ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم ، پٹوار کلچر کا خاتمہ ! ……… تحریر، شفقت اللہ مشتاق

ہمارے ہاں اڈہاک ازم کی بدولت سرکاری اداروں کا ارتقائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے. اس کی وجوہات جو بھی ہوں اس بحث میں پڑنےکی اس لئے ضرورت نہیں کیونکہ ہرموضوع پر بحث کرکے ہم نے دیکھ لیا ہے. بلکہ لڑ جھگڑ کر بھی دیکھ لیا ہے بلکہ میری عمر یا مجھ سے بڑی عمر کے لوگوں نے تو بہت ہی کجھ دیکھ لیا ہے اور نئی نسل بڑے ہی غور سے دیکھ رہی ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اگر انہوں نے یہ سارا کچھ محسوس کر لیا تو یا تووہ بھی ہم جیسے ہو جائینگے یا پھر وہ چپ ہو جائینگے میری مراد ہے کہ وہ ڈیپریشن کا شکار ہو جائینگے بہر حال مزکورہ دونوں صورتیں انتہائی خطرناک ہیں .ہم میں سے کسی نے تو سوچنا ہے اور ماڈل بننا ہے. بات چونکہ اداروں کی ہو رہی تھی. یہ ایک بیانیہ ہے کہ اگر ادارے کا سربراہ ٹھیک ہو تو ادارہ جھٹ میں ٹھیک ہوسکتا ہے. ہاں البتہ شرط یہ ہے کہ سربراہ کو کام کرنے کا موقعہ مل جائے یہ نہ ہو کہ ساری قوتیں مل کر اس کے پیچھے پڑ جائیں اور اس کو اپنی پڑ جائے. مثل مشہور ہے کہ جب اپنی اپنی پڑجاتی ہے تو دھی ماں کو لوٹ کے لے جاتی ہے ویسے بھی بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی. کاش درد دل رکھنے والے لوگ تقریروں اور تحریروں سے بیدار ہوجائیں لیکن اس سارے کام کو کرنے کے لئے بیدار مغز لوگوں کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے بس نازک صورتحال کے پیش نظر ایسے لوگ علیحدہ ہو گئے ہیں یا پھر علیحدہ کر دیئے گئے ہیں تاکہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ نہ پکڑ لے کاش سارے خربوزے والے نہ ہوتے بہر حال ہر نظام کی اپنی ضروریات اور مسئلے مسائل ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں اتنے زیادہ مسئلے ہیں کہ خدا کی پناہ. مایوس ہونا گناہ ہے اور گناہوں پر پردہ بھی ایک خاص حد تک ہی ڈالا جا سکتا ہے ورنہ آوے کا آوا بگڑنے کا خطرہ ہوتا ہےاور خطرہ مول لینا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا. خطرات سے نبرد آزما ہوکر ہی انسان امر ہوتا ہے اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیئے کہ ہر چیز امر ربی کے تابع ہے اور اللہ پاک اپنےخاص بندوں کو آزماتا ہے. آزمائش میں حوصلہ ہارنا عظیم لوگوں کا کام نہیں. وقتی اور جزوی لش پش کی کوئی حیثیئت نہیں ہوتی. بےشمار سلطانوں کے بدن آج کرمک و مور کے جبڑوں میں ہیں اور اللہ پاک کی آزمائش پر پورا اترنے والوں کی قبور ہر دور میں مرجع خلائق رہی ہیں.

حوصلے اور ہمت سے بڑے بڑے کام کئے جا سکتے ہیں.کاش آج بھی سرکاری اداروں کے سربراہان وقت کی نزاکت کو محسوس کریں اور پھر ہمت کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ ادارے ملکی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا نہ کرسکیں. مجھے بورڈ آف ریونیو پنجاب کو دیکھتے دیکھتے تقریبا ۲۷ سال ہو گئے ہیں اس سارے عرصے میں میں نے کئی اتار چڑھآو دیکھے. میں نے دیکھا کہ کس طرح سیاسی بھرتیوں نے اس محکمہ کی کارکردگی کو متاثر کیا پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ مزکورہ بھرتیاں کرنے والوں کو خود ہی اپنے کئے پر کچھ نہ کچھ محسوس ہوا اور انہوں نے اس محکمہ کو ایک نئے انداز سے مفلوج کر کے ایل آر ایم آئی ایس سنٹرز کا افتتاح کر کے خوب تالیاں بجوائیں. تالیاں بجانے والوں کو بعد میں اس وقت معلوم ہوا جب کسی کی کھیوٹ بلاک ہوگئی اور کسی کی زمین ہی غائب ہوگئی. ریونیو عدالت ہائے کا نظام دیکھتے ہی دیکھتے اتنا ناکارہ ہوگیا کہ ریڈر انصاف اپنی مرضی سے بانٹنے لگے اور پھر افسروں, وکیلوں اور مقتدر ہستیوں کے گٹھ جوڑ نے سٹیٹ لینڈ کی ایسی منڈی لگائی جس میں ہر شے کوڑیوں کے حساب سے بکنے لگی. مالیہ اور دیگر ٹیکس ہائے نمبرداروں کے کھاتوں میں شو کرکے رجسٹر خوب کالے کئے گئے. ریکارڈ بوریوں میں بند کر کے اول تو کلرکوں نے ردی میں بیچ دیا یا پھر اپنی ذاتی جائیدادوں میں خاطر خواہ اضافے کرنے کے لئے ویسے ہی بیچ دیا گیا. پٹوار کلچرپر اتنی سیاست کی گئی کہ پٹواریوں نے اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھنا شروع کردیا. اس ساری صورتحال پر اعلی افسران سرسری جائزہ لے کر پہلے اپنی تعیناتیاں کرواتے اور پھر پکی کرتے. یقیننا بات پکی ہوجائے تو پھر عملی طور پر بات ختم ہوجاتی ہے. اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ محکمہ مال اپنی ساری خوبیوں کے ساتھ مکمل طور پر ختم ہوچکا تھا.جیساکہ میں نے مذکورہ سطور میں بیان کیاہے کہ اگر ادارے کا سربراہ چاہے تو ادارہ کبھی بھی ڈوب نہیں سکتا. موجودہ دور میں جونہی اس ادارے کی عنان محترم بابر حیات تارڑ کے حوالے کی گئی تو اس محکمہ کی قسمت نے ایک دفعہ دوبارہ انگڑائی لی. بڑی مدت بعد یہ معجزہ ہوا کہ پٹواری سو فیصد میرٹ پر بھرتی کئے گئے. تحصیلدار کی بے شمار خالی آسامیاں پر کرنے کے لئےپنجاب پبلک سروس کمیشن کو متحرک کیا گیا. ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے ای سٹیمپنگ کا نظام متعارف کروایاگیا . زرعی انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کو باقاعدہ اور کرپشن فری کرنے کے لئے سسٹم میں سٹرکچریل چینجز کر دی گئی ہیں تاکہ سرکار کے خزانے کو سن لگانے والے ہاتھ توڑے جا سکیں.ریونیو کورٹس میں ای کاز لسٹ کا سسٹم وضع کرکے اور ریونیو افسران کے عدالتی امور کو آئی ٹی کے تابع کرکے روایتی نظام کو نئی زندگی دے کر انصاف کو یقینی بنانے کی زبردست کوشش کی گئی ہے. ہر مہینے کے ابتدائی دو دنوں کو کھلی کچہری کے لئے مخصوص کرکے عوام اور سرکار کا درمیانی فاصلہ ختم کردیا گیا ہے. ہر افسر ان دنوں میں پابند ہے کہ وہ لوگوں میں بیٹھے گا اور موقعہ پر ہی ان کے مسئلے حل کرے گا اور ہر ریونیو افسر اپنے بنیادی کام کو فوقیت دے گا حالانکہ اس سے پہلے محکمہ مال کے افسر سب کام کرتے تھے سوائے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے اور ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے پٹواری پوری طرح برسر پیکار ہوتےتھے اور پھر پوری طرح محفوظ بھی ہوتے تھے. اب ہر افسر کو پوری طرح ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے. کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو وسعت دینے کے لئے قانونگوئی لیول پر خدمت مرکز مال جگہ جگہ کھول کر لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کر دی گئی ہیں اور ریکارڈ مینیجمنٹ کے عمل کو فراڈ کے امکان سے محفوظ کیا گیا ہے. سٹیٹ لینڈ کو قبضہ گروپوں کے جبڑوں سے بچانے کے لئے قانون سازی کا عمل جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سٹیٹ لینڈ واگزار کروائی جارہی ہے.

دیہاتی علاقوں میں نظم ونسق کو بہتر کرنے کے لئے نمبرداری اور چوکیدارہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی جارہی ہیں. ہمارے معاشرہ میں جرائم کے بڑھنے کی اہم وجہ زمینوں کی ملکیت اور قبضے کے مسائل ہیں اور اس مسئلہ کے تدارک کے لئے ڈیجیٹا ئزڈ گرداوری کا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر روزنامچہ کی تکمیل کر کے دستاویزی امور کو محفوظ کرنے کے عمل کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے.بڑھتی ہوئی آبادی اور لینڈ سے متصل بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر پٹوار سرکلز اور ریونیو سرکلز کو بڑھانے کی حکمت عملی پر غور و فکر ہورہا ہے اس طرح کے دیگر بے شمار اقدامات زیر عمل ہیں تاکہ محکمہ مال کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالی جاسکے اور یوں عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کیا جا سکے. ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے جزا اور سزا کے عمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے. علاوہ ازیں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڑ کی قیادت میں افسران کی ایک تجربہ کار اور انتہائی ایماندار محنتی ٹیم کام کررہی ہے. مزکورہ ساری اصلا حات موجودہ حکومت کے دور میں کی گئی ہیں. سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے لئے بابر حیات تارڑ کی تعیناتی وزیر اعلی پنجاب کی قائدانہ صلاحیتوں کی آئینہ دار ہے.مذکورہ اصلاحات کا عملدرآمد بھی ان کی خصوصی سرپرستی کے بغیر ممکن نہ تھا اس لحاظ سے سردار عثمان احمد بزدار خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں.بابر حیات تارڑ آج کی ساری سول سروس کے لئے بھی رول ماڈل ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں