”میوہ، سیوا، جان لیوا اور بیوہ“ ……………. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

ایک صاحب کی زوجہ محترمہ میوہ جات کھانے کی بہت شوقین تھیں۔تھوڑی دیر، اگراُن کو کوئی میوہ نظر نہ آتا تو بہت زیادہ پریشان ہوجاتی تھیں۔ شوہر بھلے کئی کئی دن دکھائی نہ دیتے، اُن کو قطعاً کسی طرح کامسئلہ نہ ہوتاتھا۔ شاید ان دنوں شوہر کو بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتاتھا۔ تقدیرکے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ چھٹی کا دن تھا۔ میاں صاحب سکون سے بیٹھے اخبارپڑھ رہے تھے۔ خاتون تشریف لائیں اور نہایت غصے سے پوچھنے لگیں ”میوے کہاں ہیں“۔ شوہر کہنے لگا ”تو ہی میرامیوہ ہے، میرے من کی مندری کا تھیوا ہے، میر ا دین دھرم تیری سیوا ہے، اک مدت سے یہی میرا شیوہ ہے، تو پھر بھی مگر جان لیواہے“۔ آخری سے پہلے تمام کلمات انہوں نے باآواز بلند گاتے ہوئے کہے۔ آخری جملہ اتنی آہستگی سے کہا کہ انہیں خود بھی بے مشکل سنائی دیاہوگا۔اعمال کا پورا پورابدلہ آخرت میں دیاجائے گا۔ دنیا میں اکثرلوگ آپ کے افعال بھول جاتے ہیں۔ مگر چنداقوال یاد رکھتے ہیں۔ ہمارے علامہ اقبال نے بالکل بجاکہاتھا ”کہ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے“ وہ صاحب اقبالیات سے آگاہ تھے۔ اپنے مستقبل سے مگر انجان تھے۔ خاتون خانہ کی سماعت کی صلاحیتیں اُن سے پوشیدہ تھیں۔ اس جملے کے بعد اُن کا شیوہ تو وہی رہا مگر اُن کے مسائل کی راہ میں اُن کی وسائل حائل نہ ہوسکے۔ ایک ہی جملہ اُن کی جملہ خوبیوں کونگل گیا۔ اُن کیلئے جان لیوا ثابت ہوا۔خاتون نے صاحب کاآخری جملہ سنا یا نہیں اس بارے میں راوی توکیاپانچ دریاؤں کی سرزمین کا ہر ذی نفس خاموش ہے۔ خاتون نے اپنی اعلیٰ ظرفی ہمیشہ برقراررکھی۔ ابھی تک انہی کی بیوہ کے طورپرجانی جاتی ہیں اور بعض حلقوں میں تو پہچانی بھی جاتی ہیں۔

ایک خاتون افسر ایک دن علاقے کا مختصر دورہ کرکے مقدمات کی سماعت کیلئے اپنے دفتر آئیں توعملے کوپریشانی کاطویل دورہ پڑا ہواتھا۔ وجہ پوچھنے پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے بتایا ”ایک خاتون کی اپیل عدالت میں زیرکارروائی ہے۔ ابھی صرف چند دن ہی ہوئے ہیں۔ سائلہ احتجاج کررہی ہیں۔ بار بار خودسوزی کی دھمکیاں دے رہی ہیں“۔ افسرصاحبہ نہایت رحم دل تھیں۔ سائلہ کو بلایا۔ مسئلہ پوچھا۔ خاتون کہنے لگی ”میں بیوہ عورت ہوں۔ آپ کی عدالت میں انتقال کی اپیل چل رہی ہے“۔ اتنا سننا تھا کہ ہماری افسر صاحبہ آبدیدہ ہوگئیں۔ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگیں ”میری کیا بساط کہ میں آپ کے معاملے کا کوئی فیصلہ کرسکوں۔ آپ کے حق میں تو قدرت نے فیصلہ کردیا ہے۔انتقال کے فیصلے تو اوپر ہی ہوتے اچھے لگتے ہیں۔ عزت کے ساتھ بیوہ ہونا قدرت کاانعام ہے۔ میرے سر پر شفقت کاہاتھ رکھیں۔ دعا کیجئے۔ میری بہت ساری فرینڈزبھی آپ کے منصب کیلئے ترس رہی ہیں۔ کئی جگہ منتیں مرادیں مانگ چکی ہیں۔ تقدیر کے مگر اپنے ہی فیصلے ہیں۔ عزت کے ساتھ ریٹائرہونا اور عزت کے ساتھ بیوہ ہونا ہرکسی کوکہاں نصیب ہوتا ہے“۔ افسر عالیہ کے مسائل دیکھ کر سائلہ اپنی تکلیف بھول گئیں۔آفیسر صاحبہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔ گلے لگایا۔ دلی مراد پوری ہونے کی دعا دی۔مدعی کو انصاف ملا یا نہیں ملا، مصنف گلے ضرورملا۔ گلےِ دورہوگئے۔ احتجاج ختم ہوگیا۔ دعا کا رشتہ قائم ہوگیا۔ سکون کادور دورہ ہوگیا۔
ایک خاتون اپنے علاقے میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ لوگ اُن کی کرامات کے قائل تھے۔ اردگرد کے علاقوں کی جملہ خواتین اُن کے حلقہِ ارادت میں شامل تھیں۔ لوگ اُن کی شخصیت کے بارے میں بڑے متجسس تھے۔ اُن کا ماضی پردے میں تھا۔ ایک صاحب طویل مدت سے اُن کی کرامات کا راز جاننا چاہتے تھے۔ بڑی کاوشوں کے بعد عقدہ وا ہوا۔ پتہ چلا کہ خاتون کی پہلی شادی کم عمری میں ہوئی۔ پختہ عمرتک پہنچتے پہنچتے اُن کے پے درپے کئی نکاح ہوچکے تھے۔ کوئی بھی شوہرتین ماہ سے زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکا۔ آخری شو ہر کووفات پائے ابھی چند دن ہی گزرے تھے۔ خواتین اُن کوپہنچی ہوئی ہستی سمجھتی تھیں۔اُن کے در پرحاضری دیتی تھیں۔ اپنے لیئے دعا کرواتی تھیں۔اُن کی زندگی کوآئیڈیل سمجھتی تھیں۔

ایک خاتون بہت دھیمی طبیعت کی مالک تھیں۔والدین کی مرضی سے شادی کی۔ سسرال کامزاج عجیب تھا۔ شوہر بھی ہم مزاج نہ تھے۔ ہرطرح کی اذیت سے دوچار رہیں۔ خدا کاکرنا ایساہواکہ کچھ عرصہ بعد بیوہ ہوگئیں۔ ہر ماہ ایک دفعہ شوہر کی قبر پر ضرور جاتی تھیں۔ دیر تک روتی رہتی تھیں۔ایک ہی جملہ دہراتی رہتی تھیں ”آنسو تمہیں واپس نہیں لاسکتے، اسی لیئے روتی ہوں“۔
ایک خاتون جوانی میں بیوہ ہوگئیں۔ بہت خوبصورت تھیں۔ نہایت مال داربھی تھیں۔ بہت سے لوگ اُن کے مرحوم شوہر کی جگہ لینے کیلئے بے تاب رہتے تھے۔ خاتون مگر دوسری شادی نہیں کرناچاہتی تھیں۔ کافی لوگ کافی عرصہ کوشش کرتے رہے بالآخر ہمت ہار گئے۔ایک صاحب مگر نہایت ڈھیٹ ثابت ہوئے۔ گاہے بگاہے خاتون کو ضرور کہتے ”آپ کے شوہر کی جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا۔ پھر بھی میرے بارے میں کچھ تو سوچیں“۔ خاتون نے پوری کوشش کی مگر اُن صاحب کے جذبہِ جنون نے ہمت نہ ہاری۔ ایک دن خاتون نے صاحب کامسئلہ حل کرتے ہوئے صاحب کوبتایا ”میں نے آپ کے بارے میں بہت سوچا ہے۔ گورکن سے بھی بات کی ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں میرے شوہر کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ قریب ہی مگر ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ وہ میں نے آپ کیلئے مخصوص کروا دی ہے۔ اُمید ہے اب آپ کی تسلی ہوگئی ہوگی۔“

ایک محترمہ بیوہ خواتین کی فلاح کاایک ادارہ کافی عرصہ سے چلا رہی تھیں۔ بہت سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنا بالکل پسند نہیں کرتی تھیں۔ ادارہ میں مستقل رہائش رکھنے والی خواتین کیلئے ہوسٹل بھی تھا۔ ذاتی رہائش وہیں پر تھی۔ ایک خاتون کافی عرصہ سے ہوسٹل میں مقیم تھیں۔ دونوں کی دوستی ہوگئی۔ ایک دن اپنی دوست کے اصرار پر صرف ایک بات کہی ”سب سے دکھی بیوہ وہ ہوتی ہے جس کا شوہر زندہ ہومگر وہ پھر بھی بیوہ ہو۔ شوہر زندہ بھی رہے اوربیوی کوکسی دوسری عورت کی خاطر مسلسل بیوہ بھی رکھے“۔

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں