ڈاکٹر مقصود عاجز کی “امید بخشش ” پر ایک نظر! ………. پروفیسر ریاض احمد قادری

شہرِ نعت فیصل آبادمیں 2019 کا سال اپنے ساتھ ایک نئے نعت گو شاعر کی نوید لے کر طلوع ہوا۔یہ جناب ڈاکٹر ملک مقصود احمد عاجز کی شہر کے علمی و ادبی حلقوں اور نعتیہ مشاعروں میں خوش گوا آمد تھی ۔ آپ کی آمد گلشنِ مدحت رسول ﷺ میںبادِ صبا کے تازہ جھونکے کی صورت ظاہر ہوئی ۔وہ نعتیہ مشاعروں میں آئے اور چھا گئے۔ وہ سوز و گداز اور عشق و محبت سے بھرپور کلام سناتے اور بے پناہ داد وصول کرتے۔ سامعین انہین دل کھول کر داد دیتے۔وہ اپنے پہلے مشاعرے ہی میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔ اور اب تک اس اعزاز کو برقرار رکھے ہو ئے ہیں ۔اب ان کا شمار شہرِ نعت فیصل آباد کے انتہائی بزرگ، کہنہ مشق،استاد اور مشاق شاعروں میں ہوتا ہے ۔ وہ انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ، بزم ِ مرادِ نعت ، مجلس معینِ ادب اور بزم صائم انٹر نیشنل کے مشاعروں کے مستقل شاعر ہیں صبح نور میں بھی اپنی منقبت پیش کر چکے ہیں اور انجمن فقیرانِ مصطفیٰ کے فروری 2021 میں ہو نے والے 213 ویں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ کی صدارت فرما چکے ہیں جہاں ان کے طرح مصرع دستِ طلب حضورﷺ کے آگے بڑھا کے دیکھ پر بھرپور کل پاکستان نعتیہ محفل مشاعرہ منعقد ہو چکی ہے، جہاں کراچی سے فیصل حسن نقشبندی اور فیصل آباد سے ڈاکٹر ریاض مجید نے بھی شرکت فرمائی۔

آپ نے بہت قلیل عرصے میں شہرِ نعت کے نعتیہ مشاعروں میں اپنا معتبر مقام بنایا۔آپ نعتیہ مجموعہ بدست ادبی حلقوں میں وارد ہوئے ۔آپ کا نعتیہ مجموعہ ” وسیلہ ء بخشش “2019 میں شائع ہوا۔ نہایت خو بصورت اور دیدہ زیب نعتیہ مجموعہ ہے خوبصورت نعتوں سے مزین ہے اور اس کی شاندات تقریب رونمائی بھی منعقد ہوئی جس کی صدارت جناب ڈاکٹر ریاض مجید نے فرمائی۔جناب ڈاکٹر ملک مقصود احمد عاجز بہت عرصہ سے شعری مشق فرما رہے تھے لیکن ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد میں اپنی سروس کی وجہ سے ادبی حلقوں اور مشاعروں میں شرکت نہ فرما سکے۔4 جنوری 2014 کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے اپنا نعتیہ مجموعہ منظر عام پر لائے پھر نعتیہ مشاعروں میں شریک ہونا شروع کیا آپ نے شاعری میں جناب محمد افضل خاکسار کو اپنا استاد بنایا۔ 1974 میں ڈاکٹر حبیب العیشی کے ہاں علامہ نادر جاجوی کی صدارت میں ہو نے والے مشاعرہ میں بھی شرکت کی اس کے بعد35 سال کا وقفہ ہے اور پھر 2019 میں مشاعروں میں آنا شروع کیا ۔

آپ 3 جنوری 1953 کو فیصل آباد کی انتہائی شریف معزز اور مذہبی فیملی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد محترم کا نام ملک فتح محمد ہے ۔ آپ کی والدہ محترمہ کا نام سکینہ بی بی ہے۔ آپ کے والدین بھارت کے شہر جالندھر سے 1947 میں ہجرت کر کے فیصل آباد میں تشریف لائے تھے اور ہوزری کاکاروبار شروع کیا ۔ اور کافی تقی کی ۔ آپ کل 6 بھائی ااور 2بہنیں ہیں ۔ آپ کا بھائیوں میں نمبر آخری ہے ان میں سب سے بڑے ملک عبدالعزیز ہیں جو سپرنٹنڈنٹ رہے ۔ دوسرے بھائی ملک عبدالحفیظ ہیں جو سوتر منڈی میں کاروبار کرتے ہیں ۔ تیسرے بھائی ملک محمود احمدچشتی ہیں جو حکیم ہیں چوتھے بھائی ملک صوفی اقبال حسین چشتی ہیں وہ بھی حکیم ہیں ۔پانچویں بھائی ملک عبدا حمید ہیں جو بزنس مین ہیں ۔آپ نے میٹرک کا امتحان 1970 میں گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول سمن آباد فیصل آباد سے پاس کیا اور ٹائپنگ سیکھی ۔ 1972 میں ایف اے 1977 میں بی اے اور 1983 میں ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ امیدوار کے طور پر پاس کئے۔ 1978 میں ان کی والدہ محترمہ اور 1984 مین ان کے والد محترم انتقال فرماگئے ۔1973 ہی سے سروس ہوئی بطور ایسوسی ایٹ ایڈیٹر آپ نے سروس کا آغاز کیا اور بطور ورڈ پراسیسنگ آفیسر 17 گریڈ میں انفارمیشن برانچ ایوب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے ریٹا ئر ہو ئے آپ نے ایم اے اکنامکس کے ساتھ ساتھ سرٹیفیکیٹ ان انفارمیشن سائنس اور ڈی ایم ایچ ایس کی ڈگریاں حاصل کیں لیکچرر الصحت ہو میو پیتھک میڈیکل کالج بھی رہے۔ ایوب ریسرچ میں سروس کی جہاں سے 4 جنوری 2014 کو ریٹائر ہو ئے ۔ دوران سروس آپ نے اپنی تعلیمی استعداد بڑھائی اور سی ایس ایس کاامتحان بھی دیا ۔
آپ کی شادی 1976 میں ہوئی آپ کی اہلیہ محترمہ کا نام نسیم بی بی تھا جو 2007 میں اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں قدرت نے آپ کو ایک بیٹا منظر مبین اور ایک بیٹی دی ۔ بیٹے نے بی اے کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا اور بیٹی نے ایم اے انگلش کیا ان کے ہم زلف حاجی محمد اسماعیل سیلا سابق ایم پی اے کی بہو ہے ۔

آپ کے والدین چشتیہ سلسلہ میں بیعت ہیں اور آپ نے بھی اسی سلسلے میں بیعت کی۔ان کے گھر میں سالانہ عرس کے موقع پرام کے پیرومرشد سید غطریف حسین شاہ آف گگو منڈی اورسید عاشق حسین شاہ آف لاہور تشریف لایا کرتے تھے اور اس موقع پر قوالی اور نعت خوانی کی محفل جمتی تھی وہاں جو کلام پڑھا جاتا وہ انہیں ازبر ہوجا تا وہیں سے انہیں علمی وا دبی شوق اور شاعری کا ذوق ملا۔

ریٹائر منٹ کے بعد باقاعدہ شاعری کا سلسلہ شروع کیا اور محمد افضل خاکسار کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور ان کی شاگردی میں شاعری کی اور ایک نعتیہ شعری مجموعہ ” وسیلہ بخشش ٗ منظرِ عام پر لے آئے اور اب دوسرا نعتیہ مجموعہ ” امیدِ بخشش “سامنے لا رہے ہیں۔

ان کے نعتیہ مجموعہ ” امیدِ بخشش ” کا آغاز حمدیہ شاعری سے ہوا ہے ۔ پہلی حمد ہے
ہے تو سب کا خالق کبریا تجھے حمد ہے تجھے حمد ہے
نہیں کوئی بھی کہیں دوسرا تجھے حمد ہے تجھے حمد ہے
اس کی ردیف تجھے حمد ہے تجھے حمد ہے بہت خوبصورت ہے اور دل کو بہت بھلی لگتی ہے
دوسری حمد دعائیہ ہے اس میں بھی نعتیہ مضامین پروتے ہوئے نظر آتے ہیں
میرے اس خواب کو مولا تو حقیقت کردے
شہِ کونین ﷺ کی چوکھٹ مری قسمت کر دے

نعتیہ شاعری کا آغاز حضورﷺکے حلیہ شریف سے کرتے ہیں اور ردیف چہرہ میں نہایت شاندار اشعار کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس میں نہایت خوبصورت تراکیب بناتے ہیں گلِ بہشتِ بریں،نرم عارض بہ مثلِ ریشم، ہونٹ برگِ گلابِ نازک،دانت جیست چمکتے موتی،دراز پلکیں، جبیں کشادہ،تازہ شباب چہرہ،ابروئے پیچ دار ترکش،غزال آنکھیں سیاہ،جمال میں جمیل تر،مبین روشن کتاب چہرہ، زیر، حجاب چہرہ، ماہِ تاباں ، جانِ جاناں، غموں کا درماں ، دکھوں کا دارو، کیا کیا خوبیاں بیان کردی ہیں اس سراپا نگاری کی اعلیٰ مثال میں جناب مقصود عاجز کا فن اپنے عروج کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے شاعر خود کشکولِ چشمِ حسرت اٹھائے خیراتِ دید کی گدائی کرتا ہے۔

اس کے بعد میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی نعتیں ہیں جن میں حضورﷺ کی دنیا میں آمد کے حوالے سے نہایت شاندار شعر کہے گئے ہیں ۔آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی پہلی نعت میں بے سہاروں ، غم کے ماروں ،جاں نثاروں ، چاند تاروں ، نوبہاروں اور دل فگارون کو مبارک باد دی گئی ہے کہ حضورﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ کی ردیف میں چاند تارے آپ ﷺ کے موئے مبارک سے ضیاء پائیں گے۔دلِ مضطر سکینت آشنا ہو گئے،سینہ چاکانِ چمن کے گھائو بھر گئے،کمالِ جاں نثاری کو جواز مل گیا۔دل فگاروں کو مبارک کہ ان کو دلی سکون مل گیا۔ دوسری نعت آئے میلاد کے دن خوشیاں منائو سارے۔۔۔ مل کے سب کو چہ و بازار سجائو سارے اس میں بھی پھول کلیاں غنچے نخل و شجر بھینی بھینی سی خوشبو سے لبریز ہو گئے ۔ تیسری نعت آمنہ بی کے دلارے آگئے سب زمانوں کے وہ پیارے آگئے چھوٹی بحر کی نعت ہے ۔ اس میں اپنے دوسرے نعتیہ مجموعہ کے حوالے سے کہتے ہیں
لے کے ہم ” امید بخشش ” یانبیﷺ!
بے عمل در پر تمہارے آگئے

نعت ڈاکٹر مقصود احمد عاجز ؔ کے لئے بخشش کی ضمانت ہے اور ان کے قلم و قرطاس کی طہارت ہے۔ نعت محض صنفِ سخن ہی نہیں ان کے لئے ایک ورد ہے وظیفہ ہے اور نعت بمنزلہ درود شریف کی اردو شاعری کی شکل ہے۔نبیﷺ کے شہر کی آب و ہوا ان کے لئے مہمیز ثابت ہوئی جو تجلیوں کی انتہا ہے۔وہ اس ایک گلشنِ رنگین فضا میں رہنا چاہتے ہیں جہاںحضورﷺ کی مدحت کے پھول کھلتے ہیں۔انہیں ضیائے شمس و قمر سے بھی کوئی غرض نہیں وہ صرف اور صرف رُخِ والضحیٰ میں رہنا چاہتے ہیں ۔وہ ہر لمحہ رب کے حبیب کی مدح و ثنا میں رہنا چاہتے ہیں۔وہ خود کو یومِ حشر کی تپش سے بچانے کے لئے حضورﷺ کی زلفِ دوتا کے سایہ میں رہنا چاہتے ہیں۔وہ بوقتِ نزع بھی لبوں پر حرفِ ثنا ہونے کے تمنائی ہیں اسی لئے وہ تمام عمر نعت و مدحت کی التجا میں رہنا چاہتے ہیں
وصف لکھتا ہوں شاہِ طیبہ ﷺ کے
بس یہی کاروبار کرتا ہوں
نہیں ایسا عمل کوئی جو ہو زادِ سفر میرا
سرِ محشر متاعِ نعت ہی بس کام آئے گی

ان کے گھر میں مدحت کے پھول کھلتے ہیں جس سے ان کے گھر کی فضا معطر رہتی ہے۔ ان کی مشامِ جان کو نعتِ نبی ﷺ مسحور رکھتی ہے
عاجزؔ جو معطر ہیں فضائیں ترے گھر کی
سرکارﷺ کی مدحت کے یہاں پھول کھلے ہیں

ان کی نعتوں کے عناصرِترکیبی میں حاضری کی تمنا ،امیدِ حضوری، نویدِ حضوری،اذنِ حاضری، آرزوئے مدینہ،حاضری کی طلب، بوقتِ نزع ثنا کا لب پہ ہونا اور آلِ رسول ﷺ سے عقیدت شامل ہیں
مدینہ کی حاضری ان کی دعائوں کا ثمر بھی ہے حاصل بھی ۔ وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ سے شہرِ نبیﷺ کی حاضری مانگتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔
اپنے در پر مجھے بلالینا رنج و آلام سے بچا لینا
کون عاجز ؔ کا جز ترے آقاﷺ اس نکمے کو بھی نبھا لینا
جب تمام قافلے مدینہ کی طرف چل پڑے ہوں اور شاعر جیسے بے نوا پیچھے رہ جائیں تو کیا حالت ہوتی ہے اس کا بیان تڑپتے ہو ئے دل سے بیان کرتے ہیں۔
سب قافلے سرکارﷺ مدینے کو چلے ہیں
ہم بے سروسامان بھی راہوںمیں پڑے ہیں
کچھ پاس زرِ حسن و عمل اپنے نہیں ہے
نادم ہیں گنہگار ہیں چپ چا پ کھڑے ہیں
وہ انتہائی معصومیت اور سادگی سے حضورﷺ کو بتاتے ہیں کہ قافلے والے چھوڑ کے جا رہے ہیں لہٰذہ آپ ﷺ ہی خود اسے بلالیں
یانبیﷺ! چشمِ کرم میں بھی مدینے پہنچوں
قافلے والے مجھے چھوڑے چلے جاتے ہیں
ایک اور مقام پر تو ان کی فریاد بہت بے تاب اور مضطرب ہو جاتی ہے اور وہ کہہ اٹھتے ہیں
مجھ سے عاصی کو بھی طیبہ میں بلایا جائے
میری بخشش کا بھی سامان بنایا جائے
اتنی پُرزور فریادوں کے بعد انہیں اس قدر امید ِ حضوری ہے کہ انہیں ضرور دیدارِ مدینہ حاصل ہوگا
مری قسمت مجھے بھی روضہ &ء انور دکھائے گی
جبینِ شوق مچلے گی تمنا مسکرائے گی
جسے دستِ شہِ کونین ﷺ نے عاجزؔ سنبھالا ہو
اسے گردش زمانے کی بھلا کیسے گرائے گی
جب انہیں حضوری کی نوید مل جاتی ہے تو وہ خود اکیلے ہی اس نعمتِ عظمیٰ سے استفادہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنے ساتھیوںکو بھی اپنے ساتھ ملالیتے ہیں اور دیگر زائروں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ آئیں سارے ہی مل کران جلووں سے خود کو مستنیر کرتے ہیں
زائرو آئو چلیں گنبدِ خضریٰ دیکھیں
مسجدِشاہ کا پُرنور وہ جلویٰ دیکھیں
جس کی قسمت پہ کرے رشک زمانہ عاجز ؔ
ہم بھی وہ رشکِ شہاں سائلِ طیبہ دیکھیں
ان کو اپنی انہی التجا ئوں اور دعائوں سے امیدِ کرم ہے کہ حضورﷺ خود ہی خزانہ & ء غیب سے حاضری کے وسائل بہم فراہم کردیں گے۔ اور انہیں زادِ سفر میسر ہو جائے گا اور کسی کو بھی خبر نہ ہوگی ہر عاشقِ صادق کی یہی تمنا ہو تی ہے کہ حضورﷺ ان کی آبرو رکھ لیں ۔ اور آپﷺ ہر عاجز و مسکین کی عزت و آبرو کے محافظ ہیں
پھر اذنِ حاضری ہو میں پہنچوں سلام کو
زادِ سفر کہاں سے ملا کچھ خبر نہ ہو
اب آپﷺ ہی کے ہاتھ ہے عاجزؔ کی آبرو
نادم کسی کے سامنے یہ عمر بھر نہ ہو
مدینہ ان کی نعتوں کا مستند حوالہ ہے جس نعت میں مدینے کا ذکرِ لطیف آجاتا ہے اس کی تاثیر اور لطف ہی دوبالا ہوجاتا ہے عشاق کے دل مدینہ کا لفظ سنتے ہی دھڑک اٹھتے ہیں۔مدینہ کے لفظ سے ان کی سانسیں تیز ہو جاتی ہیں ۔ جناب عاجزؔ کی نعتوں میں مدینہ بطور ردیف بھی آیا ہے اور بطور قافیہ بھی
مرے دل میں ہے آرزوئے مدینہ
رہے ہر نفس جستجوئے مدینہ
ملے خاکِ پا انﷺ کی مجھ کو بھی عاجزؔ
رواں ہوں اسی دھن میں سوئے مدینہ
جب حاضری ہو گئی امیدیں بر آئیں دعائیں پوری ہو گئیں تمنائیں رنگ لے آئیں تو شاعر مدینہ پہنچ کر عجب سرشاریوں میں مست ہو گیا اور وہ کہنے لگا
غمِ بے کسی مٹانے ترے در پہ آگیا ہوں
میں قرارِ قلب پانے ترے در پہ آگیا ہوں
یہ اس کے لئے تجلیوں کی حدِ انتہا ہے اور حضورﷺ کے در کی حاضری اس کے لئے اس کی زندگی کا حاصل ہے
تجلیوں کی حدِ انتہا میں رہنا ہے
نبیﷺ کے شہر کی آب و ہوا میں رہنا ہے
وہ ایسے موقع پر بھی لبوں پر نعتِ نبیﷺ سجا کے جارہے ہیں۔ نعت کو کسی لمحہ پر وہ نہیں بھولتے دعا مانگتے ہوئے حاضری دیتے ہوئے
کرم کیا ہے یہ مصطفیٰ ﷺ نے مجھے مدینے میں پھر بلا کے
میں انﷺ کے روضے پہ جارہاہوں لبوں پہ نعتِ نبیﷺ سجاکے
حتیٰ کہ وقتِ آخر بھی وہ نعتیں سن کر ہی اس دنیا سے جانا چاہتے ہیں ان کی آرزو یہی ہے کہ وہ نعتیں سنتے سنتے ہی وقتِ آخرت بھی گزار جائیں۔ان کے جنازے پر بھی نعت پڑھی جائے لحد میں نکیرین کے سولون کے جواب میں بھی وہ انہیں نعت سنا دیں گے قبر کے اندھیروں میں روشنی کے لئے بھی نعتِ نبیﷺ اور یادِ محمد ﷺ کام آئے گی ۔ وہ کتنے خوش بخت اور خوش عقیدہ نعت گو شاعر ہیں جو ان حسین خیالوں کا اظہار کر رہے ہیں ۔
بوقتِ نزع بھی عاجز ؔ کے ہولبوں پہ ثنا
تمام عمر اسی التجا میں رہنا ہے
آخری وقت جو آئے تو مری میت کو
نعتِ سرکارﷺ کی رم جھم میں اٹھایا جائے
پڑھیں گے جب جنازے پر ثنا خواں نعت آقاﷺ کی
مری میت اسے سن کر یقیناََ جھوم جائے گی
عجب ہی ماجرا ہوگا فرشتوں کے سوالوں پر
لحد میں جب زباں نعتِ نبیﷺ ان کو سنائے گی
قبر کی ظلمتیں مٹانے کو
شمعِ یادِ نبیﷺ جلالینا
آلِ نبیؑ اور حبِ اہلِ بیت ان کی نعتوں کا خاص حوالہ ہے وہ اپنے اشعار میں محبتِ آلِ رسولؑ کو ساتھ ساتھ رکھتے ہیں
میں ہوں عاجز ؔ غلامِ آلِ نبیؑ
شکرِ پروردگار کرتا ہوں
وہ للکار کر اور پکار پکار کر اس نسبت کا اظہار کرتے ہیں جو انہیں توانا رکھتی ہے
مجھے ڈرائو نہ دشمنوتم مجھے ہے آلِ نبیؑ سے نسبت
اسے گرائو گے کیا بھلا تم جسے اٹھایا ہے مصطفیٰ ﷺ نے
ہو بیاں کیسے کمالِ مصطفیٰ ﷺ
جلوہ گر ہر سو جمالِ مصطفیٰ ﷺ
دو ہی ہیں وجہ نجاتِ آخرت
ایک قرآں ایک آلِ مصطفیٰ ﷺ
ان کی نعت میں سہلِ ممتنع بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مضمون آفرینی بھی ہے ترکیب سازی بھی ہے تلازمہ کاری بھی ۔ان کی نعت عصری شعور سے بھی مالا مال ہے اور مترنم بحروں سے بھی فیض یاب۔ انہوں نے چھوٹی بڑی تمام بحریں استعمال کی ہیں۔ سوز و گداز اور کیف سے بھرپور نعتوں میں شیفتگی بھی ہے شگفتگی بھی اور اس کے ساتھ ساتھ نغمگی بھی۔ ان کی نعتوں میں خلوص ہے وہ نعت پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں ۔ سنتِ رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے وہ نعت کہہ رہے ہیں اور ایک باشرع مسلمان ہیں ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم اور عمل میں اضافہ عطا فرمائے ۔اللہ تعالیٰ ان کے زورِ بیاں میں اور اضافہ کرے اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

پروفیسر ریاض احمد قادری
شعبہ انگریزی گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں