کیا عمران خان اپنے نعروں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں؟ …………… تحریر ، عمران امین

2014 سے شروع ہونے والے سفر میں 2018 تک عوام کو اس بات کا یقین دلا دیا گیاتھا کہ کئی ملکی معاملات میں کرپشن کی گئی ہے اور اس کرپشن کو ثابت کرنے کے لیے ثبوتوں کے انبار موجود ہیں صرف اقتدار ملنے کی دیر ہے پھر مجرم جیل میں اور ککس بیکس والا پیسہ خزانے میں ہوگا۔جن منصوبوںکی غیر شفافیت پر بات کی گئی ان میں صاف پانی کاپراجیکٹ اور ملتان میٹرو کی بدعنوانی سرفہرست تھی مگر تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی بدعنوانی کے معاملات کا سراغ نہیں مل سکا ۔پچھلی حکومت کے چار کلیدی افراد جن میں آصف زرداری ،نواز شریف،شہباز شریف اور اسحاق ڈار شامل ہیں کے خلاف اب تک نتیجہ خیز کاروائی نہ ہو سکی اور نہ چوروں اور ڈاکوئوں سے برآمدگی مال کا سبب بنتا نظر آرہاہے۔نواز شریف اور اسحاق ڈار لندن میں محفوظ اور آزاد زندگی گزار رہے ہیں جبکہ آصف زرداری اور شہباز شریف پاکستان میں مزے سے سیاست اور کاروبار میں سرگرم نظر آتے ہیں۔دوسری طرف وزیراعظم پاکستان نے رحمةالعالمین کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے مشہور و معروف اقوال زریں کا ذکر کیا کہ میں طاقت ور کو قانون کے نیچے لائوں گا اور آخری سانس تک قانون کی بالادستی کے لیے لڑتا رہوں گا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی مستند ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لائ کے حالیہ سروے کے مطابق دنیا کے139 ممالک میں قانون کی بالادستی میں پاکستان کا نمبر مزید تنزلی کے ساتھ 130واں ہے۔

یہ تو حقیقت ہے کہ صرف زبانی دعوئوں سے معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا نفاذ نہیں ہوتاجیسا کہ اس حالیہ سروے سے پاکستان میں قانون کے نفاذ کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ سپریم کورٹ بھی ایک مقدمے کی سماعت میں کہہ چکی ہے کہ قانون کی حکمرانی میں سب سے بڑی رُکاوٹ بُرا طرز حکومت ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کا اطلاق صرف اور صرف کمزور عوام اور اپوزیشن یا اپنے سے ناراض افراد پر ہے ورنہ حکومتی ارکان اور پسندیدہ افراد کو قانون کی بالادستی سے بچانے کے لیے حکومت نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ نیب آرڈینینس جاری کیا ہے اور یوں حکومتی ارکان کو کلین چٹ فراہم کر دی گئی ہے۔آج اگر ہم غور کریں تو عمران خان اپنے نعروں کے بوجھ تلے دبے نظر آتے ہیں ایک وقت تھا جب وہ کہتے تھے کہ جب ڈالر بڑھتا ہے تو حکمران چور ہوتا ہے ۔اس طرح ایک اور قول عمرانی کے مطابقٴٴجب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا مطلب حکمران چور ہوتا ہےٴٴ۔یکم جنوری 2021ئ سے لے کر اب تک امپورٹ ہونے والی اشیائ مثلاًپٹرول کی قیمتوں میں 60%،چینی کی قیمتوں میں15% جبکہ پام آئل کی قیمتوں میں50%اضافہ ہوا ہے۔آٹا،صابن،چائے،دال،مصالحہ جات اور دیگر اشیائ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اس کے علاوہ ہے۔ملک میں حالیہ مہنگائی نے عوام کو بے چین کر دیا ہے اوراسی عوامی بے چینی کو سمجھتے ہوئے وزیر اعظم نے چند دن قبل پی ٹی آئی کی مرکزی کور کمیٹی اور پنجاب کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تاکہ مہنگائی کی اس لہر کو روکا جا سکے۔اس سلسلے میں حکومت نچلے طبقے کو سبسڈی پروگرام کے تحت مہنگائی کے طوفان سے بچانے کا بظاہر ارادہ رکھتی ہے ۔

اگرچہ مہنگائی سے حکومت اور عوام پریشان ہیں مگرآئی ایم ایف ہمارے حالیہ اقدامات سے بھی مطمئن نہیں اور چاہتا ہے کہ عوام کو حکومت کی طرف سے ملنے والی تین سو ارب روپے کی سبسڈی بھی ختم ہو۔لہذا ان سخت شرائط کی وجہ سے ابھی تک آئی ایم ایف کی جانب سے ملنے والے مزید قرضہ پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ عالمی دبائو میں اضافہ کی وجہ سےFATFنے بھی فروری تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر اگرچہ حکومت پاکستان معترض ہے مگر فروری تک انتظار کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے کچھ خفیہ معاملات بھی ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری ابھی تک ہولڈ رکھی ہے جو شاید ان کے سعودی عرب کے دورے سے پہلے فائنل ہو جائے۔اس تقرری کے معاملے سے پہلے فوج اور عمران خان ایک پیج پر تھے مگر اچانک یہ پیج پھٹ گیا اور اس میں سے پی ڈی ایم کا مردہ گھوڑا زندہ ہو گیا،شہر شہر جلسے جلوس ہونے لگے۔کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے یک دم دھرنے اور مارچ کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں غلط حکومتی اقدامات پر لاہور اور اسلام آباد کے شہری سخت اذیت میں مبتلا ہیں نیز لاہور میں کالعدم جماعت اور پولیس کی جھڑپوں میں چند پولیس اہلکار شہید بھی ہوئے جبکہ کچھ مظاہرین کی ہلاکت کی غیر سرکاری خبریں بھی گردش میںہیں۔پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ سے بلوچستان سے شروع ہونے والا سیاسی عمل نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ماضی میںاس عمل کی کامیابی پاکستانی سیاست کے مرکز پر اثر انداز ہوتی رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیااس بار بھی تاریخ دھرائی جائے گی؟

چند دنوں کے اندر وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حکومت پر اپوزیشن اور مذہبی جماعت کی جانب سے چومکھی یلغار نے کئی سوالات اُٹھا دئیے ہیں۔ کیا عمران خان کو یقین ہو گیا ہے کہ وہ اقتدار کے معینہ عرصے میں اپنی سیاسی ٹیم کے ساتھ عوام کو ڈیلیور نہیں کر پائیں گے؟ کیا عمران خان نے سیاسی شہید بننے کا فیصلہ کر لیا ہے؟۔کیا فوج عمران خان اور اُن کی ٹیم سے مایوس ہو گئی ہے؟۔کیا عالمی طاقتیں عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنا چاہتی ہیں؟۔ان سب سوالات کے ساتھ یہ بات بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ کیا پاکستانی عوام کا نصیب کبھی بدلے گا؟۔کیا آل شریف اور آل بھٹو سے ہمیں کبھی نجات مل پائے گی؟۔کیا کبھی عوام کے ووٹ کی قدر و قیمت ہوگی؟ کیا کبھی عوام کے ووٹ کو عزت ملے گی؟۔کیا ایک بار پھرسیاسی بدمعاشیہ اور اسٹیبلشمنٹ نیا تجربہ کرنا چاہ رہے ہیں ؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام ان سیاسی آقائوں اور اُن کی چالبازیوں سے تنگ آچکے ہیں اور کسی حقیقی صلاح الدین ایوبی کے منتظر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں