جی سی وویمن یونیورسٹی کے سفارشی رجسٹرار نے خواتین کو ہراساں کرنے کیلئے کیا قدم اٹھایا؟

فیصل آباد ، نیوز ڈیسک

جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آبادکے سفارشی رجسٹرارنےآفس کے باہر خواتین کوہراساں کرنےکیلئے کیمرے لگادئیے ہیں جس کے باعث خواتین اساتذہ اورطالبات کوپریشانی کاسامنا کرناپڑرہاہے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری خواتین کی یونیورسٹی میں ایسے اقدامات غیر منطقی ہیں کیونکہ کیمرے دفترے کے اندر ہی لگائے جانے چاہئیں نہ کے آفس کے باہرجبکہ بے حیائی والے ماحول سے آنے والے رجسٹرار نےسرکاری یونیورسٹی کے تہذیبی ماحول کونظرانداز کرتے ہوئے ان کمیروں کی ایکسس خوداپنے پاس لی ہوئی ہے جس کاکوئی مقصد نہیں کہ انہیں ہراساں کیا جائے،اس پربات کرنے والوں کوسخت کارروائی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

یادرہے کہ وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ڈاکٹرروبینہ فاروق نے اپنے شوہرڈاکٹر سلیم فاروق کے ساتھ ساہیوال کامسیٹ میں کام کرنے والے آصف علی جو کے ایم اے میں تھرڈ ڈویژنر ہیں کو سفارش پر زبردستی سلیکشن بورڈ سے منتخب کروایا تھا۔ جنہوں نے چارج سنبھالتے ہی خاتون ڈائریکٹرکیوای سی کے دفتر پرقبضہ کرلیا تھا۔خواتین اساتذہ کی جانب سے یہ بھی شکایات تھیں کہ رجسٹرارآصف علی خواتین ٹیچرز کو اپنے دفتر کے باہر آدھا آدھا گھنٹا انتظار کروا کر واپس بھیج دیتاہے جبکہ رات10 بجے تک یونیورسٹی میں بیٹھارہتاہے۔

جی سی ویمن یونیورسٹی میں آنے سے پہلے آصف علی کسی بھی سرکاری ادارے میں نہ رہا ہے اورنہ ہی کسی سرکاری ادارہ میں کام کرنے کا کوئی تجربہ ان کے پاس ہے۔اس حوالے سے یونیورسٹی سٹاف میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔خواتین اساتذہ کاکہناہے کہ اگر میرٹ کی دھجیاں اڑا نے پراعلیٰ حکام نے وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ فاروق کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی توجلد احتجاج کی کال دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں