر چل رہے تھے ساتھ ساتھ وہ ہم سب کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ نے پریشان نہیں ہونا اور پریشانی کسی چیز کا علاج نہیں ہے ویسے بھی میں نے بطور ڈاکٹر ہمیشہ مریضوں کا گپوں سے علاج کیا ہے۔ یہ ایک نیا طریقہ علاج تھا جس کو دیکھ کر مجھے ڈاکٹر بھٹی میں بڑی ہی دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے اس دلچسپ شخصیت کی اس کتاب کو پڑھنے کا مصمم ارادہ کرلیا جس کو میں نے چند ماہ پہلے طاق میں رکھ چھوڑا تھا۔ آئیے اس نسخے کا مل کر مطالعہ کرتے ہیں-

ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی کا تعلق اس علاقہ سے ہے جس کے دو مشہور افسانوی کردار ہیر رانجھا ہیں اور جس دھرتی سے جب سلطان باہو کی ہو کی آواز گونجی تو مذہبی، سیاسی اور سماجی حلقے وجد میں آگئے اور آج تک بے شمار سیف اللہ بھٹی کیف و سرور کی کیفیت میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم جھنگ سے حاصل کی۔ ایم بی بی ایس نشتر میڈیکل کالج سے کرکے پراونشل مینجمنٹ سروس جوائن کرلی اور پھر تو خدمت خلق ان کا شعار بن گیا۔ وہ خود خوش رہتے ہیں اور لوگوں کو خوش اور سکھی دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ افسر کا بنیادی کام عوام کی فلاح ہے اور ان کی مسرتوں میں اضافہ بھی فلاح ہی کی شکل ہے۔ آج کے دور میں کسی کی بات خوش دلی سے سن کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آنا ایک بنیادی انسانی خدمت ہے اور ایک بنیادی انسانی فریضہ بھی ہے۔ میں نے جب ان کی کتاب سیفیات ظریفانہ کے اندر جھانک کر دیکھا تو مجھے جھنگ کی وگتی لڈیاں ڈالتی ہوئی دکھائی دی۔ جھنگ کا پورا نقشہ، جھنگ کا لباس، جھنگ کے لوگوں کی بودوباش، جھنگ کی رہتل بہتل، جھنگ کی جاگیردارانہ سوچ، جھنگ کے عوام کے مسئلے مسائل، جھنگ کے باسیوں کا انداز ظریفانہ مزید جھنگ کے بھروانہ، کملانہ، جلوآنہ، چچکیانہ، کملانہ،کمیانہ،نسووآنہ،سرگانہ، گنجیانہ،صابودانہ وغیرہ وغیرہ ہر شے کی ہلکی پھلکی موسیقی سنائی دی۔ مزید سرکارے دربارے معاملات کا جمالیاتی،عملیاتی اور جلالیاتی عکس بھی لائٹر ٹون میں دکھائی دیا۔ مختصرا کہیں میں خوب ہنسا اور کہیں کہیں معاشرتی عدم مساوات پر میرے خوب آنسو نکلے۔ خیر خوب ہنسنے پر آنسو کا نکل آنا بھی ایک فطری امر ہے۔ مصنف کی سوچ میں تصنع اور بناوٹ کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ اس نے کسی کو بھی معاف نہیں کیا بلکہ اس کو اپنا چہرہ بھی آئینے میں جیسے نظر آیا اس نے من و عن بیان کردیا۔ بلکہ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مصنف نے اپنے ارد گرد کے سارے کرداروں کو آئینہ دکھایا ہے اور اس آئینے میں نظر آنے والی تصویروں کے عکسی خاکے عوام کے سامنے رکھ دیئے ہیں تاکہ عوام خود فیصلہ کرے کیونکہ جمہوریت میں فیصلے کا اختیار عوام کے پاس ہے۔ ان کی مذکورہ کتاب کی دیگ سے چند چاول میں نے چکھے ہیں آپ بھی لطف اندوز ہوں-

“میں پیدا ہوا تو اتنا کمزور تھا کہ میرے دادا جی نے کہا کہ اگر یہ بچہ عقیقہ تک رہ بھی گیا تو مجھے قوی امید ہے کہ اس کے لئے ہماری دیگر قربانیوں کے ساتھ ساتھ دو بکروں کی قربانی بھی رائیگاں جائے گی”

“میرے ایک سینیئر افسرجونیئرز کو بلاوجہ ڈانٹتے تھے اور بہت شرمندہ کرتے رہتے تھے مذہبی ذہنیت کے وہ بہت اچھے انسان تھے ایک دن وہ خوشگوار موڈ میں بیٹھے جونیئر افسران سے اپنے بارے میں تعریفی کلمات سن رہے تھے کہ میں نے انہیں کہا سر آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کسی کی غیبت نہیں کرتے اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ آپ بندے کو منہ پہ ہی اتنا بے عزت کر دیتے ہیں کہ بعد میں غیبت کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی”

“جب میں ڈی سی جھنگ کی کوٹھی کے سامنے سے گزرتا تھا تو یہ دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالٰی ایک دن مجھے بھی ڈی سی بنانا لیکن مجھے پتہ نہیں تھا کہ ڈی ایم جی کے ڈی سی اور دوسری سروس کے ڈی سی میں بعض اوقات اتنا فرق ہوتا ہے
کہاں رام کہاں گنگو تیلی”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں