عددی جیت اخلاقی شکست! ……………….. اورنگزیب اعوان

گزشتہ روز حکومت نے انتہائی عجلت میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تینتیس بل پاس کروائے. شاید حکومت اس اجلاس کو اپنی مدت کا آخری اجلاس سمجھ رہی تھی. ان بل کو پاس کروانے کے لیے حکومت نے اپنی عددی اکثریت کو ثابت کرنے کے لیے جس طرح سے ارکان پارلیمنٹ کو دھونس دھاندلی سے ایوان میں بلایا . یہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے. کل حکومت عددی طور پر تو کامیاب ہو گئی. مگر اخلاقی طور پر مکمل شکست سے دوچار ہوئی ہے. وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل دعوی کیا تھا. کہ وہ اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ کی مد میں ایک پیسہ نہیں دے گے. کیونکہ ان کے نظر میں اس فعل کو سیاسی رشوت تصور کیا جاتا تھا. آج محض اپنے من پسند قوانین کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے کے لیے ہر ارکان اسمبلی کو ایک ایک ارب روپیہ بطور ترقیاتی فنڈ کے طور پر جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا. اسی طرح سے اپنے حکومتی اتحادیوں کو ماننے کے لیے ان کے ناجائز مطالبات کو بھی تسلیم کیا گیا. کچھ کا تو اعلان کر دیا گیا. کچھ کو پوشیدہ رکھا گیا ہیں. ایم کیو ایم پاکستان نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے عوض اپنے ووٹ حکومت کے پلڑے میں ڈالے. کیا ایم کیو ایم پاکستان اس ایک مطالبہ کی تکمیل پر اکتفادہ کرے گی. ہرگز نہیں. وہ اس گرتی ہوئی حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنے مزید مطالبات بھی تسلیم کروائے گی . جن میں ان کے دفاتر کی بحالی سرفہرست ہے. اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایم کیو ایم پاکستان کو کراچی میں سیاسی سرگرمیوں کی کھل کر اجازت دیتی ہے. تو آیندہ الیکشن میں کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی. کیونکہ کراچی شہر میں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے. اور وہ سب ایم کیو ایم پاکستان کے ووٹر ہیں.

اسی طرح سے مسلم لیگ ق و دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر حکومت وقت کو مشترکہ اجلاس میں اپنے ووٹ ڈالے ہیں. حکومت وقت نے تو اپنی عددی اکثریت کے لیے غیر آئینی حربے استعال کیے ہی ہیں. مگر اراکین پارلیمنٹ نے تو اپنے رویوں سے اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال دیا ہے. سرفراز بگٹی جو کہ نواب اکبر بگٹی کا پوتا ہے. اس نے محض اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بلوچ روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے. اپنے دادا کے قاتلوں کے ہاتھوں پر بیعت کی ہوئی ہیں. اس حکومت کو لانے والے ہی نواب اکبر بگٹی کے قاتل تھے. آج سرفراز بگٹی انہیں کی بنائی ہوئی حکومت میں مشیر بنا ہوا ہے. اور ان کی آواز پر لبیک کہتے نہیں تھکتا. اسی طرح سے پنجاب کا ایک وضع دار سیاسی خاندان جس کا سیاست اور مہمان نوازی میں کوئی ثانی نہیں. وہ بھی اپنے چند ذاتی مفادات کی خاطر اس حکومت سے اس طرح چمٹا ہوا ہے. کہ اگر وہ اس سے الگ ہوا تو اس کی سیاسی موت واقع ہو جائے گی. سینٹر دلاور خان کے پاس بھی چھ ووٹ تھے. جن کو وہ اپوزیشن کو دینے کا کہہ کر اپنی قیمت میں اضافہ کروا رہا تھا. حکومت نے جب ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے اور ترقیاتی فنڈ دینے کی یقین دہانی کروائی. تو اس نے عین موقع پر اپنے تمام ووٹ حکومت وقت کی جھولی میں ڈال دیئے. یہ ہمارے قومی نمائندوں کا اخلاقی معیار ہے. یہ محض ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو قربان کر دیتے ہیں. کچھ ارکان اسمبلی نے کھل کر کہا ہے. کہ انہیں وہ طاقتیں لیکر آئی ہیں. جو ہمیشہ ارکان کو لاتی ہیں. حکومت وقت ان بلز کو پاس کروانے کو اپنی کامیابی سے تشہبی دے رہی ہے. اصل میں اس سارے سیاسی کھیل کا مقصد طاقت ور شخصیت کی جانب سے اعلی منصب تک پہچنے کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا. ای وی ایم کے ذریعہ سے انتخاب کروا کر پھر سے اس حکومت کو منتخب کروانا مقصود ہے. تاکہ عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہو کر اس شخصیت کو آرمی چیف کے عہدے پر تعینات کرے. اسی لیے اس شخصیت نے اپنا موجودہ عہدہ چھوڑنے سے قبل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد کروایا. اور اس میں اپنے من پسند قوانین کو زور زبردستی سے منظور کروا کر محض اس حکومت کو مضبوط کیا ہے. اصل میں انہوں نے اپنے ترقی کے لیے راستہ بنایا ہے. اسی شخصیت نے الیکشن 2018 سے قبل منتخب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو سیاست کے میدان سے نااہل کروایا تھا. جس راز سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھ رہا ہے. اور سازش کے مہرے ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہے ہیں. پہلے جسٹس شوکت صدیقی، پھر جج ارشد ملک کا بیان اور اب رانا شیم چیف جج گکت بلتستان کا بیان حلفی ان مقتدر حلقوں کی سازش کا پردہ چاک کر رہا ہے. جہنوں نے الیکشن 2018 سے قبل کمال مہارت سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو سیاست سے نکال باہر کیا تھا.

وہ شاید بھول بیٹھے تھے. کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے. وہ جب انصاف کرنے پر آتا ہے. تو سچ کو عیاں کرنے کے اسباب بھی پیدا کر دیتا ہے. گزشتہ روز اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں مریم نواز شریف اور کیپٹن (ر) صفدر اعوان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے. اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے نیب پراسیکیوٹر کو آڑے ہاتھوں لیا. نیب پراسیکیوٹر کو عدالت عالیہ کے معزز ججز کے سامنے جواب دینا مشکل ہو رہا تھا. کیونکہ یہ تمام کیسز سنی سنائی کہانیوں پر مبنی ہیں. ان میں کوئی سچائی نہیں. کل تک جو نیب کہہ رہا تھا . کہ اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے. درخواست گزار جان بوجھ کر اس کیس کو التوا میں ڈال رہے ہیں. گزشتہ روز خود سماعت سے راہ فرار تلاش کر رہا تھا. اب اس نے معزز ججز کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا تفصیلی جواب دینے کے لیے 24 نومبر تک کی تاریخ لی ہے. عدالت عالیہ نے بار ثبوت نیب پر عائد کیا ہے. اب نیب کو ایون فیلڈ اپاٹمنٹس کو میاں محمد نواز شریف کی ملکیت ثابت کرنا ہے. اور محترمہ مریم نواز شریف کو اس جائیداد کی ویلوشری ثابت کرنا بھی نیب کی صوابدید ہے. نیب تو پچھلے تین سال سے اس کیس پر داد وصول کر رہا تھا. کہ اس نے میاں محمد نواز شریف کی کرپشن پکڑ لی ہے. اب غوروفکر کے لیے وقت مانگ رہا ہے. جتنی مرضی محنت سےجھوٹی کہانی بنا لی جائے. مگر سچ سچ ہوتا ہے. جو ایک نہ ایک دن عیاں ہو کر رہتا ہے. انشاءاللہ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف ان جھوٹے کیسوں سے باعزت بری ہو گے. جیسے جیسے اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف کی بربریت کی درخواستوں پر سماعت ہو گی. ویسے ویسے عمران خان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا. کیونکہ سب جھوٹ عوام کے سامنے عیاں ہو جائے گا. وزیراعظم عمران خان شاید تاریج سے ناواقف ہیں. عدری اکثریت کے بل بوتے پر تو انہیں اسمبلیوں سے 1956 اور 1962 کے دستور بھی منظور کروا لیے گئے تھے. مگر کیا وہ چل پائے. ہرگز نہیں. ان کے مقابلہ میں 1973 کا دستور اب تک قائم دائم ہے. کیونکہ اس کو تمام اراکین اسمبلی نے مشترکہ طور پر منظور کیا تھا. قانون وہی دیر پا ہوتا ہے. جو افہام و تفہیم سے بنایا جائے. جس پر پورا ایوان اعتماد کا اظہار کرے. زور زبردستی کے قوانین وقتی ہوتے ہیں. جو اپنی موت آپ مر جاتے ہیں. وزیراعظم عمران خان اور ان کے آقاؤں نے جس قدر اس اسمبلی کے تقدس کو پامال کیا ہے. اس کی نظیر نہیں ملتی. گزشتہ روز کی ڈرامہ بازی سے حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی تھی. اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا آپ کے انتخابی منشور میں شامل تھا. تو پاکستان کی عوام کو روزگار دینا اور سستے نرخوں پر اشیاء ضروریہ کی فراہمی بھی آپ کے انتخابی منشور میں شامل تھا. اس پر تو کچھ نہیں ہوا. صرف دوبارہ اینی حکومت کے قیام کے لیے دھاندلی زدہ الیکشن کی راہ ہموار کی گئی ہے. آپ کے ارشادات میں سے ایک یہ بھی تھا. کہ اگر مجھے عوام کہے گی. کہ اقتدار چھوڑ دو. تو میں ایک منٹ نہیں لگاؤ گا. کل اپوزیشن ارکان نے جیسے آپ کے منہ پر آپ کی تذلیل کی ہے. اگر آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی. تو فوری مستعفی ہو جاتے. مگر نہیں آپ تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں. مثالی حکومت عددی برتری کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اخلاقیات کے سہارے چلا کرتی ہے .

مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں پر گروں.
جس طرح سایہ دیوار پہ دیوار گرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں