”عقیقہ، شریکا اور ٹیکہ“ …………………… تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

ایک صاحب کے گھر یکے بعد دیگر دوبیٹے پیداہوئے مگر پیدائش کے تھوڑے عرصہ بعد دونوں ہی اللہ تعالیٰ کوپیارے ہوگئے۔کافی عرصہ بعد اُن کے گھر پھر ایک بچہ پیداہوا۔ بچہ بہت کمزورتھا۔صاحب اپنے بچے کاعقیقہ کرناچاہتے تھے۔ مالی حالات کافی نازک تھے مگر اُن کو بڑے عرصہ بعد اولاد کی خوشی حاصل ہوئی تھی۔ عقیقہ اُن کی خوشی کا ایک مظہر تھا۔ دادا جی کے مطابق بچہ ضرورت سے زیادہ کمزور تھا۔ موجودہ حالات میں عقیقہ کرنا پیسے ضائع کرنے والی بات تھی، جس کا وہ گھرانہ متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔انہوں نے بچے کے والد کو کہا ” اللہ تعالیٰ اس بچے کو لمبی عمر دے مگر اس کا بچنا مشکل لگتا ہے۔ اگریہ بچہ بچ بھی گیااورتم نے اس کا عقیقہ کربھی دیا،تولگتا یہی ہے کہ دیگرقربانیوں کی طرح یہ دو بکروں کی قربانی بھی ضائع ہی جائے گی”۔ والد بہرحال عقیقہ اورشریکا، دونوں پریقین رکھتے تھے۔ انہوں نے بچے کا عقیقہ کیا۔ تمام شریکے کو بلایا۔ شریکے نے جی بھر کرگوشت کھایا۔ ہرکوئی بچے کودیکھ کر مسکرایا۔کئی لوگو ں کا کھانے کا سٹائل دیکھ کر بچہ بھی مسکرایا۔ ایک دو کے انداز پر تو باقاعدہ قہقہ بھی لگایا۔

دوبزرگ دوستوں میں کسی بات پر لڑائی ہوگئی۔ نوبت مارا ماری تک جاپہنچی۔دونوں نے ایک دوسرے کو بہت مارا۔بات پولیس رپورٹ تک پہنچ گئی۔ایس ایچ او سفارشوں پرحیران رہ گیا۔دونوں فریق یہ سفارش کروا رہے تھے کہ ہمارے بزرگ پر مار نے والا پرچہ دینا ہے، مار کھانے والا نہیں،آخرکارہمارا شریکاہے۔

ایک اعلیٰ افسر کے پاس ایک ڈرائیور ملازم تھا۔ ڈرائیور بہت نفیس مزاج کا مالک،سلجھا ہوا انسان تھا۔دیگر ملازم کچھ نا کچھ مانگتے رہتے تھے۔ اُس نے مگر کبھی دستِ سوال دراز نہ کیا تھا۔ اپنی محدود تنخواہ میں خوش خوش رہتا تھا۔ ڈرائیور کے والد وفات پاگئے۔صاحب نے جنازے میں شرکت کی۔ قُل میں بھی شریک ہوئے۔کچھ پیسے بھی ڈرائیور کودیئے۔ چند دن گزرے۔ ڈرائیور نے نہایت شرمندگی کے لہجے میں کچھ رقم کا سوال کیا۔ صاحب نے فوری طور پر پیسے دے دیئے۔ اگلے ہفتے ڈرائیور نے انتہائی عاجزی کے ساتھ مزید پیسے مانگے۔ صاحب نے پیسے دے تو دیئے مگر وجہ پوچھی۔ ڈرائیور کہنے لگا سر!ہمارا”شریکا“ہے اگرمیں سات جمعراتیں نہ کروں، ہرجمعرات پر برادری کو ِقسم ِقسم کے کھانے نہ کھلاؤں، تو دنیا میں شریکے کو منہ نہ دکھا سکو ں گا اور میرے والد کا عالم بالا میں شریکے کے سامنے سر جھک جائے گا۔صاحب حیران پریشان ہوئے مگر تمام رسومات کے پیسے دیتے رہے۔ کبھی کبھی اتنا خیال ضرور آتا تھا کہ ہمارے لوگوں کا بچپن ٹیکے سے ڈرتے اور جوانی اور بڑھاپا شریکے سے ڈرتے گزر جاتا ہے۔ڈر مرتے دم تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتا۔جب سے کورونا آیا ہے بزرگ بھی ٹیکے سے ڈرنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا کی برکت سے بچے بچے کا شریکا ہے۔

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ شورکوٹ کے دو زمیندار گھرانوں کا آپس میں شدید شریکا تھا۔ایک صاحب نے اپنے بیٹے کو لاہور کے مشہور کالج میں داخل کروایاتو دوسرا گھرانہ بھی مجبور ہو گیا۔ دونوں کے بچے لاہور میں آپس میں دوست بن گئے مگر گاؤں میں شریکا اسی طرح چلتا رہا۔ایک طالب علم چھٹیوں میں گھر آیا تو اس کے والد نے کہا “پتر دل لگا کے پڑھنا، ہمار ا نسلوں سے شریکا ہے ناک نہ کٹوا دینا” بیٹے نے جواب دیا۔”پڑھ تو میں رہا ہوں مگر شریکوں کے بیٹا کوتو” کومے “کے بھی پیسے ملتے ہیں جبکہ مجھے تو” فل سٹاپ” بھی اپنے جیب خرچ سے لینا پڑتا ہے “۔”بیٹے کا جیب خرچ چار گنا بڑھا دیا گیا “۔دوسرے طالب علم نے بھی اپنے گھر والوں کو ایسے ہی گیان سے نوازا۔ دونوں ایک مدت “پائی” کے لیے بھی گھر والوں سے پائی پائی لیتے رہے اور عیش کرتے رہے۔

شریکے سے ہمارا کوئی گاؤں، کوئی شہر محفوظ نہیں مگر ایک گاؤں کے دو گھرانوں کا شریکا نسل در نسل سے چلا آرہا تھا۔ماضی قریب میں دونوں گھرانوں کے دو چشم وچراغ نشتر میڈیکل کالج میں ایک ہی جماعت کے طالب علم بن گئے۔ دونوں پڑھنے لکھنے کے بالکل شوقین نہیں تھے۔ سارا سال عیاشی کرتے تھے۔پورے اعزاز کے ساتھ فیل ہوتے تھے۔ گھر والے رزلٹ پوچھتے تھے تو جواب ملتا تھا کہ شریکوں کا منڈا بھی فیل ہے۔ اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔

شریکا ایک ایسا ٹیکا ہے جو ہم لوگ ساری زندگی خود کو لگاتے رہتے ہیں۔ بہت سے لوگ آج کے دور میں بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شریکے کے بغیر زندگی کا ہر رنگ پھیکا ہے۔ ہمار ا کوئی ماجھا ہو، گاما ہو، فیکا ہو، چوہدری وہی ہے جس کا شریکا ہو۔ بندے کا عقیقہ ہو یہ نہ ہو شریکا ضرور ہونا چاہیے ورنہ ناک کٹ جاتی ہے۔ اگرچہ شریکا ہوتے ہوئے بھی ناک اکثر اوقات کٹ جاتی ہے اور دوسرے کی ناک کاٹنی بھی پڑ جاتی ہے۔

نتِ شریک شریکا کروے رہاں ہمیشہ ڈر دی میں
ایسی جان شکنجے آئی نہ جیواں نہ مر دی میں

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں