”آپ ہر وقت مسکراتے کیوں رہتے ہیں؟“ ……………. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

ایک صاحب بہترین مغربی لباس زیب تن کرتے تھے۔کلین شیو تھے۔ہروقت بنے سنورے رہتے تھے۔ڈاکٹر تھے۔کافی عرصہ سے سول سروس کاحصہ تھے۔ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی۔ ایک دن ایک دوست نے مسکرانے کی وجہ پوچھی اورساتھ یہ بھی کہا کہ طبی لحاظ سے مسکرانے کے بہت فوائد ہیں۔کیا اُن کے مسکرانے کی وجہ بھی یہی ہے؟۔اُن صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”آپ بجا کہہ رہے ہیں۔ مسکراہٹ کے طبی فوائد سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔مگر میرے ہروقت مسکراتے رہنے کی وجہ کچھ اور ہے۔اگرنیت اچھی ہوتوجسم بھی سنور جاتا ہے اور روح بھی۔ میری مسکراہٹ کی بنیادی وجہ اپنے پاک پیغمبرﷺ کی سیرت ِپر چلنے کی کوشش ہے۔میں سیرت ِنبویﷺ کا ایک عام سا طالب علم ہوں۔ میرا ایمان ہے رحمت للعالمین ﷺکے چہرے پر ہروقت مسکراہٹ رہتی تھی۔ میرے لیئے ان کی ذات ہی بہترین نمونہ ہے۔اگر میں اپنے پیغمبرﷺ کی پیروی کروں گا میراجسم بھی سنور جائے گا اور روحانی تسکین ہرلحظہ میسر ہوگی۔“

ایک صاحب فوج سے اعلیٰ رینک میں ریٹائرہونے کے بعدایک پرائیویٹ ادارہ میں سربراہ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ وہ لاہور سے ملتان آرہے تھے۔دوپہرکاوقت تھا۔ساہیوال کے قریب ایک شخص اپنی گاڑی کے قریب انتہائی پریشانی کی حالت میں کھڑا دکھائی دیا۔ انہوں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کاکہا۔آدمی سے اُس کی پریشانی کی وجہ پوچھی۔ نہایت شرمندگی سے بتایاگیاکہ”گاڑی اگررُک جائے تو دھکے کے بغیردوبارہ اسٹارٹ نہیں ہوتی۔اس وقت اردگرد کوئی شخص دکھائی نہیں دے رہا“۔انہوں نے اپنے ڈرائیور کے ساتھ مل کر گاڑی کو دھکا لگاکر پریشان حال شخص کا مسئلہ حل کردیا۔کافی لوگ اکٹھے ہوگئے۔لوگوں نے اتنے بڑے افسرکے اس فعل پر شدید حیرت کااظہار کیا۔ ہمارے افسر کی آنکھو ں میں آنسو آگئے۔ بھرائے ہوئے لہجے میں کہنے لگے ”میں اُس پاک پیغمبرﷺ کامعمولی اُمتی ہوں جواُس عورت کی خدمت کرتے تھے جواُن کے بارے میں فضول زبان استعمال کرتی تھی۔میرافعل تونہایت معمولی ہے۔ہرانسان کودوسروں کیلئے فائدہ مندہونا چاہیئے۔کسی نیکی کومعمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔بہترین انسان وہ ہے جودوسروں کیلئے بہتر ہے“۔

ایک افسر ایک ڈرائیورسے ناراض ہوگئے۔ ڈرائیور ان کے رفیقِ کار کے دائرہِ اختیار میں آتاتھا۔رفیقِ کار ان سے جونیئرتھے۔ ڈرائیور نے اُن سے معافی بھی مانگی مگر اُن کا غصہ برقراررہا۔انہوں نے اپنے جونیئرکوحکم دیاکہ ڈرائیور کی انکوائری کرکے اُسے سخت سزا دیں۔ رفیقِ کار ایک دن اُن کے دفترآئے اورنہایت احترام کے ساتھ ایک پرچی پیش کی۔ گزارش کی کہ یہ ایک نہایت ذاتی استدعاہے۔شفقت کی درخواست ہے۔”سینئرافسر نے پرچی پڑھی تو لکھاتھا”جورحم نہیں کرتااس پررحم نہیں کیاجاتا“۔ڈرائیور شرمندہ ہے۔اُس کو معاف کر دیں۔ شاید پیغمبر خداﷺاوراللہ تعالیٰ کو ہمارا فعل پسند آئے“۔سینئرافسرنے دل سے ڈرائیور کو معاف کردیااوردرودپاک پڑھنے کو اپنا معمول بنالیا۔

ایک ضلع میں تعینات صاحبِ ضلع نہایت شفیق انسان تھے۔ماتحت پرورتھے۔گفتگوشفقت بھری کرتے تھے۔رقیق القلب تھے۔ ایک دن ایک سپرنٹندنٹ نے روتے ہوئے ایک جونیئر افسر کے اخلاق کی شکایت کی۔سپرنٹنڈنٹ قابل انسان تھے۔ اُن کے جذبات شدید مجروح لگ رہے تھے۔ بہت افسردہ تھے۔اپنے جذبات کنٹرول نہ کرپارہے تھے۔صاحبِ ضلع کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔اپنی کرسی سے اُٹھے سپرنٹنڈنٹ کوگلے لگایا اور تسلی دی۔ساتھ بیٹھے اپنے سٹاف افسر کوہدایت کی کہ وہ سپرنٹنڈنٹ صاحب کا یہ مسئلہ حل کروائے۔ اپنے رفیق کار کو سمجھائے کہ کسی کی دل آزاری شدید گناہ ہے۔لوگوں کے جذبات کاخیال رکھنافرض ہے۔حضرت محمدﷺ نہایت شفیق تھے۔لوگوں کوپیارمحبت سے سمجھاتے تھے۔حضرت محمدﷺ کے غلاموں کابھی شیوہ یہی ہوناچایئے۔

ایک صاحب کاتعلق مشہور کاروباری خاندان سے تھا۔بیرونی ممالک سے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کررکھی تھی۔کنوارے تھے۔کئی معروف خاندان اُن کو اپنا داماد بنانے کے خواہشمندتھے۔نہایت نفیس طبیعت کے مالک تھے۔شریک حیات کے انتخاب کیلئے اُن کی نظر خودسے بڑی ایک بیوہ خاتون پر پڑی۔انہوں نے دھوم دھام سے شادی کی۔خاتون کے دو بچے بھی تھے۔بیوی اور بچوں سے نہایت پیار کرتے تھے۔اگرکوئی اُن سے وجہ دریافت کرتاتھاتوبھیگی آنکھوں کے ساتھ اُسے سیرتِ مصطفیﷺ کے مطالعہ کامشورہ دیتے تھے۔

ایک صاحب بہت بڑے زمیندار تھے۔اپنے علاقے کے نمبردار بھی تھے۔اُن کے ہاں اوپرتلے چاربیٹیوں کی ولادت ہوئی۔ اولاد نرینہ کی خواہش رکھتے تھے۔ مگر بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ہربیٹی کی پیدائش پرمٹھائی بانٹی۔ہربچی کاعقیقہ کیا۔نہایت مسرت سے تمام دوستوں کوبتاتے تھے کہ ”بیٹیوں سے پیار کرنے والے اوراچھی تربیت کرنے والے کوہمارے صادق وآمین پیغمبرﷺ نے جنت کی بشارت دی ہے۔ میں نہایت خوش قسمت انسان ہوں“۔ہروقت اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتے رہتے تھے۔

ایک خاتون بہت زیادہ مالدار نہ تھیں مگراللہ تعالیٰ نے وافر رزق عطا کررکھاتھا۔شوہر نہایت محبت کرنے والے تھے۔ماہانہ گھر کاخرچ اور جیب خرچ کُھلا دیتے تھے۔خاتون صدقہ خیرات بہت کرتی تھیں۔گھر کیلئے اشدضروری اشیاء خرید کرباقی تمام رقم ہرماہ مستحقین میں تقسیم کردیتی تھیں۔ اس عمل کو اپنی بخشش کا ذریعہ سمجھتی تھیں۔تمام خواتین کو بتاتی تھیں کہ اللہ کے نبیﷺ دریادل تھے۔ اللہ کے نبیﷺ کی ازواج بھی کثرت سے صدقہ خیرات کرتی تھیں۔

ایک صاحب نے پوری دنیا دیکھ رکھی تھی۔سیروسیاحت کے شوقین تھے۔عمرکافی تھی مگر جوان لگتے تھے۔کھانے پینے کاذوق بہت اعلیٰ تھا مگر کبھی پیٹ بھر کر کھانانہ کھاتے تھے۔پیدل ضرورچلتے تھے۔ایک دوست نے پوچھاکہ یہ عادت کس ملک میں قیام کے دوران اختیار کی؟۔ کہنے لگے ”پیٹ بھر کرکھانانہ کھانااللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرﷺ کی سنت ہے۔پیغمبر خداﷺ کے ارشاد کامفہوم ہے کہ ابن آدم کو اپنے پیٹ کا برتن کبھی پورا نہیں بھرنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ اکثراوقات پیدل چلتے تھے۔مسلمان اگراپنے پیغمبرﷺ کی عادات پرعمل کرناشروع کر دیں تواُن کی دنیا اورآخرت بہترین ہوجائے“۔

الہامی کتاب کہتی ہے کہ پیغمبرخداﷺ کی شخصیت کامل نمونہ ہے۔خالق کائنات فرماتے ہیں کہ اگرمیرے محبوب بنناچاہتے ہوتو میرے پیغمبرﷺ کی اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے اعمال ایسے کردیں کہ روزِمحشرہمیں پیغمبرخداﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔آمین

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں