حکومت کے پاس کونسی گیڈر سنگھی ہے؟ ……………… عمران امین کے قلم سے

کہتے ہیں کہ ایک فقیہہ کی لڑکی انتہائی بد صورت تھی اور باوجود جہیز اور دولت کے کوئی بھی اُس سے شادی کے لیے تیار نہ ہوتا ۔اس پر مجبوراً فقیہہ نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک اندھے سے کر دیا۔دونوں ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔کچھ عرصے بعد ایک دوسرے ملک سے ایک طبیب اُن کے شہر آگیا۔اُس طبیب کے پاس اندھوں کو ٹھیک کرنے کا نسخہ بھی تھا۔اس حقیقت کا جب لوگوں کو پتا چلا تو چند ایک نے فقیہہ سے کہا کہ وہ اپنے داماد کا علاج کیوں نہیں کرواتے؟۔اس پر فقیہہ نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر اُس کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں تو کہیں وہ میری بیٹی کو نہ چھوڑ دے۔اس حکایت سے ثابت ہوا کہ بد صورت بیوی کے لیے اندھا خاوند ہی بہتر ہوتا ہے۔آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا یعنی اپوزیشن ہار گئی۔دو دن پہلے تک کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرنے والی اپوزیشن یکدم ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔حکمران اتحادی جو چند دن پہلے تک ناراض تھے اور حکومتی بوجھ کومزید اُٹھانے سے انکاری تھے ایک دن پہلے راضی ہو گئے، سب گلے شکوے دور کر دئیے گئے۔ایسا چمتکار دنیا کے کسی دوسرے ملک میں شاید ہی ہوتا ہو جس طرح کا ہمارے ملک میں اکثر ہوتا رہتا ہے۔سینٹ کے ارکان کے الیکشن ہو یا چیئرمین سینٹ کا لیکشن ایسے معجزے اکثرنظر آتے ہیں اور خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اتنی کثرت سے ایسا صرف پی ٹی آئی کے دورحکومت میں ہی ہو رہا ہے۔خدائی کمک اور پھر بروقت کمک نے ہمیشہ پی ٹی آئی کی ڈوبتی کشتی کو بچایا ہے اور حاسدین کو زمین چاٹنے پر مجبور کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 30 سے زائد بل منظور ہوئے جن میں نمایاں انتخابی ترمیمی بل،عالمی عدالت انصاف نظر ثانی بل،سٹیٹ بینک ترمیمی بل،نیشنل کالج آف آرٹس بل،انسداد ریپ بل،مسلم عائلی قوانین میں ترمیمی بل،رفاہی اداروں کی رجسٹریشن کا بل،فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کا تجدیدی بل،یونیورسٹی آف اسلام آباد بل،اکادمی ادبیات بل،پورٹ قاسم اتھارٹی بل،گوادر پورٹ اتھارٹی بل،کووڈ 19بل اور اس طرح کے دیگر بل منظور ہوئے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کُل 430رکان نے حصہ لیا۔جن میں سے حکومتی ارکان 226 اور اپوزیشن کے 204ارکان اجلاس میں شامل تھے۔اجلاس سے پہلے خوب شور تھا کہ حکومتی ارکان بٹ گئے ہیں جبکہ اتحادی بھی ناراض ہیں مگر حکومت نے اپنی کامیابی سے افواہ ساز فیکٹریوں کو بند کر دیا۔اپوزیشن نے اس دن کو پارلیمان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو شیطانی مشین کہا ہے۔اپوزیشن اعتراض کر رہی ہے کہ حکومت نے دھونس اور دھاندلی سے ترامیم منظور کرائی ہیں اور غلط طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے اہم ایشوز والے بلوں پر اپوزیشن سے مشاورت بھی نہیں کی ۔ان اہم بلوں میں ای وی ایم ووٹنگ اور اُوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے بل شامل ہیں۔

ای وی ایم ووٹنگ پر اپوزیشن اکیلی نہیں تھی بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اس طریقہ کار پرکافی اعتراضات تھے پچھلے چند ہفتوں میںاس معاملے پر اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے ساتھ حکومتی رویہ ناقابل فہم اور توہین آمیز رہا ہے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میںاپوزیشن نے جب معاملات کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور منظور شدہ بلوں کو پارلیمنٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دیا۔اپوزیشن کا یہ حق ہے کہ وہ ان بلوں کو چیلنج کر سکتی ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ اپوزیشن کے ان اعتراضات کو حکومتی سپیکر رد کر دے گا اوریوں اپوزیشن کو مزید ہزیمت اٹھانی پڑے گی۔ اپوزیشن کے چند ارکان کہہ رہے ہیں کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور وہاں سے انصاف حاصل کریں گے۔ اب اگر اپوزیشن عدالت جاتی ہے تو لازمی طور پر الیکشن کمیشن کو بھی پارٹی بنائے گی اور عدالت کو کہے گی کہ الیکشن کمیشن کو بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات ہیں مگر یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کسی بھی منظور شدہ قانون میں ترمیم کا اور اعتراض کاحق نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی منظور شدہ قانون کو رد کر سکتا ہے۔الیکشن کمیشن کو پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون پر ہر صورت عمل کرنا لازم ہے اور یوں اُس کے ماضی میں کیے گئے اعتراضات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ مزید برآں عدالت پہلے سے ہی یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ کی کاروائی کو عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا اور یوں شنید ہے کہ اپوزیشن کو اس معرکے میں بھی ناکامی کا سامناکرنا پڑے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں